پی ایس ایل گانے پر تنقید شعیب اختر کو مہنگی پڑ گئی


پاکستان سپر لیگ کے چھٹے سیزن کے آفیشل گیت ’گروو میرا‘ پر اسپیڈ اسٹار شعیب اختر کی جانب سے کی جانے والی شدید تنقید اور اسے ایک پھدو گانا قرار دینے کے بعد شوبز شخصیات اس گانے اور گلوکاروں کے دفاع میں سامنے آ گئی ہیں، اور شعیب اختر کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ 20 فروری سے شروع ہونے والے پاکستان سپر لیگ کے چھٹے سیزن کا آفیشل گیت ’گروو میرا‘4 منٹ کے دورانیے پر مشتمل ہے جسے نصیبو۔لال نے گایا یے۔ اسکی ویڈیو 6 فروری کو ریلیز کی گئی تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی جس پر عوامی سطح پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سابق پاکستانی فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے اس گانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ سے سوال کیا کہ اتنا ہندو اور فارغ قسم کا گانا بنانے کا آئیڈیا کس کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے بہتر گانا تو میں بنا لیتا اور شاید پی ایس ایل کی تاریخ میں اس سے برا گیت نہیں بنایا گیا۔
واضح رہے کہ رواں برس نوجوان نسل میں کھیل اور گانوں کی مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایس ایل کے آفیشل گیت میں ہپ ہاپ بینڈ ینگ اسٹنرز کے ارکان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ لیکن شعیب اختر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ‘گروو میرا’ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں انہوں نے پی ایس ایل کے ترانے کو ایک بری کمپوزیشن قرار دیا تھا۔ انہوں نے گانے کی موسیقی ترتیب دینے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟۔ شعیب اختر نے دعویٰ کیا کہ اس گانے کی وجہ سے ان کے بچے ڈر گئے اور 3 دن سے ان سے بات نہیں کررہے کیوں کہ انہوں نے اپنے بچوں کو یہ گانا سنایا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گانا گانے والوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ گروو کا مطلب کیا ہوتا ہے’۔ شعیب اختر نے پی ایس ایل 6 کے ترانے پر تبصرے کی 9 منٹ کے دورانیے کی ویڈیو اپنے یوٹیوب چینل پر شیئر کی ہے جس میں اس ترانے پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ ان کی یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اکثر افراد نے شعیب اختر پر برہمی کا اظہار کیا جن میں اداکارہ انوشے اشرف بھی شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ گانا پسند نہ آنا ایک چیز اور فنکاروں، موسیقاروں کو اس طریقے سے نیچا دکھانا الگ چیز ہے۔ انوشے اشرف نے لکھا کہ میں شعیب اختر کی بہت بڑی مداح ہوں لیکن ان کی تنقید جائز نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شعیب اختر کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے کچھ دوستوں، مداحوں اور اہل خانہ کو بھی یہ گانا پسند آیا ہے۔ انوشے نے مزید کہا کہ اختلاف رائے کرنا ٹھیک ہے لیکن کسی کے کام کی تضحیک کرنا ٹھیک نہیں، آپ کو گانا پسند نہیں آیا تو ٹھیک ہے، لیکن اس طرح نفرت کا اظہار کرنا کُول نہیں ہے۔
اداکار فیصل قریشی نے ٹوئٹ کی کہ ہم کب چیزوں کو اس کے تناظر میں رکھنا اور اس کے مطابق ردعمل ظاہر کرنا سیکھیں گے؟۔ انہوں نے لکھا کہ گانے پر نفرت دکھائی جارہی ہے؟ اسپورٹس کا جذبہ دکھائیں اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کی خوشی منائیں۔ فیصل قریشی نے کہا کہ میرا ذاتی خیال ہے کہ نصیبو لال عوام میں بہت مقبول ہیں اور وہ اپنے ‘گروو’ اور اونچے سُروں سے اسٹیڈیم میں چھا جائیں گی۔
دوسری جانب عدنان صدیقی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ہم فنکاروں کےلیے کم از کم جو کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ان کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے لکھا کہ کی بورڈ کا استعمال کرکے تنقید کرنا اور کسی کی محنت کی دھجیاں بکھیر دینا بہت آسان ہے۔ عدنان صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم کیسے نصیبو لال کے گائے ہوئے گانے بھول گئے جو انہوں نے ہمیں دیے، ‘گروو میرا’ اس طرح تنقید کا مستحق نہیں۔
دوسری جانب گلوکار و اداکار فرحان سعید نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ شعیب اختر کی رائے ہے، ٹھیک ہے، ان کا حق ہے لیکن یہ احمقانہ خیال ہے کہ یہ رائے میری بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ گانا اسٹیڈیمز میں چھا جائے گا، ذوالفقار جے خان، آئمہ بیگ اور نصیبو لال نے بہترین کام کیا ہے۔ اداکار نوید رضا نے شعیب اختر سے کہا کہ وہ چیزوں کو سراہنا سیکھیں، انہوں نے کہا کہ بدترین وائرس یہ ہے کہ ایک انسان، دوسرے کو انسان نہ سمجھے، احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ اداکار و گلوکار ہارون شاہد نے بھی شعیب اختر کے تبصرے پر ردعمل دیا۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ میں شعیب اختر کی تنقید پر کچھ نہیں کہوں گا لیکن جب انہوں نے گانے کی عکس بندی پر بات کی ہے تو اسی حوالے سے بات کرتے ہیں۔ ہارون راشد نے کہا کہ شعیب اختر انگریزی میں تبصرہ کرتے ہیں تو بدقسمتی سے کوئی ایک جملہ بھی ایسا نہیں ہوتا جس میں گرامر کی غلطیاں نہ ہوں۔ ہارون راشد نے مزید کہا کہ شعیب اختر نے نوجوان موسیقاروں کی اس طرح سے توہین کرنے کی ہمت بھی کیسے کی!۔ انہوں نے پنجابی میں تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ایڈے تسی اے آر رحمٰن۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button