پیپلزپارٹی استعفوں پر نہ مانی تو نواز لیگ بھی نہیں دے گی

کپتان حکومت کے لیے بری خبر یہ ہے کہ پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد وقتی طور پر ٹوٹنے سے بچ گیا ہے اور پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی مرکزی قیادت نے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی روک کر معاملات بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن اتحاد کی دو بڑی جماعتوں کے مابین اختلافات دور کروانے کے لیے اہم ترین کردار ادا کیا جس کے بعد مریم نواز نے بلاول بھٹو کیلئے خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا اور پیپلزپارٹی نے 26 مارچ کو نیب کے لاہور دفتر میں مریم نواز کے ہمراہ جانے کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ اپوزیشن اتحاد کے 16 مارچ کے سربراہی اجلاس کے بعد پی ڈی ایم کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان اختلافات نہ صرف کھل کر سامنے آئے بلکہ مریم اور بلاول کے درمیان لفظی جنگ بھی چھڑ گئی تھی جس کے بعد اتحاد ٹوٹنے کے امکانات پیدا ہوگئے تھے۔ تاہم اب مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی کی جانب سے انکے ہمراہ جانے کے اعلان نے دونوں جماعتوں میں ایک بار پھر دوریاں کم کر دی ہیں۔ اسی دوران مریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے بھی آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے لیے نیک جذبات کا اظہار کر دیا ہے۔
اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر پی ڈی ایم کی دونوں بڑی جماعتوں کے اختلافات نے نہ صرف اپوزیشن کے لانگ مارچ کو ملتوی کروایا بلکہ حکومت مخالف تحریک بھی تقریباً دم توڑ گئی۔ لیکن اب اس طرح کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی اسمبلیوں سے استعفے نہ دینے کے فیصلے پر قائم رہی تو مسلم لیگ نون بھی استعفوں کا رسک نہیں لے گی اور دونوں جماعتیں مل کر عید الفطر کے بعد حکومت مخالف لانگ مارچ کریں گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے نواز شریف اور آصف زرداری کے مابین پیغام رسانی کا فریضہ سرانجام دیا اور پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔
تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہوا کہ آخر اس جھگڑے میں پہل کہاں سے ہوئی اور کس جماعت کا قصور زیادہ تھا۔ مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ آصف زرداری کی جانب سے نواز شریف کی وطن واپسی کے نامناسب مطالبے اور دیگر سخت الفاظ نے معاملات بگاڑے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ آصف زرداری سے قبل نواز شریف نے اپنی تقریر میں کچھ ایسی باتیں کیں جن کے جواب میں سابق صدر کی جانب سے بھی سخت باتیں کی گئیں۔
یاد رہے کہ اجلاس میں پیپلز پارٹی نے پارلیمنٹ سے استعفوں کو لانگ مارچ کے ساتھ منسلک کرنے سے انکار کر دیا تھا جبکہ مسلم لیگ ن اور اتحاد کی دیگر جماعتوں کا اصرار تھا کہ پی ڈی ایم 26 مارچ کے حکومت مخالف لانگ مارچ کے ساتھ ہی اسمبلیوں سے مستعفی ہو کر حکومت پر دباؤ بڑھائے۔ اس مطالبے پر آصف زرداری نے نواز شریف سے کہا کہ ان کی جماعت کے تمام اراکین اسمبلیوں سے استعفے دینے کو تیار ہیں لیکن انہیں وصول کرنے کے لئے نواز شریف لندن سے وطن واپس آئیں۔ اس بات پر مریم نواز ناراض ہو گئیں اور انہوں نے آصف زرداری سے کہا کہ وہ اپنے والد کو کسی بھی صورت حکومت کے حوالے نہیں کریں گی کیونکہ یہاں پر ان کی زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ اس پر آصف زرداری نے یہ موقف اپنایا کہ اگر ہم نے حکومت کو نکالنا ہے تو تمام رہنماؤں کو جیل جانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
پی ڈی ایم کے 16 مارچ والے سربراہی اجلاس کے بعد مریم نواز نے بلاول کے حوالے سے نام لیے بغیر کچھ ٹویٹس کیں اور انہیں عمران خان کا متبادل سلیکٹڈ قرار دیا۔ جواب میں بلاول نے بھی سخت گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے رگوں میں سلیکٹ ہونے والا خون نہیں ہے اور ایسا لاہور کا ایک خاندان کرتا ہے۔ اس لفظی جنگ کے بعد پی ڈی ایم اتحاد ٹوٹنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ تاہم مولانا فضل الرحمان نے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے فوری کوششوں کا آغاز کیا اور آصف زرداری اور نواز شریف سے رابطہ کر کے غلط فہمیاں دور کیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی ٹیلیفونک گفتگو کے بعد تب ایک اہم پیشرفت ہوئی جب پیپلز پارٹی نے 26 مارچ کو لاہور میں قومی احتساب بیورو میں پیشی کے موقع پر مریم نواز کے ساتھ جانے کا اعلان کیا۔ پارٹی قائدین اور کارکنوں کو پوری تیاریوں کے ساتھ ریلی میں شامل ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ وہ خود پارٹی کے قافلے کی قیادت کریں گے‎۔ اس سے۔پہلے بلاول بھٹو نے بھی اپنے پارٹی رہنماؤں اور اراکین کو مسلم لیگ (ن) کے خلاف بیانات جاری کرنے سے روک دیا ہے۔
یہ فیصلہ 21 مارچ کو مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے درمیان جاتی امرا میں ملاقات کے دوران کیا گیا تھا کہ پی ڈی ایم کے اتحادی جماعتوں کے قائدین مریم نواز کے ہمراہ ہوں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن دونوں کا موقف تھا کہ اس مرحلے پر اپوزیشن کا اتحاد ٹوٹنے سے حکمران جماعت کو فائدہ پہنچے گا اور موجودہ نظام کو مضبوط بنائے گا جس کے خلاف اپوزیشن جماعتیں گزشتہ کئی مہینوں سے جدوجہد کر رہی ہیں۔ آصف زرداری کا یہ موقف تھا کہ انہوں نے کبھی بھی لانگ مارچ میں شرکت نہ کرنے کی بات نہیں کی اور لونگ مارچ ملتوی کرنے کا فیصلہ بھی ان کا نہیں ہے۔ ان کا موقف تھا کہ لانگ مارچ کو استعفوں سے نتھی کرنے کی تجویز نامناسب تھی۔ ذرائع کے مطابق آصف زرداری اور مولانا دونوں نے ایک مرتبہ پھر استعفوں کے معاملے پر ایک دوسرے کو منانے کی کوشش کی۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر ان کے اراکین اسمبلی استعفے نہیں دیں گے تو مسلم لیگ نواز بھی استعفی نہیں دے گی اور اس بات کے واضح امکانات ہیں کہ دونوں جماعتیں عید الفطر کے بعد استعفے دیے بغیر حکومت مخالف لانگ مارچ شروع کر دیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عارف نظامی کا کہنا تھا کہ ‘دونوں جماعتوں میں حکمت عملی کا فرق بہت گہرا ہے۔’ ان کے مطابق ‘حالیہ کشیدگی زیادہ بڑھانے کا سلسلہ مسلم لیگ ن کی طرف سے شروع ہوا جب مریم نواز نے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال کیا، گو کہ اس سے قبل آصف زرداری نے اپنی تقریر میں جو کہا وہ بھی سخت تھا تاہم ایک دوسرے پر الزام تراشی نہیں ہو نا چاہیے تھی۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘دونوں جماعتوں میں بظاہر اب صلح ہو بھی جائے گی مگر اختلافات کا تاثر پھیل چکا ہے۔’ انکا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں میں ناپختگی نظر آئی ہے۔ اجلاس کے اندر اختلاف ہونا کوئی بڑی بات نہیں، ایک ہی جماعت کی اپنی اندرونی میٹنگ میں بھی سخت باتیں ہو جاتی ہیں، تاہم باہر آ کر اسے سنبھالا جاتا ہے، ہوا نہیں دی جاتی۔ مگر یہاں تو جواب دیا گیا پھر جواب کا جواب دیا گیا جو کہ ناپختگی کا اظہار تھا۔ انکا کہنا تھا کہ ایسے ہی موقعوں پر پارٹی قیادت کا ٹیسٹ ہوتا ہے۔ایک بند دروازے کے پیچھے ہونے والے اجلاس کی کارروائی کا اسی وقت میڈیا پر آجانا بھی حیرت انگیز تھا جس سے اتحاد کو نقصان ہو۔
تاہم اب جب کہ وقتی طور پر پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے مابین معاملات بہتر ہو چکے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ پی ڈی ایم اتحاد اور کتنا عرصہ برقرار رہتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button