پی آئی اے کے CEO نے سازش کے تحت پائلٹس کے لائسنس جعلی قرار دلوائے

قومی ایئرلائنز یعنی پی آئی اے کی تاریخ کے ناکام ترین چیف ایگزیکٹو ایئر مارشل ارشد ملک نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر پائلٹس کے جعلی لائسنسز ہونے کا جھوٹا ڈھنڈورا پیٹ کر پی آئی اے کو تباہی کی بھینٹ چڑھادیا ہے۔
قومی ایئر لائنز کے پائلٹس کی ایسوسی ایشن نے الزام لگایا یے کہ اپنی تنخواہ میں سو گنا اضافہ کرنے اور ائیر فورس کے باوردی دوست افسران کو پی آئی اے میں بھرتی کرانے کیلیے ارشد ملک نے پائلٹس کے جعلی لائسنسز کا جھوٹا سکینڈل اچھالا جسکے نتیجے میں نہ صرف قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا بلکہ ملکی ایوی ایشن کی صنعت دنیا بھر میں مذاق بن کر رہ گئی اور اب پی آئی اے کے جہازوں پر امریکہ اور یورپ میں داخلے پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ سکینڈل اچھالنے کا بنیادی مقصد پی آئی اے کے ان پائلٹس سے چھٹکارہ حاصل کرنا تھا جنہوں نے ارشد ملک کی تعیناتی کے خلاف مہم چلا رکھی تھی اور عدالتوں سے بھی رجوع کر رکھا تھا۔ بعد ازاں اعلی سطحی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ اسکینڈل جھوٹ پر مبنی تھا۔
یاد رہے کہ ایئرمارشل ارشد ملک کو ایک اہم عسکری شخصیت کی سفارش پر وزیراعظم عمران خان نے ائیر فورس کا ملازم ہونے کے باوجود قومی ایئرلائنز میں با وردی سی ای او لگایا تھا، ریٹائرڈ ائیرمارشل اپنے ساتھ ائیر فورس سے مزید ۱۲ افراد کو بھی غیر قانونی طریقے سے ڈپیوٹیشن پر لے کر آئے۔ موصوف کو آرمی چیف قمر باجوہ کا قریبی رشتےدار ہونے کی وجہ سے روکنے والا کوئی نہ تھا یہاں تک کے وزیر اعظم بھی ان کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ لیخن اس باوردی ایئرمارشل نے تھوڑے ہی عرصے میں قومی ایئرلائنز کو تاریخ کے بدترین بحرانوں سے دوچار کردیا، ریٹائرڈ ایئر مارشل کی تعیناتی کو سندھ ہائیکورٹ نے ایئر فورس کا حاضرسروس ملازم ہونے کی وجہ سے غیر قانونی قرار دیا تو سپریم کورٹ نے ایک ماہ کا حکم امتناع دے کر اسے تحفظ فراہم کیا، پانچ ماہ تک طاقتور اداروں کی مداخلت کی وجہ سے کیس کی کوئی تاریخ ہی مقرر نہیں کی گئی جو کے سپریم کورٹ کی طرف سے قوانین کی دھجیاں اڑانے کے مترادف تھا۔
پھر جولائی 2020 میں ائیر مارشل کے ریٹائر ہونے پر ڈیپیوٹیشن قوانین غیر موثر ہونے کے باوجود حکومت نے دوبارہ غیر قانونی طور پر ارشد کو چئیرمین پی آئی اے تعینات کر دیا۔ نا صرف ریٹائر ائیر مارشل بلکہ اُسکے ساتھ ائیر فورس سے آئے ہوئے درجن بھر حواریوں کو بھی ایئر فورس سے ریٹائرمنٹ کے بعد غیر قانونی طور پر پی آئی اے میں تعینات کروایا گیا جسکے خلاف کیس اسوقت لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ریٹائرڈ ائیر مارشل نے مبینہ طور پر اپنے خلاف کیس لڑنے والے پائلٹ مدعیوں کو ڈرانے کے لیے ایک ایجنسی کو استعمال کیا یہاں تک کہ ایجنسی کے ذریعے کچھ پائلٹس کو اغوا کیا گیا اور کہا گیا کہ وہ ارشد ملک کے خلاف دائر کیس واپس لے لیں۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ریٹائرڈ ائیر مارشل ارشد ملک کے غیر قانونی طور پر ائیر فورس سے آئے ہوئے ساتھی آفیسر ائیر کموڈور عامر الطاف ، ونگ کمانڈر کامران انجم ، ائیر کموڈور شاھد قادر اور ائیر کموڈور جواد ظفر نے اپنی ذات کے لیے تنخواہ اور دیگر مرعات خود مقرر کیں ۔ جبکہ ونگ کمانڈر کامران وغیرہ نے مبینہ طور پی آئی اے میں خواتین کو ہراساں کرنا بھی شروع کر دیا اور بات نا ماننے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں جس کے شواہد اب منظرعام پر آچکے ہیں جبکہ ائیر کموڈور جواد ظفر کو بغیر اشتہار اور میرٹ کے سی او او تعینات کر دیا گیا ۔ پھر ائیر مارشل ارشد ملک نے خود اپنی تنخواہ میں بھی سو گناہ اضافہ کر دیا اور 20 لاکھ روپے ماہانہ سے زائد گھر لیجانے لگے۔ اسکے علاوہ انہوں نے پی آئی اے کا ہیڈ آفس کراچی سے اسلام آبد منتقل کر دیا کیوںکہ موصوف کی رہائش اسلام آباد میں ہے، ریٹائرڈ ایئرمارشل نے اپنے ایئر فورس کے ریٹائرڈ پائلٹ دوستوں کو قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی ایئر لائن میں براہ راست بھرتی کروانے کی کوشش کی جب بات نہ بن سکی تو ارشد ملک نے اپنے دوست اور جونیر آفیسر جو کے سی اے اے میں خود ڈیپیوٹیشن پر تھے اور جن کا نام ایئر کموڈور ناصر رضا ہمدانی ہے، کے ساتھ مل کر پائلٹ کے خلاف جعلی لائسنس والا کھیل رچایا جو بعد میں غلط ثابت ہوا لیکن اُس وقت تک مُلک اور قومی ائیر لائن دونوں کا نا قابل تلافی نقصان ہو چکا تھا۔
خیال رہے کہ 31 دسمبر 2019 کو سندھ ہائی کورٹ نے قومی ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو افسر ایئر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی کو غلط قرسر دے خر انہیں کام کرنے سے روک دیا تھا اور ادارے میں نئی بھرتیوں، ملازمین کو نکالنے اور تبادلے پر بھی پابندی لگادی تھی۔ سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ایئر مارشل ارشد ملک کو کام کرنے اور پی آئی اے میں خرید و فروخت، پالیسی سازی اور ایک کروڑ سے زائد کے اثاثے بھی فروخت کرنے سے روک دیا تھا۔بعد ازاں ایئر مارشل ارشد محمود نے اپنے خلاف سندھ ہائی کورٹ کا عبوری فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔ مذکورہ درخواست میں وفاق، کابینہ ڈویژن اور وزارت سول ایوی ایشن کو فریق بنایا گیا تھا اور استدعا کی گئی تھی کہ انہیں عہدے پر بحال کیا جائے۔21 جنوری کو عدالت عظمیٰ نے ارشد ملک کی بحالی کی درخواست مسترد کردی تھی اور سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی تھی۔
واضح رہے کہ ایئر مارشل ارشد ملک کے خلاف ایئر لائنز سینئر اسٹاف ایسوسی ایشن (ساسا) کے جنرل سیکریٹری صفدر انجم نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس عہدے کے لیے ایئر مارشل ارشد ملک تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتے اور ان کا ایئر لائن سے متعلق کوئی تجربہ نہیں ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایئر مارشل ارشد ملک نے 1982 میں بی ایس سی کیا اور اس کے بعد وار اسٹیڈیز سے متعلق تعلیم حاصل کی تاہم انہیں ایئر لائن انڈسٹری اور کمرشل فلائٹس سے متعلق سول ایوی ایشن قوانین سے کچھ آگاہی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں 19 مارچ کو عدالت عظمیٰ ننے کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے انہیں اپنے عہدے پر بحال کردیا تھا۔
