پی ٹی ایم کا اسمبلی کی بجائے دوسرا راستہ اپنانے پر غور

ریاست کی جانب سے بندوق اٹھانے والوں کے ساتھ مذاکرات اور پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے اپنے حقوق مانگنے والوں کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کے بعد پی ٹی ایم کی قیادت یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ کیوں نہ پارلیمانی سیاست کا دروازہ بند کر کے صرف مزاحمتی تحریک کو آگے بڑھایا جائے۔
پاکستان میں پشتون کمیونٹی کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی تحریک پشتون تحفظ موومنٹ یعنی پی ٹی ایم اپنے وابستگان کی پے در پے ماورائے عدالت ہلاکتوں کے بعد اس مخمصے کا شکار ہے کہ آیا پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے حقوق کی جدوجہد جاری رکھی جائے یا پی ٹی ایم کو ایک باقاعدہ مزاحمتی تحریک بنا کر بزور طاقت ریاست سے اپنا حق چھینا جائے۔ یاد رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ سے تعلق رکھنے والے علی وزیر اور محسن داوڑ اس وقت ممبران قومی اسمبلی ہیں جنہیں پچھلے ایک برس میں میں کئی مرتبہ گرفتار اور رہا کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والے ایک طاقتور دھڑے کا خیال ہے کہ پاکستانی ریاست صرف ہتھیار اٹھانے اور مزاحمت کرنے والوں کی بات سنتی ہے اور یہ کہ پارلیمنٹ کے منتخب پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنے کا مثبت نتیجہ نہیں نکلا بلکہ ریاست کی ناک کے عین نیچے غیر ریاستی عناصر یا اچھے طالبان کھلم کھلا قوم پرست پشتون رہنمائوں کو قتل کرنے میں مصروف ہیں۔ یاد رہے کہ پارلیمانی سیاست کے راستے پر گامزن پشتونوں کی سربراہی رکن قومی اسمبلی علی وزیر کررہے ہیں جنھوں نے چند روز پہلے اپنے خاندان کے 18 ویں فرد کے جنازے کو کاندھا دیا ہے جسے کے غیر ریاستی عناصر نے گولیاں مار کر قتل کردیا۔
پارلیمانی سیاست کے ناکام ہوتے ہوئے تجربے اور علی وزیر کے فرسٹ کزن عارف وزیر کے حالیہ کے بعد پی ٹی ایم کی قیادت دو راستوں پر نکل پڑی ہے۔ ایک گروہ کو پارلیمنٹ کا راستہ اب بھی مؤثر نظر آ تا ہے تو دوسرے گروہ کو بندوق کی طاقت پارلیمنٹ سے زیادہ موثر معلوم ہوتی ہے۔ پی ٹی ایم میں علی وزیر اور محسن داوڑ کے پڑھے لکھے حامیوں کی اب بھی کوشش ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کو ایک عدم تشدد کے راستے پر ہی گامزن رکھیں مگر عارف وزیر کے قتل کے بعد فلسفہ عدم تشدد کی مخالف آوازیں بھی زور پکڑتی جارہی ہیں۔
گذشتہ چند مہینوں سے پشتون تحفظ مومنٹ کے اندر یہ بحث جاری ہے کہ آخر یہ تحریک کس طرف جا رہی ہے؟ ابھی تک نہ کوئی واضح منشور ہے اور نہ کوئی آئین، جس کا سہارا لے کر پی ٹی ایم کے کارکن اور حامی اس پر چل سکیں اور انہیں معلوم ہوسکے کہ کیا آنے والے دنوں میں انکی تحریک پارلیمانی سیاست کرے گی یا پھر ایک مزاحمتی تحریک کی صورت میں آگے بڑھے گی؟
پشتون تحفظ مومنٹ کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ تحریک کے سربراہ منظور پشتین اب یہ مؤقف ہے کہ پارلیمانی سیاست کا نہ تو پشتونوں کو کوئی فائدہ ہوا ہے اور نہ ہی اس سے ان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب رکن قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ کا مؤقف ہے کہ پارلیمنٹ سب سے زیادہ موثر اور طاقت ور فورم ہے جس کے ذریعے ان کے ساتھ ہونے والی زیاتیوں پر اپنی آواز بہتر اور موثر طریقے سے دنیا تک پہنچائی جاسکتی ہے۔ لیکن منظور پشتین سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ان کے لوگوں کی آواز غیر مؤثر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button