پٹھان کو باتھ روم سے جوڑنے پر فواد چوہدری تنقید کی زد میں

پشتون قوم کو باتھ روم سے جوڑنے پر فواد چوہدری قومی اسمبلی سے لیکر سوشل میڈیا تک شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ فواد چوہدری یوں تو آئے روز نیوز چینلوں پر اپنی پارٹی کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں مگر اُن کی کچھ باتیں ہمیشہ ہی کسی نہ کسی کو ناراض کر دیتی ہیں۔ پشتون قوم سے متعلق اُن کا ایک قابل اعتراض جملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سابق سربراہ بشیر میمن نے وزیر اعظم ہاؤس میں اعظم خان جیسے ’پٹھان کے ساتھ باتھ روم جانے کا رسک لیا۔‘ لوگوں نے فواد چوہدری کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اُن سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جبکہ بعض نے اے آر وائے کے نیم عمرانڈو اینکر کاشف عباسی کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ اُن کی جانب سے اپنے شو میں اس ’نسل پرستی‘ کی مذمت کی بجائے دانت نکال کر کیوں دکھائے گئے؟خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ بھی اس بیان کی مذمت کرتے ہیں۔
اس حوالے سے بات تب شروع ہوئی جب کاشف عباسی نے فواد چوہدری سے پوچھا کہ کیا آپ نے سابق ڈی جی ایف آئی اے ’بشیر میمن کو باتھ روم میں بند کروا دیا تھا؟‘ اس گفتگو سے قبل پروگرام میں اینکر ندیم ملک کے ساتھ بشیر میمن کا ایک انٹرویو چلایا گیا جس میں وہ بتاتے ہیں کہ ایک موقع پر وزیر اعظم ہاؤس میں عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران انھیں احساس ہوا کہ ’ایک ایسا آدمی جو مریم نواز کے لیے گندی زبان استعمال کرتا ہے، وہ میرا وزیر اعظم ہے۔ اس پر میری آواز بھی بلند ہو گئی لہٰذا مجھے عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے ہاتھ سے پکڑ کر کہا آ جائیں۔ وہ مجھے لے کر اپنے دفتر گئے جہاں لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور میرا غصہ ختم نہیں ہو رہا تھا۔ چنانچہ انہوں نے مجھے اپنے آفس کے باتھ روم میں لے جا کر اس کا دروازہ بند کر دیا اور کہا سر آپ کیا کر رہے ہیں۔‘
اس حوالے سے کاشف عباسی نے اپنے پروگرام میں فواد چوہدری سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ ’کیا اعظم خان نے خود کو اور آپ کو واش روم میں بند کر لیا تھا؟ یعنی آپ کی حکومت لوگوں کو باتھ روم میں بند کر دیا کرتی تھی؟ اس پر فواد چوہدری نے کہا کہ انھوں نے اعظم خان کو یہ کلپ بھیجا ہے اور پیغام دیا کہ ’آپ تو بڑے بدمعاش ہو حالانکہ مجھے تو کبھی نہیں لگا۔‘ فواد چوہدری کے مطابق ’انھوں نے آگے سے جواب دیا کہ دراصل باتھ روم پالیٹکس ہو رہی ہے۔ پھر فواد نے کہا کہ ’میمن صاحب کو 18 دن پہلے زبردستی ریٹائر کر دیا گیاتھا۔ ان کا غصہ نہیں جا رہا۔۔۔ انھیں نوکری سے بے عزت کر کے نکالا تھا، ہماری حکومت نے۔ ان کی کافی وجوہات تھیں۔ ان کے نواز شریف کے ساتھ ذاتی تعلقات تھے۔ ان کاکہنا تھا کہ ’یہ ممکن نہیں ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے کسی مرکزی ملزم کے ساتھ رابطے میں ہو۔‘
اینکر کاشف عباسی نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا کہ کیا ایسا واقعہ ہوا تھا جس میں بشیر میمن کو باتھ روم میں بند کیا گیا تو فواد چوہدری نے مسکراتے ہوئے کہا بشیر میمن نے خود کہا ہے کہ اعظم خان مجھے سمجھانے کے لیے باتھ روم لے گئے تھے۔ لیکن میرے خیال میں پٹھان کے ساتھ باتھ روم جا کر بشیر میمن نے ایک بڑا رسک لیا۔اس موقع پر کاشف عباسی نے مسکراتے ہوئے کہا ’بریک لیتے ہیں ناظرین۔ گل کتھے ہور جا رئی اے۔ بریک کے بعد واپس آتے ہیں۔‘ اس دوران پس منظر میں فواد چوہدری کو ہنستے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
مگر ایسا نہیں کہ بریک کے بعد اس بارے میں مزید بات نہ ہوئی ہو۔ بریک سے واپس آ کر کاشف نے پوچھا کہ ’شاید دونوں اکٹھے باتھ روم میں گئے تھے، کیا آپ یہی کہہ رہے ہیں؟ یعنی بند نہیں کیا گیا صرف گپ لگانے کے لیے گئے تھے۔‘ فواد چوہدری نے کہا کہ ’یہی آپ نے سنایا ہے۔‘ سوشل میڈیا پر اس بارے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں مگر اکثر لوگوں نے اس ’نسل پرستانہ‘ جملے کی مذمت کی ہے۔صحافی اجمل جامی نے یہ ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’واللہ! یہاں بریک ہی بنتی تھی‘ تو اس پر ایک دوسرے صحافی شاہد اسلم نے ان سے سوال کیا کہ ’معذرت کیوں نہیں، مذمت کرنا کیوں نہیں بنتا تھا جامی صاحب؟‘
اینکر عادل شاہزیب کی رائے بھی شاہد اسلم سے ملتی ہے جو کہتے ہیں کہ ’بجائے بریک کے کاشف صاحب کو روک کر کہنا تھا کہ یہ بے ہودہ سٹیریو ٹائپنگ ہے، اجتناب برتیں۔‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’نیشنل ٹی وی پر کسی قومیت کے ساتھ ایسے بھونڈے مذاق رکوانا بطور اینکر ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔‘ عامر ظفر خان نے تبصرہ کیا کہ ’قصور میں چائلڈ پورنوگرافی کے واقعات سامنے آئے۔ تو کیا کوئی پنجابیوں کو بھی اس طرح کی بات کہہ سکتا ہے؟ پھر لوگ پوچھتے ہیں کہ پٹھان ان باتوں کا اتنا بُرا کیوں مناتے ہیں۔ وہ کیا کریں جب اس قدر نسل پرستی اور تعصب موجود ہے۔‘ شیری نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کو کے پی میں پشتونوں کی بھاری حمایت حاصل ہے۔ ’اگر ان کے رہنما اس نسل پرستی پر سوال نہیں اٹھائیں گے تو کیا تمام پنجابیوں کو اس پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟‘ ان کے مطابق ’جو فواد نے کہا میں بطور پنجابی اس کی سخت مذمت کرتی ہوں۔ مگر کیا کے پی میں پی ٹی آئی کے رہنما اس کی مذمت کریں گے؟‘
اینکر سلیم صافی نے کہا کہ ’ایک بڑے چینل پر ایک بڑے اینکر کے ساتھ اس نسل پرستانہ اور پختونوں کی توہین پر مبنی ریمارکس پر پی ٹی آئی میں شامل پختونوں کی خاموشی عجیب ہے۔۔۔‘ وزیرہ نامی صارف نے اس بیان کی مذمت میں کہا کہ ’یہ نسل پرستانہ تبصرہ ہے۔ ایسا بالکل نہیں بولنا چاہیے۔ کیا تاثر دیا جا رہا پٹھان، دہشتگرد ہے، خطرناک ہے؟ یا پھر ریپسٹ؟ فواد چوہدری کو خیال کرنا چاہیے اور پشتون قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ لیک فواد ابھی تک معافی مانگنے سے انکاری ہیں۔
