پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کا جھوٹے موقف کیساتھ استعفوں پر یوٹرن


یوٹرن کے شہنشاہ عمران خان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی جماعت کے 10 اراکین قومی اسمبلی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ریلیف مانگ لیا ہے جن کے استعفے قبول ہو چکے ہیں اور ان پر ضمنی انتخابات کا شیڈول بھی جاری ہوچکا ہے۔

ان 10 ارکان کا موقف ہے کہ انھوں نے سپیکر کے سامنے پیش ہو کر یہ تسلیم نہیں کیا کہ انہوں نے استعفیٰ دیا ہے جبکہ استعفے خالصتاً سیاسی بنیاد اور پارٹی ہدایات پر دیے گئے تھے جنہیں قانون کی نظر میں استعفیٰ نہیں کہا جا سکتا۔ لہٰذا انکا موقف ہے کہ سپیکر ان کے استعفے منظور نہیں کر سکتے۔ تاہم پی ٹی آئی اراکین کا یہ موقف اس لیے شرمناک اور افسوسناک ہے کہ پچھلے چھ ماہ سے عمران خان مسلسل یہ واویلا کر رہے تھے کہ اسپیکر قومی اسمبلی انکے اراکین اسمبلی کے استعفے منظور نہیں کر رہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے استعفوں کی منظوری کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن بھی دائر کی تھی جسے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مسترد کردیا تھا اور قرار دیا تھا کہ یہ فیصلہ اسپیکر نے کرنا ہے۔

لیکن اب نہایت بے شرمی سے اپنے سابقہ موقف پر یو ٹرن لیتے ہوئے تحریک انصاف کے ان 10 اراکین اسمبلی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اپنے استعفوں کی منظوری کو چیلنج کر دیا ہے اور ریلیف مانگ لیا ہے جس کے بعد یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ عمران خان استعفوں کے معاملے پر یو ٹرن لیتے ہوئے قومی اسمبلی میں واپس جانے کا سوچ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے دس ارکان قومی اسمبلی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ استعفوں سے متعلق سپیکر قومی اسمبلی انہیں بلا کر سنیں۔ارکان نے پی ٹی آئی کے کراچی سے رکن اسمبلی شکور شاد کے کیس کی طرح ریلیف لینے کے لیے استدعا کی ہے اور کہا ہے کہ عدالت قومی اسمبلی کے سپیکر کو ہدایت دے کہ وہ استعفوں کی منظوری سے متعلق اپنی آئینی ذمے داری پوری کریں۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت سپیکر کو حکم دے کہ وہ درخواست گزاروں اور دیگر 112 ارکان کو بلائے۔سپیکر تحقیق کریں کہ جن اراکین نے استعفے دیے، انہوں نے آرٹیکل 64 کے تحت اپنی مرضی سے استعفے دیے یا یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ انکاموقف ہے کہ قانون کے مطابق درخواست گزاروں کو سنے بغیر سپیکر انکے استعفوں سے متعلق اطمینان نہیں کر سکتا۔ ارکان قومی اسمبلی نے درخواست میں کہا کہ ابھی الیکشن کا اعلان نہیں ہوا، 123 ارکان کے استعفوں کو ایک ساتھ دیکھا بھی نہیں گیا اس لیے درخواست گزاروں کا استعفوں سے متعلق خط مؤثر نہیں رہا۔

رکن اسمبلی شکور شاد کا استعفیٰ منظور ہوا تو انہوں نے درخواست دی کہ سپیکر نے سنے بغیر استعفیٰ منظور کر لیا ہے جس پر ہائی کورٹ نے ان کا استعفیٰ منظوری کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔تحریک انصاف کے دس رکن اسمبلی کا موقف ہے کہ درخواست گزار سپیکر کے سامنے پیش نہیں ہوئے، اس لیے ان کے استعفے منظور نہیں کیے جا سکتے۔

تاہم تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کا موقف جھوٹ پر مبنی ہے چونکہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے استعفیٰ دینے والے تمام اراکین کو فردا ًفرداً تصدیق کے لیے بلایا تھا لیکن عمران خان نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کوئی بھی رکن اسمبلی پیش نہیں ہوگا۔ ایسے میں دس ارکان اسمبلی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے جو مؤقف اختیار کیا گیا ہے وہ جھوٹ پر مبنی ہے اور اس سے عدالت خود بھی آگاہ ہے۔ ہائی کورٹ میں اپنے استعفوں کی منظوری کا فیصلہ واپس لینے کے لیے درخواست دینے والوں میں علی محمد خان، فضل محمد خان، شوکت علی، ڈاکٹر شیریں مزاری، ڈاکٹر شاندانہ گلزار، فخر زمان خان، فرخ حبیب، اعجاز شاہ، جمیل احمد اور محمد اکرم شامل ہیں۔ پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے درخواست میں کہا گیا ہے کہ استعفوں سے متعلق 25 ستمبر کو سوشل میڈیا پر آڈیو لیک ہوئی تھی جس میں وزیراعظم، کابینہ ارکان اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو نواز شریف سے استعفوں کی منظوری لینے کا سنا جا سکتا ہے۔ انکاکہنا ہے کہ آڈیو لیک کا ریکارڈ اور ٹرانسکرپٹ بھی پٹیشن کے ساتھ جمع کرا دیا گیا۔ اس آڈیو لیک کی تردید نہیں کی گئی بلکہ 27 ستمبر کی پریس کانفرنس میں اسے تسلیم کیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’اس سے ان کے مؤقف کی تائید ہوتی ہے کہ ان کے استعفوں کو قانونی طور پر درست انداز میں پراسیس نہیں کیا گیا۔ سپیکر کے سامنے پیش نہ ہونے پر 112 ارکان اسمبلی کے استعفے تاحال منظور نہیں کیے گئے۔

پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ یہ موقف اپنایا ہے کہ انکے استعفے خالصتاً سیاسی بنیاد اور پارٹی ہدایات پر دیے گئے تھے جنہیں قانون کی نظر میں استعفیٰ نہیں کہا جا سکتا۔‘ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ استعفوں کا مقصد تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں بننے والی حکومت کو الیکشن کی تاریخ کے اعلان پر راضی کرنا تھا اسلئے انتخابات پر مجبور کرنے کے لیے دیے گئے استعفوں کو قانون کی نظر میں استعفیٰ نہیں مانا جا سکتا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپیکر نے قانون پر عمل درآمد کیے بغیر 12 ارکان کے استعفے منظور کیے جو غیر آئینی اقدام ہے۔ پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے دی گئی درخواست میں سپیکر قومی اسمبلی، سیکرٹری قومی اسمبلی، الیکشن کمیشن اور وفاق کو بذریعہ سیکرٹری کابینہ ڈویژن فریق بنایا گیا ہے۔

Back to top button