پی ٹی آئی قافلہ 26 نمبر چونگی پہنچ گیا، پولیس کی شدید شیلنگ

پی ٹی آئی کا مرکزی قافلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے،جو اسلام آباد انٹرچینج کراس کر کے 26 نمبر چونگی پہنچ گیا، جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنےکےلیےشدید شیلنگ کی گئی۔
کٹی پہاڑی پر موجود پولیس اہلکاروں پرتشدد کیا گیاجبکہ کارکنوں نےپولیس اہلکاروں سےشیلزاورگن بھی لےلیں۔علی امین گنڈا پورنےپنجاب پولیس کے اہلکاروں کو چھڑوایا۔
قبل ازیں غازی بروتھاپل پرپولیس کی جانب سےقافلے پربدترین شیلنگ کی گئی۔ ہزارہ انٹر چینج پرعمر ایوب کےقافلے نےپنجاب پولیس کوپیچھے دھکیلاجس کے بعد علی امین ہزارہ ڈویژن کےقافلے کو پنجاب پولیس کےحصارسےنکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ہزارہ ڈویژن کےقافلے کے مرکزی قافلے میں شامل ہونےکےبعد 2 کلومیٹر تک گاڑیاں موجود ہیں۔
ہزارہ موٹروےپرپی ٹی آئی نےپولیس کوپسپا کردیا،شدید پتھراؤ اورجھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکارزخمی جبکہ دوشدیدزخمیوں کواسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ڈی ایس پی پیڑولنگ راولپنڈی چوہدری ذوالفقار،ڈی ایس پی پیڑولنگ جہلم شاہد گیلانی اور اےایس آئی اٹک تبسم بھی شدید زخمی ہوگئے۔ڈی ایس پی چوہدری ذوالفقار کوکمراورٹانگوں پرشدید چوٹیں آئیں۔
پشاور کی جانب سےآنے والے علی امین گنڈاپور کےقافلےکےشرکاءاورہزارہ کی جانب سے آنے والےقافلےکےشرکاءنےایک ساتھ پولیس پرہلابولا،پولیس کےپسپا ہوتےہی قافلے کےشرکاءنےاسلام آباد کی جانب پیش قدمی شروع کردی۔
پی ٹی آئی مظاہرین اورپولیس کے مابین جھڑپوں کے دوران آتشی اسلحے کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔فائرنگ مبینہ طور پرمظاہرین میں سےکی گئی۔
ٹی ایچ کیو اسپتال لائے گی زخمی پولیس اہلکاروں میں دوگولیاں لگنے سےزخمی ہوئے جبکہ سرگودھا پولیس کا اہلکار سمیع اللہ بائیں ٹانگ میں گولی لگنےسے شدید زخمی ہوا۔
فیصل آباد سےتعلق رکھنے والا ایک پولیس اہلکار گردن میں گولی لگنے سےشدید زخمی ہوا، گردن میں گولی لگنےوالےشدید زخمی اہلکار کوڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال راولپنڈی ریفرکردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق صحافیوں کےروپ میں پی ٹی آئی کےیوٹیوبراورسوشل میڈیا اکٹویسٹ کو بھی گرفتار کرنےکا فیصلہ کیا گیاہے۔
پی ٹی آئی کےیہ کارکن صحافیوں کےروپ میں ڈی چوک میں پولیس کی مکمل حکمت عملی سےلیڈر شپ کوآگاہ کر رہےتھے۔
ضلع اٹک ہزارہ موٹروے پر مظاہرین اورپولیس میں شدید جھڑپیں جاری ہیں، مظاہرین نے ہزارہ موٹروے پل کا کنٹرول سنبھال لیاجہاں مظاہرین کے پتھراؤ سے 4 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
مظاہرین پل پر رکھے کنٹینرز ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ہزارہ موٹروے پر 2 پرائیوٹ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔
میانوالی سے آنے والا قافلہ سی پیک روٹ پر ڈھوک مسکین کے قریب موجود ہے، مظاہرین کو ہکلہ انٹرچینج پر شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔
مظاہرین پولیس سے ٹکراؤ میں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے تاہم مظاہرین کی بڑی تعداد سی پیک روٹ مہلو گاؤں کے قریب موجود ہے۔ مظاہرین کی جانب سے پیش قدمی کی صورت میں پولیس ایکشن پھر ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو میں عمر امین گنڈاپور نےکہا کہ ہم کشتیاں جلا کر نکلے ہیں ہر صورت پر ڈی چوک پہنچ جائیں گے۔اس وقت جنوبی اضلاع کے قافلے کی قیادت عمر امین گنڈاپور کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ پختون یار خان بھی ان کے ہمراہ ہیں۔
