پیرامیڈکس کورونا وائرس کے پھیلاؤ کاسبب بن رہے ہیں

صوبہ خیبر پختون خوا کی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر زبیر محسود نے انکشاف کیا ہے کہ صوبے کے ہیلتھ ورکرز حفاظتی کٹس کی کمی کی وجہ سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بن رہے ہیں کیوں کہ وہ اسپتالوں میں گھوم رہے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے جس مریض کا معائنہ کیا ہے وہ اس سے متاثر ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال میں خصوصی طور پر شامل صحت ورکرز کو پی پی ای فراہم کرنے کی حکومتی پالیسی ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکس کو انفیکشن کا باعث بنا رہی ہے جو بغیر علامات کے ساتھ مریضوں کے رابطے میں آئے تھے۔ ڈاکٹر زبیر محسود کا کہنا تھا کہ وبائی امراض کی وجہ سے بڑھتی ہوئی عالمی سطح پر مانگ کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں پی پی ای کی کمی کی وجہ سے حکومت کورونا وائرس کے آئی سولیشن اور انتہائی نگہداشت یونٹوں میں کام کرنے والے عملے کی حفاظت کر رہی ہے لیکن عام او پی ڈیز اور وارڈوں میں موجود میڈیکل ورکرز میں انفیکشن پھیل رہا ہے کیوں کہ علاج کےلیے اسپتالوں میں آنے والی دیگر بیماریوں کے مریضوں سے نمٹنے کےلیے کوئی مناسب طریقہ کار موجود نہیں جب کہ ان میں سے کئی لوگ کورونا سے متاثر مگر بغیر علامات کے ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کا اسپتالوں کے باہر علیحدہ سہولت میں معائنہ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کوڈ 19 کے مریضوں میں علامات 14 دن کے اندر نمودار ہوتی ہیں جس کی وجہ سے بغیر علامات والے مریضوں نے او پی ڈیز میں داخل ہوکر صحت ورکرز کو بیماری منتقل کی جو بعد میں اسپتالوں، ہاسٹلز اور ان کے گھروں میں انفیکشن کا ذریعہ بن گیا۔
صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس وارڈ اور آئی سی یو میں کام کرنے والے تمام عملے کو الگ الگ رہائش دی جانی چاہیے اس کے علاوہ ان کو اور دیگر افراد کی حفاظت کے لیے ایک ہفتہ کی ڈیوٹی کے بعد انہیں دو ہفتوں کےلیے قرنطینہ میں بھیجنا چاہیے۔ ایسی بھی مثالیں موجود ہیں کہ سرکاری اسپتالوں میں صحت ورکرز نے انفیکشن کو نجی اسپتالوں سے درآمد کیا جہاں انہوں نے پارٹ ٹائم کام کرتے ہی کیوں کہ اسپتالوں میں علاج کے دوران کام کرنے والے عملے میں کوئی مثبت کیس سامنے نہیں آیا زیادہ تر وائرس کے بغیر علامات کے مریض نے عملے کو متاثر کیا ہے۔ حادثے اور ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے والے عملہ مریضوں بارے میں نہیں جانتے ہیں، ان میں سے بہت سے افراد متاثرہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بھی انفیکشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔
صوبے میں 50 سے زائد ڈاکٹروں اور دیگر صحت ورکرز میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے بیشتر کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں سے رابطے میں نہیں آئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button