پی ڈی ایم اتحاد انتشار کے خطرات سے دوچار ہو گیا

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم حکومتی اتحاد میں سب اچھا نہیں چل رہا اور اسلام آباد میں ہونے والی سیاسی گرما گرمی آنے والے دنوں میں کوئی بڑا سیاسی طوفان برپا کر سکتی ہے جس سے شہباز حکومت کیلئے مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔ حامد میر نے کہا کہ شہباز شریف حکومت کو اپنی اتحادی جماعتوں کو ساتھ چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے جسکا اظہار وفاقی کابینہ کے اجلاس سے بلوچستان نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کے بائیکاٹ سے بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے تو حکومت چھوڑنے کی دھمکی بھی دے دی ہے۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب چھوٹی جماعتوں کے ارکان اسمبلی اپنے حلقوں میں جاتے ہیں تو عوام ان سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے شہباز حکومت کا حصہ بن کر ہمیں کیا ریلیف دیا ہے اور ہمارے کون سے مسائل حل کروائے ہیں۔ حامد میر کا کہنا تھا اسلام آباد میں سب اچھا نہیں، اگر عمران خان نے خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلی توڑ دی تو اسلام آباد میں بڑا طوفان برپا ہو سکتا ہے، اور چھوٹی اتحادی پارٹیاں بھی شہباز حکومت کا ساتھ چھوڑ کر اسے الیکشن پر مجبور کر سکتی ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی، اور متحدہ قومی موومنٹ بھی مسلسل وفاقی حکومت کے ساتھ اظہار ناراضی کر رہی ہیں۔
سینئر تجزیہ کار کا کہنا تھا اختر مینگل نے اپنی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس کا ایک ہی ایجنڈا ہو گا کہ اب وفاقی حکومت کے ساتھ رہنا ہے یا نہیں۔ یاد رہے کہ اختر مینگل نے لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کا وعدہ پورا کرنے میں ناکامی کے بعد عمران حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور بعد ازاں پی ڈی ایم اتحاد کا حصہ بن گئے تھے۔ لیکن لاپتہ بلوچ افراد کا مسئلہ جوں کا توں کھڑا ہے اور اب وفاقی حکومت نے ریکوڈِک معاہدے پر بھی بلوچوں کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلہ کر لیا ہے جس پر بلوچ ناراض ہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ معاملات مذید خراب ہونے سے پہلے بلوچوں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران کا لانگ مارچ ناکام ہوا اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عمران سارے ضمنی الیکشن جینتے کے باوجود عوام کو ویسے اپنے ساتھ کھڑا نہیں کر پائے جیسا کہ وہ چاہتے تھے، امریکا سازش کے بیانیے سے یوٹرن لینے اور توشہ خانہ کی گھڑی بیچنے پر ان کی مقبولیت کم ضرور ہوئی ہے لیکن عمران ہھر بھی جارحانہ حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں اور حکومت دفاعی پوزیشن میں نظر آ رہی ہے۔ تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ 26 نومبر سے کہہ رہا ہوں کہ عمران کا صوبائی اسملیوں سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ سیاسی لحاظ سے بروقت تھا لیکن اس پر عمل۔درآمد میں تاخیر نے عمران کی ایک اچھی سیاسی موو کا اثر زائل کر دیا ہے، ہماری اطلاعات کے مطابق پرویز الٰہی نے عمران خان سے کہا ہے کہ ہمیں ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے چاہئیں اور مارچ تک اسمبلیوں کو نہیں توڑنا چاہیے، لیکن عمران کا خیال ہے کہ اسمبلیاں اسی مہینے تحلیل کر دینی چاہئیں۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی عمران کے ساتھ جائیں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے۔
