پیکا آرڈیننس کیس: صدر عارف علوی کا ٹوئٹ بطور ثبوت پیش

پیکا 2016 میں ترامیم کر کے ہتک عزت کو جرم اور قابل سزا اور ناقابل ضمانت فعل بنانے کیلئے متنازع آرڈیننس کے اجرا کے سلسلے حکومت کی ’بدنیتی‘ ثابت کرنے کے لیے صدر پاکستان ڈاکٹرعارف علوی کا ایک ٹوئٹ بطور ثبوت پیش کیا گیا۔
ٹوئٹ میں 18 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا گیا تھا جو بعد ازاں بغیر کسی نوٹیفکیشن کے شیڈول سے کچھ گھنٹے پہلے منسوخ کردیا گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے متنازع آرڈیننس کیخلاف دائر مختلف درخواستوں پر سماعت کی۔
پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے سینئر وکیل منیر اے ملک نے پیکا میں ترمیم کرنے والے آرڈیننس کے نفاذ کے خلاف دائر درخواست پر اپنے دلائل سمیٹتے ہوئے صدر عارف علوی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے 14 فروری کو پوسٹ کی گئی ایک ٹوئٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 18 فروری کو ہوگا۔
صدر عارف علوی کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ٹوئٹ میں کہا گیا تھا کہ ’صدر ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس 18 فروری بروز جمعہ صبح 10:30 بجے طلب کیا ہے، صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 54 (1) کے تحت اجلاس طلب کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا تھا کہ چونکہ حکومت کچھ آرڈیننسز جاری کرنا چاہتی تھی (جو کہ صدر کا اختیار ہے) اس لیے اجلاس ملتوی کیا گیا تاہم صدر عارف علوی نے بغیر کسی سرکاری اعلان کے قومی اسمبلی کا طے شدہ اجلاس منسوخ کر کے ایک روایت قائم کی جس سے سیاسی حلقوں میں ایک تنازع اور بحث چھڑ گئی۔
اُس وقت سینیٹ کا اجلاس بھی نہیں ہورہا تھا اور جب پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان میں اجلاس نہیں ہورہا تو صدر آرڈیننس جاری کرسکتے ہیں، منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ آرڈیننس میں ترمیم سے اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگائی گئی، اس کے علاوہ عدلیہ اور ججوں کی آزادی پر بھی منفی اثر پڑا، صدر آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت بیان کردہ ہنگامی صورتحال میں آرڈیننس جاری کر سکتے ہیں۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے 2 دھڑوں کے وکیل نے بھی اپنے دلائل مکمل کیے اور کہا کہ سینیٹ کا اجلاس 17 فروری کو ملتوی کردیا گیا تھا اور میڈیا، صحافیوں اور بلاگرز کو لگام دینے کے لیے متنازع آرڈیننس جاری کرنے کے لیے اگلے روز قومی اسمبلی کا بھی طے شدہ اجلاس منسوخ کر دیا گیا۔
موجودہ قانون میں صحافیوں اور بلاگرز کے خلاف درج مقدمات میں متاثرہ افراد کے بجائے نجی طور پر افراد کی شکایت پر اعلیٰ عدالتوں کے قانون کو غیر متعلقہ قرار دیا گیا ہے جیسا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا تھا کہ متاثرہ شخص کے سوا کوئی بھی ہتک عزت کی شکایت درج نہیں کر سکتا تاہم آرڈیننس کے نفاذ کے بعد متاثرہ شخص سمیت کوئی بھی شخص یا ادارہ ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر سکتا ہے۔
ایک اور درخواست گزار سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اسامہ خاور نے عدالت کی توجہ 1975 میں آئین کے آرٹیکل 19 میں کی گئی چوتھی ترمیم کی جانب مبذول کرائی، ترمیم نے آرٹیکل 19 سے لفظ ’ہتک عزت‘ کو خارج کر دیا ہے جس سے قانون سازوں کا ارادہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہتک عزت بذات خود اظہار رائے کی آزادی سے متعلق جائز معقول پابندیوں/بنیادوں کی وجہ نہیں بنتی۔
