پیچھے رہ کر کپتان حکومت الٹانے والے جہانگیر ترین کی واپسی

عمران خان کے سابقہ ساتھی اور ان کی اے ٹی ایم کہلانے والے جہانگیر خان ترین کپتان حکومت ختم ہونے اور اسکے نتیجے میں اڑنے والا سیاسی طوفان تھم جانے کے بعد ملک واپس پہنچ گے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔ جہانگیر ترین عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہوتے ہی ملک چھوڑ گئے تھے اور کئی ماہ سے علاج کی آڑ میں لندن میں مقیم تھے۔ جمعے کی شام لاہور پہنچنے سے قبل وہ لندن سے دبئی گئے تھے، جہاں سے وہ اپنے صاحبزادے علی خان ترین کو لیکر وطن واپس آئے ہیں۔ یاد رہے کہ دونوں باپ اور بیٹے کے خلاف ایف آئی اے نے عمران دور میں کئی کیسز کھول دیئے تھے جن میں شوگر سکینڈل اور منی لانڈرنگ سرفہرست تھے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عمران خان حکومت کو گھر بھیجنے میں جہانگیر ترین کے منحرف ساتھیوں نے مرکزی کردار ادا کیا جن کی قیادت راجہ ریاض کر رہے تھے۔ عمران کی فراغت کا آغاز تحریک انصاف کے اندر ہونے والی بغاوت سے ہوا تھا لیکن تحریک عدم اعتماد میں منحرف اراکین کے ووٹ نہیں ڈلوائے گئے تاکہ انہیں ہیں نا اہل ہونے سے بچایا جا سکے۔ پنجاب میں بھی حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ بنانا تب ہی ممکن ہوا جب جہانگیر ترین اور علیم خان کے گروپس نے انہیں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جہانگیر ترین لندن میں بیٹھ کر اپنے ساتھیوں کی رہنمائی کر رہے تھے کیونکہ پاکستان میں ان کی موجودگی انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی ڈال سکتی تھی۔
جہانگیر ترین نے وطن پہنچنے کے بعد کہا ہے کہ ان کی وطن واپسی ڈاکٹروں کی اجازت سے ممکن ہوئی ہے۔ شاید ان کے ڈاکٹرز بھی عمران خان حکومت کے خاتمے کا انتظار کر رہے تھے کیونکہ ان کی بیماری جسمانی سے زیادہ سیاسی تھی۔ ترین کا کہنا ہے کہ وہ جلد سیاسی معاملات پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مشاورت اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کریں گے۔ یاد رہے کہ وزیراعلٰی پنجاب کے حالیہ الیکشن میں جہانگیر ترین گروپ کے ارکان نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار چودھری پرویز الٰہی کے مقابلے میں حمزہ شہباز کی حمایت کی تھی اور اسی لیے منتخب ہونے کے فورا بعد حمزہ شہباز نے جہانگیر ترین کو فون کر کے شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے منحرف اراکین کا مستقبل خطرے میں ہے چونکہ ان کے خلاف نا اہلی کے ریفرنس سے الیکشن کمیشن کو بھجوا دیئے جاچکے ہیں۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی چوہدری پرویز الہی اسپیکر کے عہدے سے ہٹیں گے، صورتحال تبدیل ہو جائے گے ۔ یاد رہے کہ جہانگیر تحریک انصاف کے اہم رہنما اور چیئرمین عمران کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔ 2018 کے عام انتخابات میں جہانگیر ترین سپریم کورٹ سے نااہل ہونے کی وجہ سے الیکشن میں حصہ تو نہ لے سکے لیکن حکومت سازی کے مرحلے میں انہوں نے اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے 2018 کے انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت بنانے کے لیے جوڑ توڑ کیا اور بڑی تعداد میں منتخب اراکین بھر بھر کر اپنے جہاز میں بنی گالہ تک لاتے رہے۔ جہانگیر ترین پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں ان کو عدالت نے نااہل کردیا تھا۔
حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم نے مختلف ٹاسک فورسز قائم کیں جس میں جہانگیر ترین کو زراعت کے شعبے کی ٹاسک فورس کا کنوینر مقرر کیا گیا۔ تاہم حکومت بننے کے بعد ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا جس کی وزیراعظم نے ایف آئی اے سے انکوائری کروائی تو ترین کی شوگر ملز بھی چینی بحران کی ذمہ دار قرار پائیں۔ چنانچہ عمران خان نے جہانگیر ترین سے پارٹی عہدہ واپس لینے کے بعد حکومت سے ان کو علیحدہ کردیا اور ان کے خلاف ایف آئی اے میں کیسز درج ہوگئے۔ یہیں سے عمران خان کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہونا شروع ہوئے۔ اس دوران جب ایف آئی اے نے جہانگیر ترین کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا تو ترین کی زیر قیادت تحریک انصاف کا ترین گروپ سامنے آ گایا جس کے بعد ان کے خلاف تحقیقات رُک سی گئیں۔ تاہم ان کا کردار ایک بار پھر تب اُبھر کر سامنے آیا جب مرکز میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاری شروع ہوئی۔
جہانگیر ترین کا شمار عمران خان کے اُن قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا جو ان کی ذاتی رہائش گاہ بنی گالہ تک اثر و رسوخ رکھتے تھے لیکن کہا جاتا ہے کہ انہیں بھی بنی گالا سے آؤٹ کرنے میں عمران خان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی نے مرکزی کردار ادا کیا، لودھراں سے تعلق رکھنے والے جہانگیر ترین 2011 میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور رفتہ رفتہ عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے لگے۔ 2013 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی پوری انتخابی مہم کی ذمہ داریاں جہانگیر ترین اور اسد عمر کے سپرد تھیں۔ سال 2014 میں تحریک انصاف کے 126 دن کے دھرنے میں بھی جہانگیر ترین کا اہم کردار رہا تھا اور اسی لئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر جہانگیر ترین عمران کے خلاف بغاوت نہ کرتے تو شاید موصوف آج بھی برسر اقتدار ہوتے۔

Back to top button