پیپلز پارٹی، اے این پی کو نوٹس قانونی چارہ جوئی نہیں ہے

مسلم لیگ (ن) کے سینیئر نائب صدر اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جنرل سیکریٹری شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کےلیے ‘باپ’ سے ووٹ لینے پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کو جاری نوٹس قانونی چارہ جوئی نہیں ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پی ڈی ایم ایک اتحاد ہے جس کے بیانیے کی نفی کی گئی اس پر اس اتحاد نے پوچھا ہے کہ یہ بتا دیں کہ آپ نے یہ کام کیوں کیا، یہ قانونی چارہ جوئی نہیں ہے، یہ اتحاد کا اندرونی معاملہ ہے اور دو جماعتوں سے یہ بات پوچھی گئی ہے۔ چیئرمین نیب کو حکومت کی جانب سے بلیک میل کرنے کے بیان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کل قومی اسمبلی میں بات اٹھائی گئی تھی کہ حکومت کے پاس کچھ ویڈیوز ہیں، ایک خاتون نے وزیر اعظم کے پورٹل پر شکایت کی تھی کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کچھ نازیبا حرکات کی ہیں لیکن اس معاملے کو دبا دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کو ملک میں بڑے بڑے اسکینڈل نظر نہیں آتے جن میں اب روزویلٹ ہوٹل کے اسکینڈل کا اضافہ ہورہا ہے، اس کی ملکیت اب مشکوک ہو چکی ہے جو عدالتی فیصلے آنے تک مشکوک رہے گی۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت وضاحت کرے کہ سارا معاملہ کیا ہے کیوں کہ ہوٹل انتظامیہ نے گزشتہ روز حکومت سے درخواست کی ہے انہیں ہوٹل چلانے کےلیے مزید 8 ارب روپے دیے جائیں، جو ہوٹل پاکستان کی ملکیت ہے اس کی حقیقت اب عوام کو بتانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں وہ حکومت ہے جو نہ کشمیر کا معاملہ عوام کے سامنے رکھ سکی، نہ بھارت سے کپاس اور چینی کی درآمد کا اسکینڈل عوام کے سامنے رکھ سکی، جس کے ہر فیصلے میں شک و شبہہ اور ابہام موجود ہے وہ کم از کم اس ہوٹل سے متعلق وضاحت کر دے کہ یہ اربوں کا اثاثہ اب آپ کی ملکیت ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کے تماشے اور سرکس چلتا رہے گا، یہ بہت پُرانا سرکس ہے جس کا کام صرف ملک کے سیاستدانوں کو بدنام کرنا اور ملکی معاملات کو تباہ کرنا ہے جبکہ آج ہر شخص یہ کہہ رہا ہے کہ یا ملک چلا لیں یا اس نیب کو چلا لیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button