پٹرول بم، حکومت4 آئل کمپنیوں کو 300 ارب کا فائدہ پہنچایا

ملک میں حالیہ پیٹرول بحران کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر معاشی تجزیہ کار فرخ سلیم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سارے عمل میں حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ بحران کی وجہ سے جن 4 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر حال ہی میں ایک کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا تھا، اب اُنہی کو 300 ارب روپے کا فائدہ پہنچادیا گیا ہے۔
حکومت نے پیٹرول بم گرا کر 4 آئل کمپنیوں کو 300 ارب کا فائدہ پہنچایا، سینئر معاشی تجزیہ کار فرخ سلیم نے انکشاف کیا ہے کہ پہلے پیٹرول کی قیمت 74روپے 52پیسے فی لیٹر تھی اور اس میں 41 روپے ٹیکس تھا جبکہ 9روپے 70پیسے خرچہ اور تیل کی بیس قیمت تقریباً 24 روپے تھی اور اب قیمت 100روپے فی لیٹر کردی گئی ہے جس میں سے 44روپے 55پیسے ٹیکس، 9روپے 70پیسے خرچہ اور بیس قیمت 45روپے 86پیسے ہے۔فرخ سلیم نے مزید بتایا ہے کہ اگر دونوں قیمتوں کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کو اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا ہے اور تیل کی قیمت میں اضافے سے ٹیکس میں کوئی اضافی پیسے نہیں آنے والے ہیں، حکومت کو پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے کوئی خاص فائدہ نہ ہوا ہے۔
معاشی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے تاہم فائدہ شیل، ٹوٹل، ہیسکول اور اٹک پیٹرولیم آئل کمپینوں کو پہنچا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بحران کی وجہ سے جن چار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر حکومت نے گیارہ جون کو ایک کروڑ روپے جرمانہ کیا تھا، اب انہی کمپنیوں کو 300 ارب روپے کا فائدہ پہنچادیا گیا ہے
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری منظور کرلی جس کے بعد وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا گیا ہے۔اس اضافے کے بعد حکومت عوام اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کو قرار دیا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کا کہناہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بھی برصغیر میں پاکستان میں تیل کی قیمتیں سب سے کم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button