پی آئی اے کیلئے عمانی فضائی حدود بھی بند ہونے کا خطرہ

پاکستان ایوی ایشن ریگولیٹر اور قومی ایئر لائن کو گزشتہ ماہ سے اپنی ساکھ کو متاثر کرنے والے بحران کا سامنا ہے اور اب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پروازوں کو عمان کی فضائی حدود کی بندش کا خطرہ بھی درپیش ہے۔تاہم سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی جانب سے عمانی ایوی ایشن حکام کو یقین دلایا گیا ہے کہ فلائٹ سیفٹی یقینی بنانے کے لیے تمام پائلٹس کی اسناد کی جانچ پڑتال کی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پی آئی اے کی سیفٹی کے حالیہ معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عمانی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ پی آئی اے کو اس کی فضائی حدود کے استعمال سے روکا جاسکتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ عمانی حکام نے اسلام آباد سے یہ بھی کہا کہ وہ یہ بتائیں کہ پروازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔اس حوالے سے ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان سی اے اے نے عمانی سول ایوی ایشن اتھارٹی کو بتایا کہ جن پائلٹس کو پرواز کرنے کی اجازت دی گئی تھی ان سب کی اسناد کی جانچ اجازت دینے سے قبل کی جاچکی تھی۔ذرائع کے مطابق عمانی حکام کو مزید بتایا گیا کہ پاکستانی حکام نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر چند برس قبل پائلٹس کی جانچ پڑتال شروع کی تھی۔
علاوہ ازیں ذرائع نے بتایا کہ جب پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی حکومت اقتدار میں آئی تو جانچ پڑتال کا عمل تیز ہوا لیکن ہمارے پائلٹ لائسنس کبھی جعلی نہیں ہوتے، بعض اوقات صرف ان کی درستی کے مسائل ہوتے ہیں۔ذرائع نے کہا کہ امتحانات میں بے ضابطگی ہوئی تھی جس کے بعد ان پائلٹس کو فرانزک رپورٹ کی روشنی میں گراؤنڈ کردیا گیا تھا۔ساتھ ہی ذرائع نے بتایا کہ طیارہ اڑانے والے پی آئی اے کے تمام پائلٹس کو جانچ پڑتال کے بعد کلیئر کردیا گیا تھا اور وہ سب تجربہ کار تھے۔
خیال رہے کہ ہوا بازی کے بحران کے باعث دیگر 7 ممالک جہاں پاکستانی پائلٹس مختلف ایئر لائنز میں ملازمت کررہے ہیں،انہوں نے اسلام آباد سے ان پائلٹس کی اسناد کی تصدیق کرنے کا کہا تھا۔اگرچہ عمانی سی اے اے نے سرکاری طور پر وہاں موجود پاکستانی پائلٹس کی تصدیق کے لیے کوئی مخصوص فہرست نہیں ارسال کی لیکن حکام نے صرف اسلام آباد سے یہ وضاحت طلب کی ہے کہ پروازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں تاکہ پی آئی اے کو عمان کی فضائی حدود کے استعمال سے نہ روکا جائے۔
ادھر 28 پاکستانی پائلٹس کے کمرشل فلائنگ لائسنسزکو منسوخ کردیا گیا ہے، 2018 میں ان کے ‘مشکوک’ لائسنسز کا سراغ لگایا گیا تھا اور قانونی کارروائیوں کے بعد انہیں ایئر لائن کی ملازمت سے فارغ کردیا جائے گا۔’مشکوک ‘ لائسنس کے حامل 262 پائلٹس میں سے 34 کو ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے معطل کردیا گیا ہے، دیگر 24 پائلٹس کو 11 جولائی کو معطل کیا گیا تھا جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں مزید 30 سے 40 پائلٹس کو معطل کرنے کا امکان ہے۔
ذرائع نے کہا کہ سی اے اے نے پہلے ہی مختلف ممالک میں ملازمت کرنے والے 142 پاکستانی پائلٹس کی اسناد کی تصدیق کردی تھی اور ان 7 ممالک بشمول ملائیشیا کے حکام کو تصدیق نامے ارسال کردیے تھے۔سول ایوی ایشن اتھارٹی آف ملائیشیا (سی اے اے پی) کے پبلک ریلیشنز افسر نے ای میل کے جواب میں کہا کہ ‘ سی اے اے ایم کو یہ بتاتے ہوئے خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) نے اس وقت ملائیشیا میں ملازمت پیشہ پاکستانی لائسنسز کے حامل پائلٹس کی تصدیق کے سلسلے میں ہماری درخواست پر بہت تعاون کیا ہے’۔ای میل کے جواب میں کہا گیا کہ پی سی اے اے کو 20 سے کم نام بھیجے جاچکے ہیں اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ان کے لائسنسز درست ہونے کی توثیق کی ہے۔
سی اے اے ایم کے علاوہ ایتھوپیا نے بھی حکومت پاکستان سے وہاں کام کرنے والے 5 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کی تصدیق کرنے کے لیے کہا تھا اور پاکستان سی اے اے نے ایتھوپیا میں ملازمت کرنے والے تمام 5 پاکستانی پائلٹس کے لائنسنز کلیئر کردیے ہیں۔ کچھ پاکستانی پائلٹس کویت، سعودی عرب اور عمان کی مختلف ایئرلائنز میں بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
سی اے اے کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ پیر(13جولائی ) تک پاکستانی پائلٹس کےلائسنسز کی تصدیق کے لیے اسلام آباد کو موصول ہونے والی تمام درخواستوں کو پورا کیا کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں کام کرنے والے تمام پائلٹس کے لائسنسز کلیئر کردیے گئے ہیں جبکہ پاکستان میں خدمات سرانجام دینے والے پائلٹس کی تصدیق کا عمل ایک ہفتے میں مکمل کیا جائے گا۔
دوسری جانب برطانوی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق اسی حوالے سے پیش رفت میں امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے منگل (14 جولائی ) کو ایجنسی کی جانب سے پائلٹ سرٹیفکیشن سے متعلق خدشات کے باعث پاکستان کی ایئر سیفٹی ریٹنگ میں کمی کردی۔اس فیصلے کا انکشاف امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی ویب سائٹ پر شائع کی گئی 15 جولائی کی ایف اے اے کی اسپریڈشیٹ میں کیا گیا اور ادارے کے عہدیدار نے اس کی تصدیق کی ہے۔جس کا مطلب ہے کہ امریکی ایئر سیفٹی ایجنسی نے یہ تعین کیا ہے کہ پاکستان، بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتا اور اب اسے کیٹیگری 2 ریٹنگ حاصل ہے۔ تاہم واشنگٹن میں واقع پاکستانی سفارتخانے نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ نئی درجہ بندی کا مطلب ہے کہ پاکستان ایئرلائنز کو امریکی ایئرپورٹس پر اضافی جانچ کا سامنا ہوسکتا ہے اور وہ اضافی پروازیں شامل نہیں کرسکتیں۔
خیال رہے کہ پائلٹس کے مشکوک یا جعلی لائسنسز کے معاملے کا آغاز 24 جون کو ہوا جب قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔جس کے بعد پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو ‘مشکوک’ قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔
