پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں ملنا ممکن کیوں نہیں؟

عام انتخابات سے قبل بلے سے محروم ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی مشکلات الیکشن کے بعد بھی کم ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔ الیکشن میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین کی فتح کے باوجود جہاں تحریک انصاف حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے وہیں پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں خواتین اور مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے مجلس وحدت المسلمین میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے مجلس وحدت المسلمین میں شمولیت کے باوجود تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں ملنا ممکن دکھائی نہیں دیتا کیونکہ الیکشن ایکٹ کے مطابق مختص وقت میں مجلس وحدت المسلمین کی جانب سے مخصوص نشستوں کی فہرست جمع نہ کروانے کی وجہ سے تحریک انصاف مخصوص نشستیں حاصل نہیں کرسکے گی۔
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشار نے اس حوالے سے بتایا کہ اس معاملے پر قانونی سقم موجود ہے اور اس سقم کی وجہ سے معاملہ الیکشن کمیشن کی صوابدید یا پھر سپریم کورٹ میں بھی جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا الیکشن ایکٹ کا سیکشن 104 سب سیکشن 4 کا سہارا لے کر تحریک انصاف فہرست جمع کرواسکتی ہے تاہم یہ صوابدید الیکشن کمیشن کی ہوگی کہ وہ پی ٹی آئی کی فہرست کو منظور یا مسترد کردے۔انہوں نے کہا کہ ’میری ذاتی رائے ہے کہ پی ٹی آئی اسی قانونی نقطے کو لے کر سپریم کورٹ جاسکتی ہے اور وہاں سے ان کو مخصوص نشستیں حاصل کرنے میں کامیابی بھی مل سکتی ہے‘
خیال رہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کا سیکشن 104 مخصوص نشستوں سے متعلق ہے، جس کا سیکشن ون واضح ہے کہ مخصوص نشستوں کے لیے سیاسی جماعتوں کو دیے گئے وقت کے اندر الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں اور اس فہرست میں کوئی تبدیلی، اضافے یا نام کا اخراج نہیں کیا جاسکے گا۔ تاہم الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 سب سیکشن 04 کہتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے جمع کرائی گئی فہرست ختم ہوجائے ایسی صورت میں سیاسی جماعت خالی رہ جانے والی نشست کو پر کرنے کے لیے نام دے سکتی ہے، اس صورت میں سیکشن 1،2، اور 3 جس حد تک ممکن ہے لاگو ہوگا۔تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی الیکشن ایکٹ کے اسی سیکشن کے ساتھ پر امید ہے کہ انہیں مخصوص نشستیں مل جائیں گی۔ دوسری جانب پتن کے سربراہ سرور باری کہتے ہیں کہ قانون میں واضح ہے کہ سیاسی جماعت کو مخصوص نشستوں کے لیے طے کردہ مدت کے اندر فہرست جمع کروانا ہوگی اور اس میں اضافہ یا ترمیم نہیں ہوسکتی۔
خیال رہے کہ مجلس وحدت المسلمین نے انتخابات سے قبل خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے صرف دو خواتین کے نام دیے تھے جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 92 اراکین کی نسبت سے تحریک انصاف کو 20 سے 25 مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں لیکن وہ پر کیسے ہونگی اس پر سوالیہ نشان موجود ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری اشتیاق احمد کا کہنا ہے کہ اگر کوئی آزاد امیدوار پارلیمان میں موجود کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرتا بھی ہے تو اس جماعت کی طرف سے مخصوص نشستوں کے لیے جو لسٹ فراہم کی گئی تھی اس میں کوئی ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر صرف اسی لسٹ کو فوقیت دے گا جو اس سیاسی جماعت نے انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی ہو۔
تاہم بعض مبصرین کے مطابق سیاسی جماعتوں کی طرف سے مخصوص نشستوں پر ناموں کی فہرست، انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ تک جمع کروائی جا سکتی ہے ۔ تاہم الیکشن رولز میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اگر کسی جماعت کو عام انتخابات میں اس کی توقع سے زیادہ سیٹیں مل جائیں تو وہ مخصوص نشستوں کے لیے الیکشن کمیشن میں پہلے سے جمع کروائی گئی لسٹ پر نظرثانی کی درخواست دائر کر سکتا ہے۔تاہم سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اس لسٹ پر نظرثانی کرنے کا اختیار نہیں ہے تاہم پاکستان تحریک انصاف کو اس ضمن میں صرف عدالتوں سے ہی ریلیف مل سکتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں اگر وہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے پہلے انٹراپارٹی انتخابات کروائیں اور اس کے بعد وہ متعقلہ فورم کو اس حوالے سے درخواست دیں۔
دوسری جانب تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو مجلس وحدت المسلمین میں شامل کرنے کا مقصد سیاسی سے زیادہ قانونی ہے اور شاید پی ٹی آئی کی قیادت یہ سوچ رکھتی ہے کہ اس شمولیت سے ان پر سے ’آزاد‘ کا لیبل ختم ہو جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو کسی سیاسی جماعت میں ضم ہونا سیاسی طور پر سوٹ نہیں کرتا لیکن اپنے ارکان کو رولز کا پابند رکھنے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے تاکہ مستقبل میں یہ ارکان پارلیمان میں ہونے والی کارروائی میں حکومت کے کسی بل کی حمایت میں ووٹ نہ دے سکیں۔سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کی مجلس وحدت المسلیمن میں شمولیت صرف اسی صورت میں فائدہ مند ہوسکتی تھی اگر پی ٹی آئی کی قیادت کے ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اچھے ہوتے۔ تاہم جب کوئی سیاسی جماعت حزب اختلاف میں ہو تو اس وقت ان کے لیے قوانین کی تشریح مزید سخت ہو جاتی ہے اور اداروں کی طرف سے بھی انھیں کم ہی ریلیف ملتا ہے۔
