پیپلز پارٹی کی سجی سجائی پلیٹ نواز شریف کیسے لے اڑے؟

پیپلز پارٹی کی قیادت کویقین تھا کہ اس بار انہیں ’سلیکٹ‘ کیا جائے گا اس کا خیال تھا کہ پی ٹی آئی میں اکثریت نواز شریف مخالف ووٹرز کی ہے اور نا مہرباں موسموں میں حالات سے تنگ یہ موسمی پرندے ان کی منڈیر پر آبیٹھیں گے۔ یہ سوچ خام خیالی ثابت ہوئی۔ خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک نے اپنا دھڑا بنا لیا، پنجاب میں استحکام پاکستان پارٹی کے نام سے ایک نئی پناہ گاہ وجود میں آ گئی۔ پی پی پی کو امید یہ بھی تھی کہ بلوچستان عوامی پارٹی ۔۔۔ پلیٹ میں رکھ کر ان کی خدمت میں پیش کر دی جائے گی مگر ایسا بھی نہیں ہوا۔ یہ پلیٹ میاں نواز شریف لے اُڑے ۔ پیپلز پارٹی کے خواب تو یہ تھے کہ وفاق میں حکومت بنائی جائے مگر اچانک یہ حقیقت سامنے آگئی کہ اسے سندھ میں اقتدار بچانا مشکل ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار محمد بلال غوری نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ سندھ میں ایک طرف مسلم لیگ (ن) نے ایم کیو ایم سے اتحاد کر کے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے تو دوسری طرف سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو صوبائی صدر تعینات کر کے یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ کراچی اور سندھ میں پیپلز پارٹی کیخلاف دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ملے گی۔ ان حالات میں ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ کا واویلا نہ ہو تو اور کیا ہو؟ ویسے جب کوئی سیاسی جماعت ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ کا گلہ کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ سب کو موقع دیا جائے، دراصل یہ التماس کی جا رہی ہوتی ہے کہ ہم بھی تو نظر التفات کے منتظر ہیں، اس بار ہمیں موقع دیں، آپ کو مایوس نہیں کرینگے۔ آج کل عام انتخابات کے حوالے سے ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ کا بہت چرچہ ہے۔ بظاہر تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ لیکن ــ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ کا حقیقی مفہوم کچھ اور ہے۔ اس وقت تحریک انصاف کے بعد پیپلز پارٹی دوسری بڑی جماعت ہے جو ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ دراصل پیپلز پارٹی کی قیادت کویقین تھا کہ اب انہیں ’سلیکٹ‘ کیا جائے گا۔ اس یقین کا سبب ماضی قریب میں پیش کی گئی خدمات ہیں۔ یادش بخیر، آصف زرداری نے ڈنکے کی چوٹ پر بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرائی، سینیٹ انتخابات کے دوران سیاسی بندوبست کا حصہ بنے، صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنوایا۔ اس تناظر میں انہیں توقع تھی کہ لاڈلے کا پروٹوکول انہیں ملے گا ۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ یوں تو ہمیں دھوکے کھانے کی عادت سی ہو گئی ہے۔ مگر نئی نئی سیاسی اصطلاحات سے فریب مت کھائیں کیونکہ انکے لفظی معنی کچھ اور ہوتے ہیں جبکہ حقیقی مفہوم کچھ اور۔ مثال کے طور پر جب سیاستدان کہتے ہیں کہ فوج سیاست سے دور رہے تو اسکا مطلب ہوتا ہے کہ ہم اقتدار میں ہیں اور ہماری حکومت کو صرف آپ سے خطرہ ہو سکتا ہے لہٰذا اپنے کام سے کام رکھیں۔ اسی طرح جب کوئی یہ کہتا ہے کہ فوج اپنی قومی اور آئینی ذمہ داریاں نبھائے تو وہ دراصل یہ عرضی پیش کر رہا ہوتا ہے کہ ہم اپوزیشن میں ہیں، ہمارے پاس اقتدار حاصل کرنے کا اور کوئی راستہ نہیں، براہِ کرم ہماری مدد کریں۔ اسی طرح جب یہ فرمائش کی جاتی ہے کہ فوج ’’نیوٹرل‘‘ رہے تو اس کی تشریح یہ ہے کہ فی الحال حالات کنٹرول میں ہیں، اگر ضرورت پڑی تو ہم آپ کو بلائیں گے ۔ گاڑی میں نیوٹرل گیئر کا مطلب ہوتا ہے کہ گاڑی رُک گئی ہے اب یہ نہ آگے جائے گی نہ پیچھے۔ ہاں گاڑی کو دھکا لگا کر آگے، پیچھے، دائیں بائیں لڑھکایا جا سکتا ہے لیکن گاڑی کا انجن حرکت میں نہیں آئے گا۔ حیاتیاتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو انسان ہوں یا حیوان انہیں نر اور مادہ کی حیثیت سے تقسیم کیا جاتا ہے اور جو نیوٹرل ہوتے ہیں وہ بھی دونوں طرح کے میلانات رکھنے کے باوجود کسی ایک طرف زیادہ کشش محسوس کرتے ہیں۔گویا مطلق غیر جانبداری کا قطعاً کوئی تصور نہیں۔
بلال غوری بتاتے ہیں کہ نوبیل انعام یافتہ اسکالر بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے غیر جانبداریت کے حوالے سے کہا تھا کہ اگر کوئی ہاتھی کسی چوہے کی دُم پر پائوں رکھ دے اور آپ کہیں کہ بھائی ہم تو نیوٹرل ہیں تو اس چوہے کو آپ کا نیوٹرل ہونا پسند نہیں آئیگا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین اور ان کے ہمنوا بھی کل تک نیوٹرل کو جانور قرار دینے والے اب یہ تقاضا کرتے پھرتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہے۔ الیکشن کمیشن غیر جانبدار ہو، سب کو ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ دستیاب ہو، انتخابات منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف ہوں۔ ان مطالبات کے حوالے سے تو تمام سیاسی جماعتوں میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں۔ ہاں البتہ سب کی اپنی لغت ہے اور ان باتوں کی من مانی تشریح وتعبیر بیان کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر تحریک انصاف کی طرف سے ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ کے مطالبے کو ’’ڈی کوڈ‘‘ کیا جائے تو اس کا بقول احمد فراز مطلب ہے’’محبت وہی انداز پرانے مانگے‘‘۔ یعنی ویسا ہی ماحول، ویسی ہی سہولت کاری، ویسا ہی سایہ عاطفیت مہیا کیا جائے جو 2018ء کے عام انتخابات سے پہلے دستیاب تھا۔
