آٹا چینی سکینڈل پر نیب انکوائری کا مقصد وزیراعظم کوبچانا ہے

مسلم لیگ ن نے قرار دیا ہے کہ ملک میں سامنے آنے والے آٹے اور چینی سکینڈل کی نیب سے تحقیقات کرانے کا مقصد وزیر اعظم کو بچانا ہے حالانکہ وزیر اعظم اس کرپشن میں برابر کے شریک ہیں..
اسلام آباد میں پارٹی اجلاس کے بعد سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کی اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا۔ لیگی رہنماؤں نےویڈیو لنک پرمجوزہ قومی اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے. مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 50 روپے فی لیٹر کردی جائے۔مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج عوام کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے اور اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ریکارڈ سطح پر آئی ہے۔ تیل کی قیمت میں عالمی سطح پر کمی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘یہ ریلیف اگر عوام تک پہنچایا گیا تواس سے آج لوگوں کے کاروبار اور تنخواہوں میں کمی آئی ہے اور جن مشکلات کا انہیں سامنا ہے اس میں کافی ریلیف مل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہمارا مطالبہ ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 50 روپے فی لیٹر کردیا جائے جو حکومت کے طریقہ کار کے عین مطابق ہے’۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس مہینے کے سودے اسی قیمت پر ہوں گے جس سے عوام کو ریلیف ملے گا اور افراط زر میں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘بجلی اور گیس کی قیمتیں اگر آدھا نہیں تو کم ازکم ایک تہائی ضرور کیا جاسکتا ہے اور عوام کا اس مد میں بھی ریلیف دیا جائے۔ چینی اور آٹا بحران کی تفتیش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چینی کا تحقیقاتی کمیشن بنایا گیا ہے اور ہم نے سنا ہے کہ نیب نے بھی نوٹس لیا ہے لیکن ہمیں نیب اور ایف آئی اے پر اعتماد نہیں ہے کیونکہ وہ اصل مسئلے کی طرف نہیں آرہے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘اگر مل مالکان نے کچھ کیا ہے تو بالکل ان کو پکڑنا چاہیے لیکن اصل مسئلہ تو حکومت کی اپنی کارکردگی اور پالیسی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیشن اور نیب انکوائری کا مقصد بھی صرف ایک ہے کہ عمران خان جو اس کا اصل ذمہ دار ہے اس کو بچایا جائے۔
خواجہ آصف نے پارٹی اجلاس میں ہونے والے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ویڈیو لنک پر ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کاحصہ نہیں بنیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی ہال کے اندر 450 اراکین کی گنجائش ہے اور مہمانوں کی گیلری کو بھی شامل کرلیا جائے تو 800 کی گنجائش ہے جب کہ اوسطاً اسمبلی میں تعداد 200 کی ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں اور ایک محفوظ فاصلہ رکھا جا سکتاہے’۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ‘ہم بحران کی آڑ میں حکومت کو عوام کے آئینی حقوق میں ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دیں، ہم دوسری اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطہ کررہے ہیں’۔ ان کا کہناتھا کہ ‘اتفاق رائے سے اجلاس بلانے کا مطالبہ کریں گے، کل کورونا کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بھی یہ مسئلہ آیا تھا اور یہ دلیل دی گئی تھی جس میں او آئی سی اور جی 20 کی دو چار مثالیں دیں لیکن اس میں کئی ممالک شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں ایک ملک ہے اور 10 سے 12 گھنٹوں میں ملک کے ہر کونے سے لوگ اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button