پی ٹی آئی کا مولاناکے ساتھ ملکر حکومت کیخلاف تحریک کااعلان

 تحریک انصاف  نے جے یو آئی کےسربراہ  مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف جلد تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی و رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر کا نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ’حکومت کو ان ہاؤس تبدیلی یا نئے الیکشن کے ذریعے ختم کرنے کا آپشن ہے، تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمٰن اب دور نہیں رہ سکتے، مولانا فضل الرحمٰن اور ہمارا ایجنڈا ایک ہے اور ان کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف جلد تحریک شروع کریں گے۔ انہوں نے 2018 کی حکومت لینے کو غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ماضی کی حکومت لینا تحریک انصاف کی غلطی تھی، ہمیں کمزور حکومت نہیں لینی چاہیے تھی، ہمیں صوبائی اسمبلیاں نہیں توڑنی چاہیے تھیں، میری رائے تھی کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں بھی نہیں توڑنی چاہیے تھیں۔‘

اسد قیصر نے معافی کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے مطالبے کو غیر آئینی قرار دے دیا۔اسٹیبلشمنٹ سے معافی کا کوئی تصور بھی نہیں ہے، ادارے کا معافی کا مطالبہ غیر آئینی ہے، ادارے کو اس طرح سرعام بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ملک میں اس وقت سول مارشل لا ہے، آئین اور قانون نام کی کوئی چیز نہیں، سروے کروا لیں 99 فیصد عوام اس حکومت کو جعلی اور مینڈیٹ چور سمجھتی ہے۔’

سابق سپیکر نے کہا کہ میرے الفاظ نوٹ کرلیں، (ن) لیگ مزید حکومت میں رہی تو اس کی حیثیت مسلم لیگ (ق) سے بھی کم ہوگی، نواز شریف دیکھ رہے ہیں کہ ان کی پارٹی ختم ہو رہی ہے، شہباز شریف کو معلوم ہے کہ وہ، ان کا بھائی اور بھتیجی انتخاب ہار چکے ہیں جبکہ مریم نواز شریف ناجائز وزیراعلی پنجاب ہیں۔‘

Back to top button