پی ٹی آئی لیڈران کو کلین چٹ: نیب ننگا ہو گیا


نئے پاکستان میں بلا امتیاز احتساب کا دعویٰ ایک مرتبہ پھر تب جھوٹا ثابت ہوگیا جب نیب نے وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کو مالم جبہ سکیئنگ چیئرلفٹ ریزورٹ کیس میں کلین چٹ دے دی جسکے بعد نیب کی ساکھ کا بحران بھی مزید گہرا ہوگیا ہے۔
اسٹیبلشمٹ اور تحریک انصاف حکومت کے ایما پر سیاسی انجنیئرنگ کرنے اور اپوزیشن رہنمائوں کو رگڑا دینے والے نام نہاد قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کو 275 ایکڑ پر مالم جبہ اسکیئنگ چیئرلفٹ ریسورٹ کیس میں رواں سال مارچ میں پشاور ہائی کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں 28 جولائی کو کلین چٹ دی۔ نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت بیورو کی ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ سمن گروپ کی رٹ پٹیشن پر مالم جبہ کیس میں پشاور ہائی کورٹ نے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا جس کی سربراہی خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے کی، کمیٹی نے ٹینڈرنگ کے عمل میں کچھ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی تھی۔ نیب کی ایگزیکٹو بورڈ کمیٹی اجلاس کے بعد نیب ہیڈ کوارٹر کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ عہدیداروں کو سماعت کے بعد قانون کے مطابق محکمہ جاتی کارروائی کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری کو بے ضابطگیوں کا ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم عدالت کی جانب سے کسی بھی قسم کا حکم امتناع جاری ہو تو کیس کو مجازی اتھارٹی کی منظوری کے بعد اٹھایا جاسکتا ہے۔ تاہم دوسری جانب نیب کے ایک سینئر عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بیورو نے خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں اس کیس کو بند کردیا ہے کیونکہ اس معاملے میں کوئی بے ضابطگی نہیں پائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کے خلاف الزامات میں سے ایک الزام یہ ہے کہ قیمتی اراضی کے لیز کی مدت 15 سے بڑھا کر 30 سال کردی گئی لیکن کمیٹی کی سفارشات میں بتایا گیا ہے کہ اس توسیع کو کے پی کی کابینہ نے منظور کیا تھا۔ عہدیدار نے بتایا کہ کمیٹی کو ٹینڈرنگ کے عمل میں چند بے ضابطگیاں دکھائی دیں تاہم یہ معاملہ نیب کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ اسی وجہ سے اس کیس کو صوبائی حکومت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور الزام یہ تھا کہ سمن گروپ، جس فرم نے لیز حاصل کی تھی، اور اس کے پاس ریزورٹ چلانے کی صلاحیت نہیں تھی، تاہم کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ اس ادارے نے نہ صرف ہوٹل کی تعمیر اور ریزورٹ کی ترقی کو بروقت مکمل کیا بلکہ وہ اسے چلا بھی رہا تھا اور خیبر پختونخوا حکومت کو باقاعدگی سے کرایہ بھی ادا کررہا تھا۔ لہذا نیب کے خیال میں اس معاملے میں قومی خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہوا اور اس وجہ سے کیس کو بند کر دیا گیا ہے۔ تاہم نیب کا۔موقفہے کہ اگر عدالت کی طرف سے کوئی حکم امتناع آ گیا تو نیب دوبارہ کیس اٹھائے گا۔
خیال رہے کہ 2018 میں جب کے پی کے وزیر اعلی نے یہ دعوی کیا تھا کہ نیب نے انہیں ‘کلین چٹ’ دے دی ہے تو احتساب بیورو نے فوری رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دعویٰ سچ نہیں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مالم جبہ اراضی کو والیِ سوات نے تحفہ میں دیا تھا اور اراضی کو لیز پر دینے کا اقدام 2014 میں کیا گیا تھا تاہم اس معاہدے میں کسی قسم کی کوتاہیوں کا معلوم ہونے پر محکمہ جنگلات نے بعد میں اس لیز کو منسوخ کردیا تھا۔
وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے ایک خط میں دعوٰی کیا تھا کہ لیز کی مدت 33 سال اور اس کی توسیع کے لیے مزید 20 سال اس اشتہار میں اور منصوبے کے ٹرمز آف ریفرنس یا ٹی او آر میں بھی ذکر کیے گئے ہیں۔اس ٹی او آر کو اس وقت کے وزیر اعلی پرویز خٹک نے 27 فروری 2014 کو منظور کیا تھا۔ اس کی بنیاد پر نجی پارٹیوں نے اس پروجیکٹ کے حصول کے لیے اپنی بولی یا تجاویز چیف سکریٹری کے ذریعہ نوٹیفائی کردہ کمیٹی کو پیش کیں۔ خط میں کہا گیا کہ یہ سمجھا جانا چاہیے کہ کمیٹی اور وزیراعلیٰ نے لیز پر عام حکومت کی پالیسی کے باوجود موجودہ لیز کی مدت کو ایک خاص کیس کے طور پر طے کیا ہے۔ خط میں کہا گیا کہ ‘یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سب سے زیادہ بولی لگانے والے نے 33 سال کے ابتدائی لیز کی مدت کے دوران سالانہ 10 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کی پیش کش کی ہے جس میں مزید توسیع کے لیے زیادہ سے زیادہ 25 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کی قیادت کا الزام ہے کہ چیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال ایک جانبدار اور متنازع شخصیت ہیں جنہیں نیب کا سربراہ رہنے کا حق نہیں۔ نواز لیگ کا کہنا ہے کہ محض انکوائری کے لئے اپوزیشن قیادت کو بار بار طلب کرنے والی نیب نے مالم جبہ کیس میں کے پی کے وزیر اعلیٰ محمود خان کو صرف ایک بار بلوایا اور کلین چٹ دے دی۔ لیگی قیادت کا کہنا ہے کہ دراصل طیبہ گل کے ساتھ قابل اعتراض ویڈیو لیک ہونے کے بعد سے چیئرمین نیب بلیخ میل ہو کر مکمل طور پر عمران خان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔

Back to top button