پیپلز پارٹی شہباز کی وفاقی حکومت میں کب شامل ہو گی؟

عام انتخابات کے بعد حکومت کی تشکیل کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا دکھائی نہیں دیتا۔ وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی میں اپنی ناکامی کو دیکھتے ہوئے جہاںپاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے وہیں دوسری جانب نون لیگ کے مرکزی رہنماؤں نے وفاقی حکومت لینے کو سیاسی غلطی قرار دے دیا ہے۔
لاہور میں مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اعلی سطحی اجلاس کے شرکاء نے نوازشریف کو تجویز دی کہ ہمیں وفاقی حکومت نہیں لینی چاہیے، پنجاب میں ن لیگ اور آزاد اراکین کے ساتھ مل کر آسانی سے حکومت بنا سکتی ہے۔ہمیں صرف پنجاب پر فوکس کرناچاہیے۔ذرائع نے بتایاکہ اسحاق ڈار نے کہاکہ ن لیگ کی پنجاب میں آزاد اراکین کو ساتھ ملا کر تعداد 154 ہوگئی ہے اور ہم اتحادیوں کے بغیر آسانی سے حکومت بنا سکتے ہین۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کا کہنا تھاکہ وفاقی حکومت بنانے کیلئے کسی اتحادی جماعت کی غیراصولی بات کونہیں ماننا چاہیے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں مرکز میں ن لیگ، پی پی، ایم کیو ایم اور دیگر نے مل کر حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) 79، پیپلزپارٹی 54، متحدہ قومی موومنٹ 17، مسلم لیگ (ق) 3، استحکام پاکستان پارٹی 2 اور بلوچستان عوامی پارٹی نے ایک نشست حاصل کی ہے۔نواز شریف نے ن لیگ کی جانب سے شہباز شریف کو وزیراعظم کا امیدوار کیلئے نامزد کیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے حکومت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے صرف شہباز شریف کو بطور وزیر اعظم ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے مرحلے میں وفاقی کابینہ میں اس وقت شامل ہوگی جب کابینہ میں توسیع کی جائے گی، یہ شمولیت مارچ کے آخر یا اپریل میں صدر، سینیٹ، وزیراعلیٰ بلوچستان کے انتخاب اور صوبائی گورنروں کی تبدیلی کے بعد ہوسکتی ہے۔
باخبر سیاسی ذرائع نے یہ تاثرات متعلقہ جماعتوں کی کمیٹی کے دو روزہ مشاورتی اجلاس کے بعد اخذ کئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی کمیٹیوں کے درمیان مشاورت کے دو دور مکمل ہو گئے ہیں اور خیال جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے وزراء کی شمولیت کا سوال کابینہ کو طاقت فراہم کرنے اور اس کو مزید نمائندگی فراہم کرنے کے لئے بحث کے دوران پیدا ہوا ۔ذرائع نے یاد دلایا کہ کابینہ میں پی پی پی کے وزراء کی ضرورت حالیہ سیاسی پیشرفت کے تناظر میں محسوس کی گئی ہے جہاں پی ٹی آئی اور اس کے نئے حامیوں نے آئندہ انتظامیہ کے خلاف اپنی مخالفت تیز کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ( ن) اور پیپلز پا رٹی کے در میان آئینی عہدوں پر تعاون کیلئے بات چیت جاری ہے دونوں جماعتوں میں مشاورت ہو رہی ہے کہ آ ئندہ سپیکر قومی اسمبلی اور چیئر مین سینٹ کون ہوں گے ؟ ذ رائع کے مطا بق پیپلزپارٹی کی نظریں سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے پر لگی ہیں، پیپلز پارٹی نے سپیکر کا عہدہ مسلم لیگ ن سے مانگ لیا ، ڈپٹی سپیکر کا عہدہ ن لیگ کو ملے گا۔پیپلزپارٹی میں سپیکر کے عہدہ کیلئے سا بق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی مضبوط امیدوار ہیں تاہم مو جودہ سپیکر راجہ پرویز اشرف بھی دو بارہ سپیکر شپ لینے کے خواہش مند ہیں۔ ا ن کی بھی آصف علی زرداری سے بہت قربت ہے۔پارٹی ذ رائع کے مطابق یوسف رضا گیلانی کے امکانات زیادہ ہیں۔مسلم لیگ ن نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی پر نظریں جمالی ہیں۔ روایت یہ ہے کہ پنجاب سے سپیکر ہو تو ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا سے لیا جا تا ہے۔ اس سے قبل مرتضی جاوید عبا سی ‘ فیصل کریم کنڈی اور زاہد اکرم درانی ڈپٹی سپیکر رہ چکے ہیں۔ ہزارہ ڈویژن سے ن لیگ کے کامیاب امیدوار سردار محمد یوسف کو ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی بنائے جانے کا امکان ہے۔ن لیگ کےمرتضی جاوید عباسی نشست ہارنے کے بعد سردار یوسف ڈپٹی اسپیکر کے مضبوط امیدوار بن گئے ۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی سے چیئر مین سینٹ کا عہدہ مانگ لیا ہے ، چیئرمین سینٹ کا عہدہ ن لیگ کو ملے گا۔وزیر خز انہ نہ بننے کی صورت میں اسحاق ڈار چیئرمین سینٹ کیلئے امیدوار ہونگے، بصورت دیگر اعظم نذیر تارڑ امیدوار ہوں گے۔ڈپٹی چیئر مین سینٹ کا عہدہ روایت ہے کہ بلوچستان کو دیا جا تا ہے۔اس عہدے پر مو لا نا عبد الغفور حیدری ‘ جان جمالی ‘ صابر بلوچ اور نور جہان پانیزئی فائز رہ چکے ہیں۔ ذ رائع کے مطابق ڈپٹی چیئر مین سینٹ کا عہدہ اس مرتبہ بھی بلوچستان کو دیا جائے گا۔
