پٹرولیم پر 2 ہفتوں کی مزید سبسڈی سے 40 ارب کا بوجھ پڑے گا

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مزید 2 ہفتوں تک سبسڈی برقرار رکھنے سے قومی خزانے پر مزید 40 ارب کا بوجھ پڑے گا۔
ایک رپورٹ میں حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آئل کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے قیمت کے فرق کے دعوئوں (پی ڈی سیز) اور آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے تیل کی قیمتوں میں مئی کے اگلے 15 روز میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
وزارت خزانہ کا گزشتہ روزکہنا تھا کہ وزیر اعظم نے شہریوں پر بوجھ بڑھنے سے بچنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ جائزے میں وزیر اعظم نے اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز کو مسترد کردیا ہے،جس کے نتیجےمیں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 149 روپے 86 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 144 روپے 15 پیسے، مٹی کا تیل 125 روپے 56 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 118 روپے 31 پیسے رہے گی۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کے نتیجے میں پی ڈی سی میں مزید 40 ارب روپے شامل ہو گئے ہیں جو حکومت کی جانب سے تیل کمپنیوں کو ادا کیے جائیں گے، ان دعووں کا بڑا حصہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کو جائے گا جو کہ سرکاری ملکیت ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار کےمطابق پی ڈی سی کی تخمینہ رقم اپریل کے لیے 76 ارب روپے اور مارچ کے لیے 31 ارب 30 کروڑ روپے تھی، انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے رواں ماہ کے دوران تیل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہ کی تو مئی کے لیے سبسڈی کا کُل اثر تقریباً 90 ارب روپے ہوگا، ایندھن کی سبسڈی کو برقرار رکھنے سے نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ پڑے گا بلکہ آئل کمپنیوں کے مالی معاملات پر بھی اثر پڑے گا، خاص طور پر پی ایس او پر کیونکہ حکومت کی جانب سے پی ڈی سی کی ریلیز میں ہمیشہ تاخیر ہوتی ہے، مارچ سے پی ڈی سی کے مجموعی اثرات کا تخمینہ 2 کھرب روپے لگایا گیا تھا جبکہ حکومت نے اب تک آئل کمپنیوں، خاص طور پر قومی اور بین الاقوامی نجی فرمز کو قیمتوں میں فرق کے دعوئوں کے طور پر 71 ارب 30 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔
دوسری طرف اگر حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے موجودہ قیمتوں میں فرق کے دعوئوں کو ختم کر دیتی ہے تو ڈیزل کی قیمت 216.48 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت 180.17 روپے فی لیٹر ہو سکتی ہے، تاہم اس سے مجموعی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ ڈیزل بڑے پیمانے پر نقل و حمل اور زراعت کے شعبوں میں تجارتی ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے، یہاں تک کہ ملک بھر میں بجلی کی بندش کے سبب بڑے جنریٹر چلائے جاتے ہیں، لہٰذا ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو ہوا دے گا۔
خیال رہے کہ مہنگا ڈیزل گندم کی فصل کو بھی مہنگا کر دے گا کیونکہ ایندھن پر چلنے والے ٹریکٹر تھریشر چلاتے ہیں اور پیدا ہونے والی فصل کو فروخت کے لیے اپنی منزلوں تک پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح پیٹرول کی بلند قیمتوں کا شہروں میں رہنے والوں پر زیادہ اثر پڑے گا، خاص طور پر ایسی صورتحال میں کہ جب اس کا متبادل یعنی سی این جی ملک میں دستیاب نہیں ہے۔

Back to top button