پٹرولیم مصنوعات پرحکومت کی51 روپے فی لیٹرٹیکس وصولی

حکومت کی طرف سے عوام سے پیٹرولیم مصنوعات کی فی لیٹر قیمت پر51 روپے ٹیکس وصول کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے. پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول پر 30 روپے پیٹرولیم لیوی اور 14 روپے 55 پیسے جی ایس ٹی وصول کیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 44 پیسے کسٹم ڈیوٹی بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ حکومت ایک لیٹر ڈیزل پر 51 روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے، ڈیزل پر30 روپے پیٹرولیم لیوی وصول کی جارہی ہے جب کہ ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے 74 پیسے جی ایس ٹی اور 6 روپے 20 پیسے کسٹم ڈیوٹی شامل ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل سمیت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک 27 سے 66 فیصد یعنی 25 روپے 58 پیسے تک کا اضافہ کردیا ہے. اس حکومتی اقدام نے کئی افراد کو حیرت میں ڈال دیا کیوںکہ یہ شیڈول سے ہٹ کر تھا اور معمول کے مطابق آئل سیکٹر ریگولیٹر کی جانب سے کوئی سمری بھجوانے کی وجہ سے نہیں ہوا۔
زیادہ تر تجزیہ کاروں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ یہ اقدام فراہمی کے سلسلے میں حالیہ تعطل کو دور کو کرنے کے لیے اٹھایا گیا جو ملک کے کئی حصوں میں سنگین فقدان کا سبب بنا اور اس کی سب سے بڑی وجہ حکومت اور صنعت کے درمیان قیمتوں کا تنازع تھا۔اس ضمن میں اوگرا کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق قیمتوں کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے معمول کے مطابق سمری بھجوانے کا انتظار کیے بغیر 4 روز قبل ہی بڑھا دیا گیا تا کہ بین الاقوامی قیمتوں کے اثرات فوری طور پر عوام کو پہنچا سکے اور نظرِ ثانی شدہ قیمتیں 31 جولائی تک نافذ العمل رہیں گی۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ حکام کو خدشہ تھا کہ قیمتوں میں معمولی سے اضافے کی توقع میں اگر پیٹرول کی خریداری میں ذرا سا بھی اضافہ ہوا تو ملک میں پیٹرول پمپ خشک ہوجائیں گے کیوںکہ سپلائی چین پہلے ہی بہت معمولی فائدے پر کام کررہی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافے کی توقع میں کمپنیوں اور ریٹیلیرز نے پہلے ہی ملک کے کچھ علاقوں میں فروخت کو کم کردیا تھا تا کہ ’ذخیرے سے فائدہ‘ اٹھایا جاسکے۔تاہم تیل کی صنعت کے سینئر ذرائع کا کہنا تھا ک یہ شاید حکومت کے لیے بہتر طور پر کام نہ کرے، پڑوسی ممالک کو پیٹرول کی غیر قانونی اسمگلنگ آئندہ ایک سے 2 ہفتوں کے لیے رک جائے گی۔شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ان کا کہا تھا کہ ہمارے ہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں افغانستان اور بھارت سے کم تھیں جس کے نتیجے میں کچھ مصنوعات ان ممالک کو اسمگل کی جارہی تھیں۔
قیمتوں میں اس اضافے کا اعلان وزارت خزانہ نے پاکستان اسٹیٹ آئل کی جانب سے بتائی گئی درآمدی قیمت کی بنیاد پر پیٹرولیم ڈویژن اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد کیا۔
موجودہ ٹیکس ریٹ کی بنیار اور پی ایس او کی درآمدی لاگت کی بنیاد پرپیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 45 روپے ہے جو زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے جبکہ ڈیزل کی ایکس ریفائنری لاگت 43 روپے فی لیٹر ہے جو زیادہ تر بھاری ٹرانسپورٹ اور زرعی مشینری مثلاً ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلوں اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے۔حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کا موجودہ اسٹاک 8 روز تک ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے جبکہ سندھ میں پیٹرول کا 23 روز جبکہ ڈیزل کا 13 روز کا اسٹاک موجود ہے۔
یوں حکومت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 47 روپے فی لیٹر تک ٹیکس وصول کررہی ہے کیوں کہ دونوں پر پیٹرولیم لیوی زیادہ سے زیادہ 30 روپے فی لیٹر کی سطح تک لیوی عائد کردی گئی ہے۔ خزانہ ڈویژن سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 25 روپے 58 پیسے کا اضافہ کر کے اس کی نئی قیمت 100 روپے 10 پیسے مقرر کی گئی ہے.
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 21 روپے 31 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے اور اس کی نئی قیمت 101 روپے 46 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 23 روپے 50 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 17 روپے 84 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا جارہا ہے۔اس اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 59 روپے 6 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی 55 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے اور ان نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
نوٹی فکیشن میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے نجی آئل کمپنیوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ آئل کمپنیوں کے دباؤ پر کیا گیاہے۔عالمی مارکیٹ میں م خام تیل کی قیمت39 ڈالر فی بیرل رہی۔حکومت نے چونتیس سے 36 ڈالر فی بیرل تیل خریدا۔جون میں چونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں گر گئی تھی اس لیے او ایم سیز نے ان نرخوں پر پٹرول فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے دستیابی کا مسئلہ آ گیا تھا اور لوگ بہت پریشان تھے۔حکومت نے قیمتی بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ پیٹرول کی دستیابی کا مسئلہ حل ہو سکے۔عمومی طور پر اوگرا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تخمینہ لگاتی ہے مگر اس بار پٹرولیم اور خزانہ ڈویژنوں کے حکام نے اوگرا کا کردار نظر انداز کر کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا اعلان کر دیا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button