پھانسی کے منتظر بریگیڈیئر رضوان کی جان بچ جانے کا امکان

دشمن ملک کیلئے جاسوسی کرنے کے الزام میں سزائے موت پانے والے پاکستان آرمی کے بریگیڈئیر راجہ رضوان اور اسکے ایک ساتھی سویلین افسر ڈاکٹر وسیم اکرم کی زندگی بچ جانے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں کیونکہ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے ان کو ملٹری کورٹ کی طرف سے دی گئی موت کی سزا کیخلاف اپیلیں باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کر لی ہیں۔
واضح رہے کہ غداری کے الزام میں بریگیڈیئر رضوان، لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال اور ایک نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے سائنسدان ڈاکٹر وسیم کو 7 جولائی 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ملٹری کورٹ نے بریگیڈیر رضوان اور ڈاکٹر وسیم کو سزائے موت جبکہ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو 14 سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن اب ملٹری کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا کے خلاف انکی اپیلیں سماعت کے لیے منظور یونے کے بعد ملزمان کی زندگی بچ جانے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس چوہدری عبدالعزیز پر مشتمل ڈویژن بینچ نے غداری کیس میں آرمی ایکٹ کے تحت بنائی گئی ملٹری کورٹ سے پھانسی کی سزا پانے والے ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سیکریٹری وزارت دفاع اور جج فیلڈ جنرل کورٹ کو نوٹس جاری کردیے ہیں اور دائر اپیل پر شق وار جواب طلب کر لیا ہے۔ اسکے علاوہ انکی رٹ پٹیشنز کو نمبر لگا کر موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دے دیا گیا یے۔ جسٹس صداقت علی خان نے ہائی کورٹ آفس کی طرف سے پریگیڈئیر رضوان حیدر کی اپیل ناقابل سماعت قرار دینے کا اعتراض بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔ وکیل صفائی کرنل انعام رحیم کے مطابق ہائی کورٹ کے نوٹس جاری ہونے کے بعد سزاؤں پر عمل درآمد بھی معطل ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کو پاکستانی نیوکلیئر پروگرام اور تنصیبات کے بارے میں خفیہ معلومات بیچنے کے جرم میں سزائے موت پانے والا بریگیڈیئر رضوان پچھلے ایک برس سے اپنی رحم کی اپیل پر فیصلے کے انتظار میں زندگی کے دن گن رہا تھا۔ یاد رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 2019 میں بریگیڈیئر رضوان کی سزائے موت کی توثیق کر دی تھی۔ تاہم پھانسی سے بچنے کے لئے بریگیڈئیر رضوان نے آرمی چیف کو رحم کی ایک آخری اپیل کی تھی جس کا فیصلہ ہونا بھی ابھی باقی ہے۔
عسکری ذرائع کے مطابق بریگیڈیئر رضوان کو پاکستان کی نیوکلیئر میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے خفیہ معلومات سی آئی اے اور را کو بیچنے کے الزام میں گرفتار کرکے کورٹ مارشل کیا گیا تھا۔ 31 مئی 2019 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے رضوسن کو جاسوسی اور غیر ملکی ایجنسیوں کو حساس معلومات فراہم کر نے کے الزام میں فوجی عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کی توثیق کی تھی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان افسران کا پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت علیحدہ علیحدہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیا گیا تھا۔ جن افسران کو سزائیں دی گئی ان میں بریگیڈئیر (ر) راجہ رضوان کو سزائے موت، لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو چودہ سال قید با مشقت اور شاہین میزائیل ٹیکنالوجی پراجیکٹ سے وابستہ ایک حساس ادارے کے انڈر کور سول ملازم ڈاکٹر وسیم اکرم کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔
راجہ رضوان اور ڈاکٹر وسیم دونوں اس وقت ساہیوال جیل میں قید ہیں اور ان کی رحم کی اپیل زیر غور ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر وسیم اکرم نیشنل انجینرنگ اینڈ سائنٹیفیک کمیشن سے منسلک تھا جو پاکستان کے نیوکلیئر میزائل بنانے کے عمل سے وابستہ ہے اور جس نے شاہین ٹو اور شاہین تھری بیلسٹک میزائل تیار کیے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وسیم اکرم نے جب اچانک اسلام آباد میں 7کروڑ روپے مالیت کا بنگلہ خریدا اور پھر امریکہ اور میکسیکو کے مسلسل دورے کیے تو نظروں می آ گیا جس کے بعد خفیہ اداروں نے اس کی نگرانی کی۔
نگرانی کے عمل میں پتہ چلا کہ وہ ماضی میں امریکہ قیام کے دوران امریکی سی آئی اے کا جاسوس بن چکا تھا۔ 2018 میں اسلام آباد سے گرفتاری کے بعد وسیم اکرم نے بتایا کہ وہ 2012 سے امریکی خفیہ ایجنسی کو معلومات بیچ رہا تھا اور اس معاملے میں بریگیڈئر راجہ رضوان بھی ان کے ساتھ شامل تھے۔ غداری کے جرم میں موت کی سزا پانے والے بریگیڈئر (ر) راجہ رضوان فوج میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں اور 2014ء میں وہ آرمی سے ریٹائر ہونے کے بعد اسلام آباد میں رہائش پذیر تھے۔ راجہ رضوان آئی ایس آئی سے بھی وابستہ رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں رضوان کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی ان پر نظر رکھے ہوئے تھیں اور ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان پر نظر رکھی گئی، بریگیڈئر (ر) راجہ رضوان 2009ء سے 2012ء کے دوران ملٹری اتاشی کے طور پر اہم یورپی ممالک میں تعینات رہے اور اسی دوران ان کا رابطہ بھارتی خفیہ ایجنسی را سے ہوا اور بعد ازاں وہ ڈاکٹر وسیم اکرم کے ذریعے سی آئی اے سے بھی رابطے میں آگئے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راجہ رضوان نے جرمنی اور آسٹریا میں تعیناتی کے دوران امریکہ اور بھارت کو بھاری رقوم کے عوض ملکی راز فروخت کیے۔ اس بارے میں آئی ایس آئی کو علم ہو گیا تھا اسی وجہ سے راجہ رضوان کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی تھی۔ فوجی ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے راجہ رضوان نے دشمن کو جو راز بیچے اس سے پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
10 اکتوبر 2018ء کو راجہ رضوان جب اپنے ڈرائیور کے ساتھ ایک دوست کو ملنے جا رہے تھے تو جی ٹین مارکیٹ اسلام آباد سے انہیں تحویل میں لے لیا گیا تھا۔ جب کئی روز تک وہ گھر واپس نہ آئے تو ان کے بیٹے علی رضوان نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور درخواست میں موقف اختیار کیا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس تین افراد دس اکتوبر کی رات میرے والد کو اغواء کرکے لے گئے ہیں اور تب سے میرے والد کا موبائل بھی بند جا رہا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس کی سماعت ہوئی اور پندرہ نومبر 2018ء کو عدالت میں وزارت دفاع کے نمائندے نے بتایا کہ راجہ رضوان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے اور ایک فوجی ہونے کی وجہ سے آرمی ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل کا مقدمہ کیا جائے گا۔ راجہ رضوان کو کورٹ مارشل کے بعد غداری کا الزام ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی گئی۔ تاہم پاک فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یکساں احتساب کی پالیسی پر سختی سے عمل ہوگا ۔
یاد رہے کہ گزشتہ2 سالوں میں پاک فوج میں مختلف رینک کے 400 افسران کو سزائیں دی گئیں ور متعدد افسران کو نوکریوں سے فارغ ہونا پڑا. اس سے پہلے بھی کئی فوجی افسران کو کورٹ مارشل کے بعد سخت سزائیں سنائی گئی ہیں لیکن راجہ رضوان وہ پہلے سینئر آرمی آفیسر ہیں جن کو غداری کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔
