پی ٹی آئی درخواستیں طلب کیے بغیر سینیٹ امیدواروں کا حتمی فیصلہ کرے گی

دوسری بڑی سیاسی جماعتوں کے برعکس حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئندہ سینیٹ انتخابات کے لیے پارٹی کے ٹکٹ کے خواہش مند افراد سے باقاعدہ درخواستیں طلب نہیں کیں۔
پی ٹی آئی نے آئندہ سینیٹ انتخابات کےلیے پارٹی ٹکٹس کے خواہش مند افراد سے باضابطہ طور پر درخواستیں وصول نہیں کیں اور امیدواروں کو مکمل طور پر وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں حال ہی بننے والے پارلیمانی بورڈ کے اراکین کی ’سفارشات‘ پر حتمی شکل دی جائے گی۔ پارٹی میں موجود ذرائع کا کہنا تھا کہ بورڈ کا پہلا اجلاس آج (جمعرات) کو ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ پارلیمانی بورڈ کے دیگر اراکین میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار، خیبرپختوبخوا کے گورنر شاہ فرمان اور وزیراعلیٰ محمود خان، سندھ کے گورنر عمران اسمٰعیل، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرتعلیم شفقت محمود اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عامرکیانی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے بورڈ کے اراکین سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے متعلقہ صوبوں سے ممکنہ امیدواروں کے نام تجویز کریں جب کہ اسد عمر کی یہ مرکزی ذمہ داری تھی کہ وہ اسلام آباد سے امیدواروں کےلیے تجاویز کو تیار کریں۔ ذرائع کے مطابق ان رپورٹس کے کہ قیادت کچھ ایسے لوگوں کو جو ’باہر والے‘ تصور کیے جاتے ہیں ٹکٹ دینے کےلیے تیار ہے پر پی ٹی آئی کی صفوں خاص طور پر پنجاب اور اسلام آباد میں ناراضی پائی جاتی ہے۔ ادھر اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے عہدیداران اور کارکنوں کے ایک گروپ نے بدھ کو ایک اجلاس منعقد کیا اور یہ اعلان کرکے کہ اسلام آباد کےلیے مختص سینیٹ کی نشستوں پر کوئی ’درآمدی امیدوار‘ تسلیم نہیں کیا جائے گا اپنے تحفظات کو سامنے رکھ دیا۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ ردعمل ان رپورٹس پر آیا کہ اسلام آباد سے جنرل نشست پر انتخاب کےلیے قیادت وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو پارٹی ٹکٹ دینے پر غور کر رہی ہے، یہی نہیں بلکہ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ قیادت وزیراعظم کے 3 مشیران بابر اعوان، شہزاد اکبر اور عبدالرزاق داؤد کو بھی پارٹی ٹکٹس دینے پر بھی غور کر رہی ہے۔ اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے 3 حلقوں سے تعلق رکھنے والے پارٹی عہدیداران اور کارکنان کے اجلاس کے بعد پی ٹی آئی کا ایک کارکن اور پاکستان بیت المال کے رکن سردار زاہد اختر کا کہنا تھا کہ صرف مقامی شخص کو اسلام آباد سے سینیٹ انتخاب لڑنےکا حق ہے اور ’درآمدی امیدواروں‘ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کے ایڈیشنل ریجنل سیکریٹری جنرل مصطفیٰ کیانی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے کارکنان کسی دوسرے صوبے سے کی امیدورار کو دارالحکومت سے پارٹی کا ٹکٹ دینے کو برداشت نہیں کریں گے۔ مذکورہ اجلاس دراصل پی ٹی آئی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عامر مغل کے امیدوار کی حمایت کےلیے منعقد کیا گیا تھا جو پارٹی ٹکٹ کےلیے کوششیں کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے عامر مغل نے تصدیق کی کہ وہ پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ وہ مذکورہ معاملے پر پارٹی کی صفوں میں ناراضی سے متعلق رپورٹس پر تبصرہ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ ٹکٹ تمام صوبوں اور اسلام آباد میں مقامی لوگوں کو دینے چاہئیں جو آئینی و قانونی ذمہ داری بھی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد کی نشستوں پر موجود دونوں سینیٹر جو 11 مارچ کو اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہورہے ہیں ان دونوں کا تعلق وفاقی دارالحکومت سے نہیں ہے۔ راحیلہ مگسی کا تعلق سندھ اور سردار یعقوب ناصر بلوچستان سے ہیں جو دونوں نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ مذکورہ صورت حال پر جب اسد عمر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ ہم نے خواہش مند امیدواروں سے درخواستیں وصول نہیں کی، پارلیمانی بورڈ کے اراکین کے ٹیلی فونز پر ٹکٹس کےلیے پیغامات اور درخواستوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ پارٹی کی سینئر قیادت بشمول وزیراعظم عمران خان نچلی سطح پر پارٹی کارکنان کو جانتے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ ایسے لوگوں میں سے کچھ کو ٹکٹس دینے پر کرسکتے ہیں جنہوں نے پارٹی ٹکٹ کےلیے درخواست تک نہیں کی لیکن قیادت سمجھتی ہے کہ یہ سینیٹ کےلیے بہترین شخص ہے۔ جب ان سے اسلام آباد میں پارٹی کی صفوں میں ناراضی سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع پر ایسی چیزیں ہوتی ہیں، تاہم اب تک ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اسلام آباد سے سینیٹ ٹکٹ کےلیے کوئی درخواست نہیں کی۔ دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی نے خواہش مند افراد سے ایک لاکھ روپے کے بینک ڈرافٹ کے ساتھ درخواستیں طلب کی تھیں جس کے جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 فروری تھی۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) نے بھی پارٹی ٹکٹس کےلیے 15 فروری تک درخواستیں طلب کی ہیں اور ہر امیدوار کےلیے درخواست کے ساتھ 50 ہزار روپے کا بینک ڈرافٹ جمع کرانا ضروری ہے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے سینیٹ ٹکٹ کےلیے کبھی رقم کےلیے نہیں کہا کیوں کہ پارٹی کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی طرح کسی مہم کو چلانے کی ضرورت نہیں تھی۔
واضح رہے کہ مارچ میں آنے والے انتخابات کے بعد حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سینیٹ میں اکیلی سب سے بڑی پارٹی بننے کو تیار ہے تاہم یہ یقینی طور پر پارلیمنٹ کے ایوان بالا کا کنٹرول حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوگی اور اسے معمولی قانون سازی کے لیے بھی اپنے اتحادیوں اور اپوزیشن جماعتوں پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔ ایوان بالا کے اراکین کے انتخابات کےلیے حلقہ بندیاں تشکیل دینے والی قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن کی بنیاد اور اگر تمام قانون ساز پالیسی کے مطابق ووٹ اپنی متعلقہ پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں تو ایک محتاط اندازے کے مطابق حکمران پی ٹی آئی کو 20 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) 6، 6 نشستیں اور مسلم لیگ (ن) 5 نشستیں جیت سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button