پیپلز پارٹی کی ساکھ اور بلاول کی سیاست داؤ پر کیسے لگی؟


اسٹیبلشمنٹ سے سازباز کر کے سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کو قائد حزب اختلاف بنوانے کا الزام لگاتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ اس سارے عمل میں پیپلز پارٹی کی ساکھ کے علاوہ بلاول بھٹو کی سیاست کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے اور اب انکی پارٹی تیزی سے ایک قومی جماعت کی بجائے سندھ کی جماعت بنتی جا رہی ہے۔ اسکے علاوہ یہ عمومی تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ سندھ حکومت پیپلز پارٹی کی کمزوری اور نیب کے کیسز اسکی مجبوری بن گے ہیں اور اسکی ساری سیاست بھی اب انہیں کے ارد گرد گھوم رہی ہے ۔
سلیم صافی اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ اب تک آصف زرداری پر کرپشن کے الزام لگائے جاتے تھے، دوست پروری اور  اقرباپروری کی آوازیں بھی اٹھی تھیں، لیکن زرداری صاحب کے بارے میں یہ تاثر کبھی عام نہیں ہوا تھا کہ وہ سیاسی اخلاقیات اور باہمی رواداری کے فن سے ناآشنا ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے تو مولانا فضل الرحمٰن سے لے کر اسفندیار ولی خان تک سب کو ساتھ لے کر چلے اور یہ سب لوگ ان کی وسیع القلبی اور بالغ نظری کی تعریف کرتے رہے۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ میڈیا نے ان کے ساتھ بہت زیادتی کی لیکن زرداری صاحب نے انتقام نہیں لیا اور فراخدلی کے ساتھ تنقید برداشت کرتے رہے۔ 
اٹھارہویں آئینی ترمیم ان کی حکومت کا بڑا کارنامہ تو تھا ہی لیکن ان کا سب سے بڑا کریدٹ بطور صدر اپنے اختیارات وزیراعظم کے حوالے کرنا تھا۔ سندھ اور مرکز میں خراب طرز حکمرانی کے الزامات کے باوجود پیپلز پارٹی کی سیاست کی اس لئے بھی تعریف کی جاتی تھی کہ زرداری صاحب جو چالیں چلتے تھے، ان کا محور و مرکز سیاست میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو کم کرنا ہوا کرتا تھا، لیکن صافی کہتے ہیں کہ نہ جانے کچھ عرصے سے انہیں کیا ہوگیا ہے کہ اہنی ہی سیاسی روایات اور اخلاقیات کے برعکس چلتے نظر آتے ہیں اور ان کی سیاست کا حتمی نتیجہ غیرسیاسی قوتوں کے حق میں نکلتا ہے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے پہلے ان دستاویزات پر دستخط کئے جن میں لانگ مارچ اور استعفوں کے آپشن شامل تھے لیکن پھر انہی اسمبلیوں اور سینیٹ کو مضبوط کرنے پر زور دیتی رہی، جن کو جعلی قرار دے کر ختم کرنے کیلئے پی ڈی ایم بنی، جب کیسز اور  سندھ حکومت کے بارے میں اپنے مقاصد حاصل کر لئے تو بلاول بھٹو نے گلگت میں نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیان کے خلاف بول کر پی ڈی ایم میں انتشار کی بنیاد رکھ دی، لیکن مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے معاملے کو زیادہ بگڑنے نہ دیا۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی کی طرف سے تسلسل کے ساتھ ایسے اقدامات کا سلسلہ شروع ہوا کہ جو اتحادی اور سیاسی اخلاقیات کے اصولوں کے منافی تھا۔ پی ڈی ایم اسمبلیوں کو ختم کرنے اور تبدیلی لانے کے نعرے پر بنی تھی لیکن پیپلزپارٹی نے باقی جماعتوں سے مشاورت کے بغیر ہی الیکشن کمیشن کو ضمنی انتخابات کے لئے درخواست دے دی۔ پی ڈی ایم کی قیادت چاہتی تو اسے وجہ نزاع بنا سکتی تھی لیکن مولانا اور نون لیگ نے اتحاد کی خاطر پیپلز پارٹی کے اس یکطرفہ اقدام کو اون کیا اور خود بھی ضمنی انتخابات میں حصہ لیا۔ 
سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کا اصرار بھی پیپلز پارٹی کا تھا، جسے ان کے ساتھ باقی جماعتوں نے تسلیم کرلیا حالانکہ اے این پی کے سوا باقی چھوٹی جماعتوں کو سینیٹ الیکشن میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پھر پیپلز پارٹی نے ازخود یوسف رضا گیلانی کو مرکز سے سینیٹ کا امیدوار بنا دیا۔ اس معاملے پر بھی پی ڈی ایم کی قیادت سے مشورہ نہیں ہوا تھا لیکن پیپلز پارٹی کی خاطر پی ڈی ایم نے نہ صرف اس کے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا بلکہ یوسف رضاگیلانی کے لئے بھرپور مہم بھی چلائی۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اتحادی جماعتوں کی مدد سے یوسف رضاگیلانی کے سینیٹر بننے کے بعد پی ڈی ایم کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ چیئرمین کا عہدہ پیپلز پارٹی کو ملے گا، ڈپٹی چیئرمین کا جے یو آئی کو اور سینیٹ میں لیڈر آف دی اپوزیشن نون لیگ کا ہوگا۔ اس کا اعلان اجلاس کے بعد پی ڈی ایم کے سیکرٹری اطلاعات میاں افتخار حسین نے سب جماعتوں کے رہنماؤں کی موجودگی میں کیا، لیکن افسوس کہ سینیٹ انتخابات میں مقابلہ صادق سنجرانی سے ہو گیا جو ریاست کو زرداری صاحب سے زیادہ عزیز  ہیں، چنانچہ یہاں ان کا جادو نہ چل سکا اور گیلانی کو ہرا دیا گیا۔
سلیم صافی کا کہنا ہے کہ جب سینیٹ کی چیئرمین شپ ہاتھ نہ آئی تو زرداری صاحب نے ضد شروع کر دی کہ اب اپوزیشن لیڈر کا عہدہ نون لیگ کی بجائے ان کی پارٹی کو دیا جائے کیونکہ وہ سینٹ میں سب سے بڑی پارٹی ہے۔ پی ڈی ایم کے دیگر رہنماؤں نے ان کو بہت سمجھایا کہ یہ وعدہ خلافی ہے لیکن وہ مصر رہے۔ پی ڈی ایم میں شامل دیگر نو جماعتیں اس حوالے سے مسلم لیگ(ن) کی ہمنوا رہیں لیکن پیپلز  پارٹی پھر بھی مصر رہی۔ یہ اصرار ایسے عالم میں ہوتا رہا کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں زرداری صاحب نہ صرف استعفوں کے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے بلکہ ساتھ ہی نواز شریف کو ل وطن واپس آکر سیاست کرنے کی بجائے لندن میں بیٹھے رہنے کے طعنے بھی دیے۔ یہاں بھی پیپلز پارٹی کی خاطر مولانا نے یہ درمیانی راستہ نکالاکہ بے شک سندھ اسمبلی نہ توڑی جائے لیکن پیپلز پارٹی قومی اسمبلی سے استعفوں پر بھی تیار نہیں تھی۔ سلیم صافی کے مطابق اصولی طور پر پی ڈی ایم کی قیادت اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کو الوداع کہہ سکتی تھی لیکن مولانا نے اسے فیصلہ کرنے کے لئے اپنے سی ای سی سے مشاورت کا موقع دیا۔ یہاں بھی زرداری صاحب نے فوری اجلاس بلانے کے بجائے چار اپریل کی تاریخ رکھ دی جس دن ہر سال بھٹو صاحب کی برسی منائی جاتی ہے۔ صحافی کا کہنا ہے کہ ابھی پی ڈی ایم والوں کو پی پی پی کے چار اپریل والے سی ای سی کے اجلاس کا انتظار تھا کہ اپوزیشن لیڈر کے لئے زرداری صاحب نے وہی حربے آزمانے شروع کئے جو مخالف جماعتوں کے ساتھ انتخابات کے دنوں میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے منحرف سینیٹر  دلاور خان اور  پی ٹی آئی اور  باپ پارٹی کے فارورڈ بلاک کے سینیٹرز کو ساتھ ملایا اور اے این پی کو بھی توڑ دیا۔ واضح رہے کہ بلوچستان میں اے این پی باپ پارٹی کی حکومت کا حصہ ہے اور اس کا سینیٹر بھی باپ پارٹی کے تعاون سے بنا ہے۔ پحر مطلوبہ تعداد میں 31 سینیٹرز کے دستخط لے کر گیلانی اسی صادق سنجرانی کے پاس جا ہہنچے جنکی چیئرمین شپ کو انہوں نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
سلیم صافی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سارے عمل میں زرداری صاحب نے بلاول بھٹو کی لانچنگ کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ سب سے زیادہ نقصان خود پیپلز پارٹی کو پہنچ رہا ہے کیونکہ وہ ایک قومی جماعت سے سندھ کی جماعت بنتی جارہی ہے اور ہر ذہن میں یہ بات بیٹھ رہی ہے کہ سندھ حکومت اور نیب کیسز پیپلزپارٹی کی کمزوری بن گے ہیں جن کے ارد گرد اب پیپلز پارٹی کی سیاست گھوم رہی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button