پی ٹی آئی کی اندرونی گروپنگ نے کیسے حکومت کا بیڑا غرق کیا؟

تقریباً گزشتہ دو برس سے برسر اقتدار تحریک انصاف حکومت کی بیڈ گورننس اور ہر محاذ پر ناکامی کی بنیادی وجہ پارٹی رہنماؤں کے آپسی جھگڑوں اور دھڑے بندی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مرکز، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں برسراقتدار تحریک انصاف میں گروپ بندی گڈ گورنس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی ہے، پارٹی میں موجود پانچ سے چھ تگڑے دھڑوں نے اپنے اپنے مفادات کو عزیز رکھ لیا ہے جس سے ایک طرف پارٹی یکسوئی سے محروم ہے تو دوسری جانب حکومتی کارکردگی بھی بد سے بدتر ہوگئی ہے۔
ایک بات اب طے ہے کہ حکومتی معاملات میں بد انتظامی کی اہم وجہ تحریک انصاف کی اندرونی دھڑےبندی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی جانب سے اپنے حالیہ انٹرویو میں اسد عمر، شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین پر لگائے گئے الزامات سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے حکومت پرفارم نہیں کر پا رہی۔ حکومتی ایجنڈے کے نفاذ میں گروہ بندی دیوار بنی کھڑی ہے ،پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں قیادت کے بحران اور کمزور وزرائے اعلیٰ سے تحریک انصاف میں گروپ بندی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف دوسری جماعتوں سے آنیوالوں کی دھڑے بندیوں کے باعث زیادہ انتشار کا شکار ہوئی ہے۔ اگرچہ جہانگیر خان ترین چینی سکینڈل میں مرکزی ملزم نامزد کیے جانے کے بعد کپتان کی گڈ بکس میں شامل نہیں رہے تاہم یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ تحریک انصاف میں ق لیگ کا سب سے طاقتور گروپ ہے جس کی قیادت جہانگیر ترین کرتے ہیں، فواد چوہدری، عمر ایوب خان اور پرویز خٹک کا تعلق اسی گروپ سے ہے۔ یہی نہیں بلکہ 2018 کے انتخابات کے بعد درجنوں آزاد اراکین کو تحریک انصاف میں شامل کروانے کا سہرا بھی جہانگیر ترین کے سر ہے حتیٰ کہ پنجاب کابینہ کے کئی اراکین آج بھی انہی کا دم بھرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور خسرو بختیار جنوبی پنجاب صوبہ محاز کے نمائندے تصور کئے جاتے ہیں ان میں زیادہ تر ارکان ن لیگ سے آئے ہیں اور وہ جنوبی پنجاب کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چیف سیکرٹری، اورچیئرمین پی اینڈ ڈی سمیت اہم بیورو کریٹس بھی جنوبی پنجاب سے لگائے جاتے ہیں۔
ادھر صوبائی وزیر برائے ہاؤسنگ میاں محمود الرشید اور تحریک انصاف وسطی پنجاب کے صدر اعجاز چودھری پی ٹی آئی میں جماعت اسلامی کے مائنڈ سیٹ کی نمائندگی کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ گورنر پنجاب چودھری سرور کے گروپ کا بھی اہم حصہ ہیں۔ ایک عرصے تک فواد چودھری اور اسد عمر دونوں ہی وزیراعظم کے قریب تصور کئے جاتے تھے تاہم اب اسد عمر کی کابینہ میں دوبارہ شمولیت اور ڈپٹی وزیر اعظم جیسی حیثیت میں حکومتی امور چلانے کے بعد ان دونوں میں بھی اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا دھڑا بھی خاصا مضبوط ہے، شاہ محمود قریشی پیپلز پارٹی سے پی ٹی آئی میں آنیوالوں کی نمائندگی کررہے ہیں۔ قریشی گروپ سے تعلق والے زیادہ تر رہنماؤں کا تعلق پنجاب سے ہے کیونکہ وہ تحریک انصاف پنجاب کے صدر رہ چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ شاہ محمود قریشی کی وجہ سے ہی جنوبی پنجاب صوبے کا معاملہ حل نہیں ہو پا رہا۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ شاہ محمود قریشی کی سفارش پر پنجاب کابینہ میں کی ایم پی ایز کو وزیر، مشیر اور معاون خصوصی لگایا گیا ہے۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور بھی اسی دھڑے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور مرحوم نعیم الحق بھی اسی دھڑے کا حصہ تھے۔ تاہم گزشتہ چند مہینوں کے دوران اسد عمر اور شیریں مزاری کے اس بڑے سے نکل جانے کے بعد قریشی گروپ کسی حد تک کمزور ہوا ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ اسد عمر کی پوزیشن بہتر ہوگئی ہے۔
یہی نہیں بلکہ اسی طرح مسلم لیگ (ق) چھوڑ کر آنے والے پنجاب کے صوبائی وزرا راجہ بشارت، چوہدری الدین کی وفاداریاں بھی اپنی سابق قیادت یعنی چوہدری برادران کے ساتھ ہیں اور وہ الگ گروپ چلا رہے ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک اور عاطف خان دو بڑے گروپ ہیں۔ وزیراعلیٰ محمود خان بھی پرویز خٹک گروپ سے ہیں تاہم اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر عاطف خاں کے قریب تصور ہوتے ہیں۔ چند ماہ قبل وزیر اعلی محمود خان اور وفاقی وزیر دفاع اور ویز خٹک نے عمران خان کی تائید اور حمایت سے عاطف خان شہرام ترکئی کی اور ان کے ایک ساتھی ساتھی کابینہ رکن کو ایسا فارغ کروا دیا کہ یہ ہیوی ویٹ رہنما دوبارہ نہ تو وزیر اعلیٰ محمود خان کو ٹف ٹائم دے سکے اور نہ ہی کابینہ میں جگہ بنا سکے۔
سندھ میں صدرعارف علوی ، گورنر عمران اسماعیل اور وزیر پورٹ اینڈ شپنگ علی زیدی پی ٹی آئی میں طاقتور گروپ تصور کئے جاتے ہیں ۔اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی اور حلیم عادل شیخ ایک دوسرے کے مد مقابل گروپ ہیں جبکہ بلوچستان میں ہمایوں جوگیزئی اور سردار یار محمد رند گروپ موجود ہیں جس کی وجہ سے تحریک انصاف کو بلوچستان میں بھی مسائل کا سامنا ہے۔
گزشتہ برس تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل ارشد داد خاں کی قیادت میں ایک نیا گروپ سامنے آیا تھا جس میں نئے تنظیمی عہدیدار اور الیکشن ہارنے والے شامل تھے تاہم اب ارشد داد کو سائیڈ لائن کر کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی کو اختیارات سونپ دیئے گئے ہیں۔
