پھلوں کے باغات پر رہائشی سکیمیں کیوں بن رہی ہیں؟

پنجاب اور بلوچستان میں پھلوں کے باغات کی دھڑا دھڑ کٹائی اور ان کی جگہ رہائشی سکیمیں بنائے جانے پر شہروں میں رہنے والے ماتم کناں ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کے نتیجے میں کسانوں کو اب زراعت میں دلچسپی نہیں رہی اس لئے وہ اپنی زمینوں کو پرکشش قیمت پر بیچ کر شہروں کا رخ کررہے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کو فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
زرعی ماہرین کے خیال میں پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود سعبہ زراعت نہ یہاں کسی کی ترجیح ہے نہ اس میدان میں کوئی انقلاب آفریں تحقیق ہو رہی ہے۔ جدید تحقیق نہ ہونے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کسانوں کے حالات بہت خراب ہو چکے۔ انکی زمینوں سے آمدن برائے نام ہے۔ چنانچہ جب کہیں کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی ان کے کھیتوں کھلیانوں پر دستک دیتی ہے تو وہ اپنے باغات اچھی قیمت پر بیچنے کے لیے فوری تیار ہوتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ زمینیں بیچ کر انہیں جو دولت ملتی ہے زمینیں سینچ کر اور فصلیں اگا کر ان کی نسلیں اس کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں کر سکتیں۔
حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملتان میں آم کے ایکڑوں پر پھیلے باغات کو کاٹا جا رہا ہے۔ اسی طرح سرگودھا میں کینو کے باغات پر آریاں چل رہی ہیں۔ یہ سلسلہ صرف ملتان تک محدود نہیں۔ بلوچستان کے کان مہتر کا علاقہ جو کبھی سیبوں کے باغات کے لیے مشہور ہوتا تھا، اب ٹمبر کی سب سے بڑی مارکیٹ بن چکا۔ ایکڑوں پر پھیلے سیب کے باغات مالکوں نے بیچ دیے ہیں اور خریدنے والوں نے لاکھوں درخت کاٹ کر پھینک دیے۔
رہائشی سکیموں کی خاطر ہرے بھرے پھلوں کے باغات کی کٹائی کے حوالے سے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر نجی ملکیت کی زرعی زمینیں جو زرعی زون میں نہیں آتیں، وہاں درختوں کی کٹائی، باغات اور زرعی زمنیں ختم کرنے اور کاٹنے پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ واضح رہے کہ جنگلات کے حوالے سے پالیسی میں پھلوں کے باغات شامل نہیں ہیں۔ البتہ جو درخت جنگلات کے ذمرے میں آتے ہیں، وہ کسی بھی وجہ سے کاٹنے کے لیے مالکان پر لازم ہے کہ وہ محکمہ جنگلات سے اجازت حاصل کریں گے۔ مگر باغات کے ذمرے میں آنے والے درخت جو کہ پھل دار ہیں، ان کو کاٹنے کے لیے مالکان کو حکومتی اجازت کی ضرورت نہیں ہے، ماسوائے اس کے اگر وہ کسی حکومتی پالیسی اور معاہدے کے تحت لگائے گئے ہوں۔
ملک بھر میں باغات کی اندھا دھند کٹائی کے تناظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ لوگ اپنے باغات کیوں کاٹ رہے ہیں؟ اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ان باغات کی پیداوار اور آمدنی کم ہے جبکہ لینڈ ڈویلپر زمینوں کو پرکشش قیمت پر خرید کر وہاں رہائشی پراجیکٹس شروع کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اب ہاؤسنگ سوسائٹیاں زرعی زمینوں کو چاٹتی جا رہی ہیں۔ ملتان مینگو گروور ایسوسی ایشن کے صدر طارق خان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند برسوں سے ملتان میں زرعی زمینیں اور باغات ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے فروخت کرنے کے رحجان میں اضافہ ہوا ہے۔ زمیندار خود اپنی خوشی سے مہنگے داموں یہ زمینیں فروخت کررہے ہیں۔طارق خان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ باغات اور زرعی زمین سے زمیندار کی آمدن کا کم ہونا اور حکومت کی جانب سے اس پر کوئی توجہ نہ دینا ہے۔ جب زمیندار کو مارکیٹ سے اچھے پیسے ملتے ہیں تو وہ زمینوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ ملتان شہر میں نشتر کے علاقے میں اپنا باغ فروخت کرنے والے ایک زمیندار کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے باغ فروخت کیا ہے اور بہت اچھے دام لیے ہیں۔ اسکا۔کہنا تھا کہ باغ سے ملنے والے پیسوں سے کوئی کاروبار شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ زراعت سے اب ہم لوگوں کا چولہا نہیں جلتا ہے۔
پھلدار درختوں کی کٹائی پر ہمارا سماج نوحہ کناں تو ہے مگر کہنے والے کہتے ہیں کہ معاشرے کو ان درختوں سے پہلے اپنے تضادات اور اجتماعی منافقت کو رونا چاہیے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں کینو اور آم کے باغات پر بنیں یا لہلہاتی فصلوں پر، وہ زمینیں خرید کر بنائی جاتی ہیں، قبضے کر کے نہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ہمارا کسان اپنی زمینیں کیوں بیچ رہا ہے؟ اگر ہم اس سوال پر غور نہیں کر کر سکتے تو سوشل میڈیا پر فیشن کے طور پر کی گئی آہ و زاری ہماری اجتماعی منافقت کے سوا کچھ نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود کسی بھی حکومت نے ’رورل اکانومی‘ کو ہمیشہ غیر اہم اور نچلے درجے کی چیز سمجھا ہے۔ معاشرے میں ’پینڈو‘ کا لفظ آج بھی دیہاتیوں اور کسانوں کے لیے طعنے اور حقارت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اب جب یہ ’پینڈو لوگ‘ ڈیجیٹلائز ہونے کے لیے زمینیں بیچ رہے ہیں تو ’بابو لوگ‘ سوشل میڈیا پر دہائی دینا شروع ہو گئے ہیں کہ ہائے ہمارے درخت۔ ناقدین کہتے ہیں کہ درختوں کی بجائے ہمیں اپنی منافقت پر رونا چاہیے جس نے کسان کو اس حال تک پہنچایا کہ اب اسکے لیے زراعت اور زمین میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔
یاد رہے کہ کہنے کی حد تک پاکستان اب بھی ایک زرعی ملک ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے 70 فیصد لوگ زراعت سے وابستہ ہیں لیکن اخبارات و جرائد اور ٹی وی شوز اور حتیٰ کہ پارلیمان میں زراعت کے حوالے سے بامعنی گفتگو ہوتی ہی نہیں۔ کسی ٹاک شو میں کسی کسان کو بلا کر نہیں پوچھا جاتا کہ تمہارے مسائل کیا ہیں؟
کسے نہیں معلوم کہ جب کسان کی فصل تیار ہوتی ہے تو قیمت کم کر دی جاتی ہے۔ کسان پر پابندی ہے کہ وہ اپنی جنس کو ذخیرہ نہیں کر سکتا۔ سرکاری نرخ پر جب اسے پابند کر کے اس سے گندم خرید لی جاتی ہے تو گوداموں میں پہنچ کر اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ سرمایہ دار اسے منہ مانگی قیمت پر فروخت کرتے ہیں لیکن کسان کے حصے میں کچھ نہیں آتا۔ وہ ایک بار پھر باردانہ کے حصول کے لیے دھکے کھا رہا ہوتا ہے۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری کوئی زرعی پالیسی نہیں۔ کسان کے لیے کوئی سہولت نہیں۔ ہمسایہ ملک بھارت کی طرح جدید آلات منگوا کر اسے سستے داموں فراہمی کا کہیں کوئی منصوبہ نہیں اور نہ ہی بھارت کی طرح پاکستانی کسان اتنا منظم ہے کہ وہ بھارتی کسانوں کی طرح اپنے حق کو خاطر دلی پہنچ کر لال قلعہ پر حملہ آور ہو جائے۔ چنانچہ ہم زرعی محاذ پر بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور کسانوں کا استحصال ہر سطح پر جاری ہے۔ لہذا حکومت کو ان وجوہات کا پتہ لگانا چاہیے اور ان کا تدارک کرنا چاہیے جو کسان کو مجبور کر دیتی ہیں کہ وہ اپنے کھیت کھلیان اور باغات فروخت کردے۔ زراعت اور اس سے جڑی صنعت کو فروغ دینے کے لیے حکومت کو ایک مربوط زرعی پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہے تا کہ زراعت میں لوگوں کو امکانات نظر آتے رہیں اور وہ زمینیں فروخت کرنے کی بجائے انہیں کاشت کرتے رہیں۔ ورنہ یہاں ہاؤسنگ سوسائٹیاں تو بنتی جائیں گی لیکن کھانے کو کچھ نہیں ہو گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے رہائش اور گھروں کی ضرورت بڑھ رہی ہے مگر اس کے ساتھ خوراک کی بھی ضروریات بھی بڑھ رہی ہیں۔ ہمیں دونوں چیزوں میں توازن قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ زرعی زمینوں اور باغات والے مقامات پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کی اجازت نہ دے۔ رہائشی مقاصد اور نئی سوسائٹیز کے لیے ایسی زمینیں استعمال ہوسکتی ہیں جو زراعت اور باغات کے استعمال کے قابل نہ ہوں یعنی ایسی زمینیں جو بنجر اور ناقابل کاشت ہوں وہاں پر سوسائٹی بن سکتی ہیں تاکہ ہمارے سرسبز علاقوں کو نقصان نہ پہنچ سکے۔
