پیروں کا انفیکشن بھی کرونا وائرس کی ایک علامت ہے

طبی ماہرین نے کرونا وائرس کی ایک اور ممکنہ علامت کی نشان دہی کی ہے اور وہ ہے جلد کی رنگت یا ساخت میں اچانک تبدیلی آنا اور اس پر نیلے یا جامنی رنگ کے نشانات ابھرنا۔
دنیا بھر میں نئے کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافے کے ساتھ خوفزدہ لوگوں میں اس حوالے سے تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔ کرونا وائرس سے اب تک پوری دنیا میں ہونے دو۔لاکھ لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں اور سائنسدان اس وائرس کے حوالے سے دن رات تحقیق کر رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک اس کی کوئی ویکسین تیار نہیں کی جاسکی۔ کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی بیشتر علامات موسمی نزلہ زکام یا فلو سے اتنی زیادہ ملتی جلتی ہے کہ عام آدمی کےلیے یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ وہ کس مرض کا شکار ہے۔ سائنسدانوں نے کرونا وائرس کی علامات کے حوالے سے نئی تحقیق کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ سونگھنے اور ذائقے کی حس متاثر ہونا بھی اس وائرس کی ایک علامت ہے۔ مذید تحقیق کے بعد محققین نے کرونا وائرس کے مریضوں کی ایک نئی علامت آنکھوں میں انفیکشن کا ہو جانا بتائی اور یہ بھی انکشاف کیا کہ آنکھ میں یہ وائرس طویل عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے۔ کووڈ 19 کے کچھ مریضوں کو نظام ہاضمہ کے مسائل خصوصاً ہیضے کا سامنا بھی ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں میں نظام تنفس کی علامات بعد میں ظاہر ہوئیں لیکن ہیضہ پہلے ہوا۔
لیکن اب طبی ماہرین نے کرونا وسئرس کی ایک اور ممکنہ علامت کو شناخت کرلیا ہے اور وہ ہے متائثرہ فرد کی جلد کی رنگت یا ساخت میں اچانک تبدیلی آنا یا اس پر نشانات کا ابھرنا۔ امریکا کی پنسلوینیا یونیورسٹی کے ماہرین نے اس علامت کی نشاندہی کی ہے جسے ‘کووڈ ٹوئیز’ کا نام دیا گیا ہے، جس میں مریض کے پیروں اور اسکی انگلیوں پر جامنی یا نیلے رنگ کے نشان یا زخم ابھر آتے ہیں۔ پنسلوینیا یونیورسٹی کے وبائی امراض کے شعبے کے ماہر ین کا کہنا ہے کہ یہ زخم یا نشان چھونے پر تکلیف دہ اور ان میں جلن کا احساس بھی ہوتا ہے۔ یہ نئی ممکنہ نشانی اس لیے بھی زیادہ دلچسپی کا مرکز بنی ہوئی ہے کیوں کہ یہ کووڈ 19 کے ایسے مریضوں میں نظر آرہی ہے جن میں مرض کی دیگر علامات سامنے نہیں آتیں، بالکل اسی طرح جیسے سونگھنے اور چکھنے کی حس سے محرومی بھی اکثر ان افراد میں دیکھی گئی جن میں اس بیماری کی دیگر علامات کو نہیں دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ واضح ہے کہ ایسا مرض کے ابتدا میں ہوتا ہے، یعنی سب سے پہلے اس مسلے کا سامنا ہوتا ہے اور پھر بیماری آگے بڑھتی ہے، کئی بار تو یہ کووڈ 19 کا پہلا سراغ ہوتا ہے خاص طور پر اس وقت جب دیگر علامات نمودار نہیں ہوتیں؟ کووڈ ٹوئیز یا پیروں کی بیماری کچھ افراد میں ایک ہفتے سے 10 دن میں غائب ہوجاتی ہیں، مگر پھر نظام تنفس کی علامات نظر آنے لگتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نئی علامت بچوں اور نوجوانوں میں دیگر عمر کے افراد کے مقابلے میں زیادہ نظر آرہی ہے۔ اس علامت کو مارچ میں اٹلی کے ڈاکٹروں نے دریافت کیا تھا جسکے بعد امریکا میں زیادہ سے زیادہ کرونا کیسز میں اس کی شناخت ہونے لگی۔
طبی ماہرین کے مطابق پیروں کی اس بیماری کی واضح وجہ تو معلوم نہیں مگر ممکنہ طور پر دو وجوہات کووڈ ٹوئیز کا باعث بن سکتی ہیں، ایک یہ ہے کہ اس بیماری کے نتیجے میں ورم کے خلاف ردعمل کا اثر پیروں اور انگلیوں میں ہوتا ہے یا یہ خون کی شریانوں میں کلاٹنگ کے سبب ہوتی ہے، تاہم فی الحال کوئی واضح جواب دینا ممکن نہیں۔ امریکہ میں میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل کے انتہائی نگہداشت کے شعبے کی سربراہ نے بھی کووڈ 19 کے بہت زیادہ افراد کے پیروں میں جامنی رنگ کے نشانات دیکھیں اور ان کے خیال میں یہ جسم میں شدید انفیکشن سے ہونے والے ورم سے خون کی ننھی رگوں میں چھوٹے لوتھڑے بننے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب انفیکشن ہوتا ہے تو آپ کا جسم ورم ریلیز کرتا ہے، متعدد مواقعوں پر یہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے مگر کئی بار یہ بہت زیادہ ہوجاتا ہے، جس سے خود جسم کو نقصان پہنچنے لگتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی وائرل نمونیا یا فلو کے سنگین کیسز میں یہ علامت دیکھ چکی ہیں اور ان کےلیے کووڈ 19 کے مریضوں میں ایسا نظر آنا حیران کن نہیں۔ اس نشانی کے حوالے سے احتیاط اور شبہات سے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ درحقیقت کووڈ ٹوئیز کے مریضوں میں زیادہ امکان اس بات کا ہوتا ہے کہ ان میں کرونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوسکے گی کیونکہ یہ بیماری کے ابتدائی مراحل میں ہوتا ہے۔
