عدلیہ پر دباؤ ڈال کر فیصلے لینے کے سلسلے کو ختم کیا جائے

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل شوکت عزیز صدیقی کے کیس کو اپنا، عدلیہ کا کیس سمجھے اور ہمیشہ کےلیے عدلیہ پر دھونس اور دباؤ ڈال کر جو فیصلے لیے جاتے ہیں اس سلسلے کو ختم کرے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندگان سے سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں عالمی میڈیا سے پتا چل رہا ہے کہ حکومت امریکا کو فضائی اڈے دے چکی ہے جس کی میں مخالفت کرتی ہوں، یہ بتائیں جو بھی ڈیل کی ہے وہ حکومت بچانے کےلیے یا سرنڈر کیا ہے تو پارلیمنٹ میں قوم کو بتایا جائے کہ کیا بلنڈر کیا ہے، قوم کے سامنے آنا چاہیے کہ اپنی حکومت بچانے کےلیے کیا سودا کر کے آئے ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ اصل میں چیئرمین نیب تو وزیراعظم عمران خان خود ہیں وہ جس کو چاہیں عہدے سے ہٹا دیں اور جس کو چاہیں لگا دیں، اس ساری صورت حال میں جو بھی عمران خان کا آلہ کار بنا ہوا ہے، جس طرح کہ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال بنے ہوئے ہیں، تو یہ ان کو بھگتنا پڑے گا کیوں کہ احتساب اس کا بھی ہو گا جو آلہ کار بنے گا۔ نائب صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ عدلیہ کو ایسے اقدامات کرنے چاہئے کہ کسی بھی جج سے کوئی غلط فیصلہ نہ لے سکے، اس معاملے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی اتنی بڑی گواہی آئی ہے، جس کی آزادانہ انکوائری ہونی چاہیے، کیوں کہ یہ ایک جج کا معاملہ نہیں ہے، اس لیے عدلیہ کو سمجھنا چاہیے کہ کل وہ سب جج بھی کٹہرے میں کھڑے ہوں گے جو آج کیس سن رہے ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اس میں شامل تمام جماعتیں ایک پیج پر ہیں اور سب کا وہی مؤقف ہے جو نواز شریف کا ہے ہاں البتہ پاکستان پیپلزپارٹی اب پی ڈی ایم میں شامل نہیں ہے۔ قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ حق لڑ کر لینا پڑتا ہے، ٹرے میں رکھ کر کبھی کچھ نہیں ملتا، مزاحمت ہوگی تو مفاہمت ہوگی، طاقتور کے ساتھ طاقت سے بات کی جاتی ہے، عوام کے حقوق کےلیے جدوجہد کررہے ہیں، طاقت ور کے سامنے منہ پر زِپ لگا لیں ایسا نہیں ہوگا، پی ڈی ایم اور پارلیمنٹ میں بطور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی اپنی اپنی حکمت عملی ہے، شہبازشریف بطور اپوزیشن لیڈر اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہیں لیکن پی ڈی ایم مکمل طور پر آزاد خود مختار ہے، پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہے، اس لیے اب پیپلزپارٹی ہمارا ہدف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت ہوگی تو مفاہمت ہوگی، طاقت ور کے ساتھ بات طاقت سے کی جاتی ہے، طاقت کے ساتھ کمزوری کے ساتھ بات نہیں کی جاتی ، جہاں کمزوری دکھائی گئی وہاں دشمن حملہ آور ہوجائے گا، ٹرے میں رکھ کر کبھی کوئی چیز نہیں ملتی، آپ کو اپنا حق لڑ کر لینا پڑتا ہے، اگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مزاحمت نہیں بھی ہورہی تو پھر بھی ہم عوام کے حقوق کےلیے جدوجہد کررہے ہیں، صحافیوں پر گھروں میں گھس کر حملے ہورہے ہیں، دن دیہاڑے گولیاں ماری جاری ہیں، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، پوری دنیا میں ملک بدنام ہوگیا ہے، قابل عزت ججز پر حملے کیے جارہے ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس شوکت صدیقی ہم سب کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، یہ مقدمہ لڑنے سے حق ملے گا کمزوری دکھانے سے کچھ نہیں ملے گا۔ ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ اداروں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کےلیے استعمال کیا جاتا ہے اور اداروں کے استعمال کے متعلق بشیر میمن کا بیان موجود ہے۔نائب صدر مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ جب نواز شریف کو حکومت ملی تو پاکستان کو 22، 22 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا تھا لیکن انہوں نے ایک مرتبہ بھی نہیں کہا کہ یہ گزشتہ حکومت کی نااہلی تھی، وہ آئے کام میں جت گئے اور 3 سال میں ریکارڈ بجلی کی پیداوار ہوئی اور کارخانے لگائے اور لوڈشیڈنگ کو زیرو پر لے کر آئے۔ مریم نواز نے کہا کہ موجودہ حکومت کو لوڈ شیڈنگ صفر پر ملی تھی لیکن نااہلی، نالائقی اور کرپشن کا اندازہ کرلیں کہ زیرو لوڈشیڈنگ کو دوبارہ 22، 22 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر پہنچا دیا اس لیے عوام کو اس حکومت سے چھٹکارا چاہیے اس حکومت کی ترجیح صرف نواز شریف ہے۔

Back to top button