پولیٹیکل انجینئرنگ کے ادارے نیب کا احتساب کب ہوگا؟


اپوزیشن کی جانب سے حکومت کی پولیٹیکل انجینئرنگ کا ٹول قرار دیا جانے والے قومی احتساب بیورو میں اپوزیشن کے سیاستدانوں پر قائم کردہ درجنوں مقدمات برسوں سے زیر التوا ہیں جن پر نا تو اب تک ریفرنس فائل ہو سکا اور اگر ہوا ہے تو فرد جرم عائد ہونا ابھی باقی ہے۔ آیئے سنتے ہیں چند ایسے ہی نیب مقدمات کی کہانیاں۔
2018 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں احتساب کے عمل کو تیز، شفاف اور مؤثر بنانے کے اپنے انتخابی وعدوں کا ایک مرتبہ پھراعادہ کیا۔ جبکہ قومی احتساب بیورو کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بھی اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد ملک میں احتساب کے عمل کو تیز بنانے سمیت ماضی میں سست روی کا شکار ہو جانے والے مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کی یقین دہانی کروائی۔
نیب کی جانب سے گذشتہ دو برسوں کے دوران درجنوں برسوں پرانے مقدمات پردوبارہ سے کارروائی کا آغاز اس وعدے کے ساتھ کیا گیا کہ ان کیسز کو بہت جلد ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا تاہم ان سب وعدوں، اعلانات اور یقین دہانیوں کے باوجود بہت سے اپوزیشن رہنماوں کے خلاف نیب میں گذشتہ کئی برسوں سے چلنے والے بیشتر مقدمات میں اب تک ریفرنس ہی دائر نہیں ہوئے اور یہ اب بھی تحقیق کی سطح پر ہی ہیں۔ اور اگر ریفرنس دائر ہو بھی چکا تو فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی۔ اسی طرح بہت سے مقدمات میں ملزمان دیگر عدالتوں سے ضمانت پر ہیں اور ان کے کیسز میں کارروائی سست روی کا شکار ہو چکی ہے۔
10 اگست کے روز اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق صدر آصف زرداری سمیت 10 شریک ملزمان پر پارک لین ریفرنس میں فرد جرم تو عائد کر دی تاہم تمام ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔ اگرچہ اس مقدمے کی گونج دسمبر 2018 میں اُس وقت سننے میں آئی جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور آصف زرداری کو راولپنڈی نیب نے اسلام آباد کے نواحی علاقے سنگجانی میں قیمتی اراضی کو سستے داموں خریدنے کی الزام میں بلایا تھا۔ تاہم یہ یاد رہے کہ پارک لین ریفرنس بھی کوئی ایک، دو نہیں بلکہ برسوں پرانا کیس ہے۔ اس سے قبل 1997 میں بھی آصف زرداری پر اس وقت کے احتساب بیورو نے اسلام آباد کی نواحی علاقے سنگجانی میں 2460 کنال کی قیمتی اراضی کو سستے داموں خریدنے کے الزام میں دائر کیا تھا۔ تاہم ناکافی شواہد اور عدم ثبوتوں کے باعث اس مقدمہ کو بند کر دیا گیا۔ اس وقت احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمان تھے۔
اس کیس میں جولائی 2020 میں ہونے والی سماعت کے دوران سابق صدر کے وکیل فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ نیب نے قرض میں فراڈ کا کیس بنایا لیکن قرض دینے والوں کو ملزم ہی نہیں بنایا۔ صرف ان کے موکل آصف زرداری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ وہ پارک لین کمپنی سے پہلے ہی مستعفی ہو چکے تھے۔ پارک لین سٹیٹ کمپنی آصف زرداری، بلاول بھٹو اور دیگر افراد کی مشترکہ ملکیت ہے اور سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ریکارڈ کہ مطابق اس کمپنی کے ایک لاکھ 20 ہزار شیئرز ہیں جن میں سے بلاول بھٹو اور آصف زرداری 30، 30 ہزار شیئرز کے مالک ہیں۔ نیب کی طرف سے دائر کیے گئے ریفرنس میں آصف زرداری کو پارک لین کمپنی کے ڈائریکٹر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
2008 کے آخر میں جب اسلام آباد عدالت کی جانب سے اس زمین کا انتقال فیصل سخی بٹ کے نام کیا جانا تھا تب فیصل بٹ کے وکیل کی جانب سے استدعا کی گئی ہے اس زمین کا انتقال پارک لین سٹیٹ پرائیویٹ کے نام پر کیا جائے۔ تب پہلی مرتبہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی ملکیتی پارک لین اسٹیٹ کا نام منظر عام پر آیا۔ اور جنوری 2009 میں اس زمین کی ملکیت پارک لین اسٹیٹ کے نام کر دی گئی۔ اس کیس میں آصف زرداری کی گزشتہ برس گرفتاری ڈالی گئی جبکہ دسمبر 2019 کو ان کو اس کیس میں ضمانت ملی تھی۔ زرداری پر اس کیس میں سستی اراضی خریدنے کے ساتھ ساتھ پروتھینون نامی ایک کمپنی قائم کر کے قرضے کی رقم میں غبن کا الزام بھی ہے۔ تاہم ماضی میں سیف الرحمان کا احتساب بیورو اس کیس میں کچھ بھی ثابت کرنے میں ناکام رہا تھا۔
اسی طرح سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی اور سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت کے خلاف بھی نیب گذشتہ 20 برس سے ایک کیس میں تفتیش کر رہا ہے اور اب تک نہ اس کیس میں کوئی ریفرنس دائر کیا جا سکا ہے نہ ہی نیب کچھ ثابت کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ نیب ریکارڈ کے مطابق چار جنوری 2000 میں نیب نے اُس وقت کے وفاقی وزیر چوہدری شجاعت اور ان کے بھائی چوہدری پرویز الہی کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ایک مقدمہ قائم کیا تھا۔ نیب کے دعوے کے مطابق اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے چوہدری برادران نے قومی خزانے کو تقریباً 2.42 ارب کا نقصان پہنچایا۔ چوہدری برادران کے خلاف یہ کیس بھی سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں بنایا گیا تھا۔ اس کیس میں چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہی پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے غیر قانونی طریقوں سے ملک اور بیرون ملک آمدن سے زائد اثاثے بنائے ہیں۔ نیب ریکارڈ کے مطابق اس کیس کی کارروائی میں 2000 سے 2002 کے آخر تک تیزی دیکھنے میں آئی جبکہ اس کے بعد مسلم لیگ ق کے قیام اور مشرف حکومت میں شامل ہونے کی بعد اس کیس میں کارروائی کو سست روی کا سامنا رہا۔ چوہدری بردران کے خلاف اس کیس کی گونج تقریباً 18 برس بعد دوبارہ 2018 میں سنی گئی جب نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے عہدے کا چارج سنبھالا۔ آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں نیب کا موقف ہے کہ چوہدری برادران کے اثاثے سنہ 1985 سے لے کر اب تک کئی گنا تک بڑھ چکے ہیں۔ اس کیس میں نیب کی جانب سے اب تک کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا ہے تاہم اب تک اس حوالے سے متعدد انکوائریاں کی گئی ہیں۔ نیب کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ گذشتہ ادوار میں اس کیس میں مختلف وجوہات کی بنا پر سست روی کا مظاہرہ کیا گیا۔
نیب اہلکار کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ کیس کو بند فائلوں میں رکھ دیا گیا تاہم اس معاملے میں کارروائی میں تاخیر اور سستی ضرور ہوئی ہے۔‘ چوہدری برادران کی جانب سے اس کیس کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا ہے جس میں انھوں نے اس مقدمے کی دوبارہ تحقیقات کرنے پر نیب چیئرمین کی اتھارٹی کو چیلنج کرتے ہوئے نیب پر ’پولیٹیکل انجینیئرنگ‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ نیب گذشتہ 19 برس سے زائد عرصے میں ان کے خلاف ایک ثبوت بھی پیش نہیں کر سکی اور نیب کا ادارہ ایک نامعلوم شکایت کنندہ کی درخواست پر گذشتہ 20 برس سے ان کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔
اسی طرح سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے خلاف بھی ایک مقدمہ گذشتہ 20 برس سے نیب کی زیر تفتیش ہے اور آج تک اس کیس میں بھی ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکا۔ یہ مقدمہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 1998 میں رائیونڈ سے اپنی رہائش گاہ جاتی امرا تک سڑک کی مبینہ غیر قانونی تعمیر کروانے کا ہے جس سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر تقریباً 126 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب ریکارڈ کے مطابق یہ مقدمہ اپریل 2000 میں قائم ہوا تھا تاہم تقریباً 20 برس گزرنے بعد اب تک اس میں ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکا۔ جبکہ 2018 سے اب تک متعدد بار نواز شریف کو اس مقدمہ میں احتساب عدالت طلب کیا جا چکا ہے۔ نیب کے مطابق نواز شریف نے 1998 میں بطور وزیراعظم اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جاتی امرا تک سڑک تعمیر کروائی اور ان کے حکم پر سڑک کی چوڑائی 20 فٹ سے 24 فٹ کی گئی جس سے لاگت میں مزید اضافہ ہوا۔ نیب کا کہنا ہے کہ 17 اپریل 2000 کی تفتیش کے مطابق منصوبے پر 12 کروڑ 56 لاکھ روپے سے زائد کرپشن سامنے آئی جب کہ سنہ 2016 تک یہ انکوائری التوا کا شکار رہی اور سنہ 2016 کے بعد چیئرمین نیب نے براہ راست کیس کی تحقیقات کا حکم دیا۔ نیب کے مطابق سڑک کی تعمیر کے لیے ضلع کونسل کے کئی منصوبے بند کرائے گئے اور ایک سکول اور ڈسپنسری کا بجٹ بھی سڑک کی تعمیر پر خرچ کیا گیا۔ واضح رہے یہ مقدمہ بھی سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بنایا گیا تھا۔ اس مقدمے کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے اراکین اسے سیاسی بنیادوں پر قائم کرنے اور نواز لیگ کی قیادت کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔
نیب کی جانب سے یہ مقدمات التوا کا شکار کیوں ہیں اس بارے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہےکہ نیب کا قانون ہمیشہ سے متنازع رہا ہے اور اس کو بلاشبہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لہٰذا جب بھی کوئی حکومت اپنے مخالفین کو دبانا چاہتی ہے تو وہ نیب کے ذریعے ان پرانے کیسوں کو کھول لیتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button