پٹرول بم نے عوام کو مہنگائی کی آگ میں جھونک دیا

گزشتہ تین برسوں کے دوران تبدیلی سرکار کی جانب سے عوام پر نت نئے ٹیکس لگا کر ملک چلانے کی منفی روش کی وجہ سے مہنگائی قابو سے باہر ہوگئی ہے اور لوگوں کا جینا محال ہو گیا یے۔ تاہم مہنگائی کے مارے عوام زندہ رہنے کی جدوجہد میں اتنے مصروف ہیں کہ وہ بھی صرف دل ہی دل میں عمران خان کو کوس رہے ہیں اور سڑکوں پر آنے کے لئے تیار نہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بھی اس معاملے میں موئث انداز میں عوامی نمائندگی سے قاصر ہیں۔
عید الاضحیٰ سے قبل کپتان حکومت نے نہ صرف عوام پر پیٹرول بم گرا دیا ہے بلکہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے ذریعے آٹے، گھی اور چینی کی قیمتوں میں 53 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے غریب عوام کی پہنچ سے روٹی تو پہلے ہی دور کر دی تھی لیکن اب پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھا کر ان کا چولہا بھی بند کردیا ہے۔ کپتان سرکار کی جانب سے مالی سال کا بجٹ پیش کئے جانے کے بعد صرف ایک ماہ کے دوران اب تک تین قسطوں میں پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 9.53 روپے فی لٹر اضافہ ہوچکا ہے۔
اسی دوران 16 جولائی کو وزارت صنعت و پیداوار کی سفارش پر اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی آؤٹ لیٹس پر گھی کی قیمت میں 53 فیصد کا اضافہ کردیا جس کے بعد اس کی قیمت 170 روپے سے بڑھ کر 260 روپے فی کلو ہو گئی۔ علاوہ ازیں گندم کے آٹے کی قیمت میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد 20 کلو آٹے کی بوری 800 روپے سے مہنگی ہو کر 950 روپے کی ہوگئی ہے۔ اسی طرح چینی کی موجودہ قیمت 68 روپے سے بڑھا کر 85 روپے کردی گئی جس میں 25 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بعد مہنگائی کا طوفان ناگزیر تھا تاہم یوٹیلیٹی سٹورز پر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کرکے حکومت نے عام آدمی کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ دوسری جانب وزیراعظم کے بڑبولے مشیر شہباز گل کہتے ہیں کہ اوگرا کی سفارشات کے برعکس عوامی مفاد میں پٹرول کی قیمت میں محض 5 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ تاہم وہ بھول گے کہ ماضی میں جب پیٹرولیم کی قیمتوں میں صرف ایک روپے کا اضافہ ہوتا تھا تو پی ٹی آئی والے اپنے گریبان چاک کر کے بڑے بڑے پلے کارڈ اٹھائے ڈی چوک میں نکل آتے اور احتجاج کرنا شروع کر دیتے تھے۔ حتٰی کہ ایک مرتبہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر مہنگائی کے خلاف ایک لمبی تقریر کی اور کہا کہ حکومت اب بھی 20 روپے اپنی جیب میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا تھا کہ جب ہماری حکومت آئے گی تو ہم عوام کو 45 روپے لیٹر پیٹرول دیں گے۔
تاہم اسکے برعکس نئے مالی سال کا بجٹ پیش کئے جانے کے بعد صرف ایک ماہ کے دوران اب تک تین قسطوں میں پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 9.53 روپے فی لٹر اضافہ ہوچکا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت 65 والا پٹرول 118 میں عوام کو دے تو کوئی بات نہیں، لیخن اگر یہی کام کسی دوسری حکومت نے کیا ہوتا اور عمران اپوزیشن میں ہوتے تو آج ڈی چوک پر دھماچوکڑی مچائی ہوتی۔
دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عید سے پہلے ہی مہنگائی کا ایک نیا طوفان تو آ چکا ہے لیکن عوام بھی دل ہی دل میں حکومت کو کوسنے کے بعد چپ چاپ مہنگی اشیا خریدنے پر مجبور ہیں اور سڑکوں پر آنے کو تیار نہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرانی کا طوفان، غربت میں اضافہ کے باعث اشیاء خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں۔ پچھلے تین سال سے مہنگائی کا جو طوفان برپا ہے معاشی بہتری کے تمام ترحکومتی دعوؤں کے باوجود اس کی شدت میں کمی کے بجائے مزید اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ گندم، آٹا، چینی، تیل، گھی، دالیں، سبزیاں اورگ وشت سمیت روزہ مردہ زندگی کی 43 اشیاء کی قیمتوں میں 289% فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ سبزیاں اور دالیں کم آمدنی والے طبقات تو درکنار متوسط گھرانوں کی پہنچ سے بھی دور ہوگئی ہیں۔ قیمتوں پر کنٹرول کی اب تک کی جانے والی تمام ترحکومتی کوششیں قطعی غیر موثر ہیں جس کے سبب عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ حالات میں عوام سے سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ ہے عمران خان کا نیا پاکستان؟
