پیپلز پارٹی کا پی ڈی ایم کو جلسے سے گریز کا مشورہ

کپتان حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں خون خرابہ کروانے کے مبینہ منصوبے کے پیش نظر پیپلزپارٹی کی قیادت نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو اسلام آباد میں ہونے والا جلسہ منسوخ کرنے کی تجویز دیتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ ساری توجہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی پر مرکوز کی جائے اور حکومت کے ٹریپ میں پھنسنے سے گریز کیا جائے۔ باخبر ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو اسلام آباد میں عوام کو اکٹھا کرنے اور جلسہ کرنے پر تحفظات بارے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ عمران نے اقتدار بچانے کی خاطر اسلام آباد میں خون خرابے کا منصوبہ بنا رکھا ہے لہذا آمنے سامنے آنے سے گریز کیا جائے تاکہ جمہوری طریقے سے پارلیمنٹ کے اندر وزیراعظم کی تبدیلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کے رہنماؤں کو یہ بھی بتایا تھا کہ اگر وہ اپنے طے شدہ جلسہ عام کے انعقاد پر اصرار کرتے ہیں تو پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو جلسے میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ تاہم پیپلز پارٹی اس جلسے میں علامتی شرکت کے لیے دوسرے درجے کے رہنماؤں کو نامزد کر دے گی۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی قیادت میں کراچی سے حکومت مخالف لانگ مارچ لے کر نکلی تھی جو 8 مارچ کو اسلام آباد پہنچ کر اختتام پذیر ہوا تھا اور اسی روز قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی تھی۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی نے اپنے کارکنوں کو لانگ مارچ اور اپوزیشن کے جلسے میں شرکت کی کال نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سمجھتی ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کو ڈی چوک میں جلسے سے روکنے کے فیصلے کے بعد انہیں عوامی اجتماعات کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس طرح کے اقدام سے پی ٹی آئی کو عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ میں مزید تاخیر کا موقع مل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ کچھ غیر جمہوری قوتیں بھی صورت حال کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں اور ملک کو ایک ’غیر متوقع حادثے‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے جمہوری نظام لپیٹنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
پیپلزپارٹی کی قیادت کا خیال ہے کہ چونکہ حزب اختلاف اپنی تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے مطلوبہ نمبرز حاصل کر چکی ہے لہٰذا اسے سڑکوں پر پاور شو کرنے کی بجائے اسمبلی میں اپنی پاور شو کرنی چاہیے۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ جب پی ٹی آئی نے ڈی چوک پر عوامی اجتماع کے ذریعے اراکین قومی اسمبلی کو قومی اسمبلی میں داخلے سے روکنے کی دھمکی دی تھی تو اس وقت اپوزیشن کے پاس جلسے کی کال دینے کا جواز تھا۔ لیکن اب جبکہ پی ٹی آئی نے عدالتی ہدایات کے مطابق اپنے جلسے کا مقام پریڈ گراؤنڈ منتقل کر دیا ہے اور عدالت کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ کسی بھی رکن قومی اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گا، لہذا ہمیں بھی اپنا مارچ اور جلسہ ختم کر دینا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کا خیال ہے کہ حکومت وقت اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر خون خرابہ کروا سکتی ہے تاکہ عمران خان کی چھٹی کا آئینی عمل لٹک جائے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے اتوار 27 مارچ کو شکرپڑیاں کے پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ پی ڈی ایم نے 28 مارچ کو اسلام آباد کے پشاور موڑ پر اپنا پاور شو کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں سے پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت کے لیے نواز لیگ اور جمیعت علمائے اسلام کے قافلے نکل کر اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ ویسے بھی چونکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے 28 مارچ کو اسمبکی اجلاس بلایا ہے، اس لیے اپوزیشن کی قیادت اور اراکین کے لیے ریلی میں شرکت مشکل ہو جائے گی۔پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے بھی اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے پی ڈی ایم کی قیادت سے جلسہ کرنے کے منصوبے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ اپوزیشن کو 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کے منصوبے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، عمران خان ویسے بھی بھاگ رہے ہیں، انہیں تباہی پھیلانے، عدم اعتماد سے بھاگنے، جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے اور پھر سیاسی شہید بننے کا موقع نہ دیں، کیونکہ وہ سیاسی شہادت نہیں بلکہ سیاسی موت کے مستحق ہیں۔
دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں ووٹنگ کے موقع پر حریف سیاسی کیمپوں کے حامیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کا خطرہ ہے۔ انکا کہنا یے کہ امن و امان کی خرابی نہ صرف قومی اسمبلی کے اندر آئینی سیاسی عمل کو نقصان پہنچائے گی بلکہ ایسا کرنا براہ راست غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ میں کھیلنے کے مترادف ہوگا اور اب حکمران جماعت اور اپوزیشن کے جلسوں کے لیے الگ مقامات مختص کر دیے گئے ہیں۔ تاہم اپوزیشن اور حکمران جماعت کے کارکنوں دونوں کے جلسہ گاہ کے مقامات کا راستہ تقریباً ایک ہی ہونے کی وجہ سے اس دن کارکنوں کے درمیان تصادم کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ سے قبل 27 مارچ کو ڈی چوک پر ’10 لاکھ افراد‘ کے اجتماع کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا، اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے بھی عوام اور اتحادی جماعتوں کے کارکنوں سے دھرنا دینے کے لیے 23 مارچ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کرنے کی اپیل تھی۔ یوم پاکستان پر دارالحکومت کی طرف لانگ مارچ کے فیصلے کا اعلان پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا تھا۔ چونکہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہے لہٰذا مولانا فضل الرحمٰن نے امید ظاہر کی تھی کہ پیپلز پارٹی بھی لانگ مارچ میں شرکت کا اعلان کرے گی۔ تاہم پیپلزپارٹی امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونے کے خطرات کی وجہ سے اس اس لانگ مارچ کا حصہ بننے سے گریزاں ہے۔
