پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد کے خاتمے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا

عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے پی ڈی ایم کو چھوڑنے کے اعلان کے بعد اپوزیشن اتحاد کے باقاعدہ خاتمے کا آغاز ہو گیا ہے۔
اے این پی کے مرکزی رہنماء امیرحیدرہوتی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے توڑنے کی ذمہ داری نواز لیگ پر ڈالتے ہوئے کہا کہ انکی جماعت کو شوکاز نوٹس دینے والوں نے خود اپوزیشن اتحاد کے خاتمے کا آغاز کیا جس کا اے این پی نے اختتام کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں پاکستان پیپلز پارٹی بھی اے این پی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپوزیشن اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر سکتی ہے
نواز لیگ کی جانب سے سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنوانے پر پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو شوکاز نوٹس جاری کیے جانے کے بعد اتحادی جماعتوں کی آپسی جنگ تب آخری مرحلے میں داخل ہو گئی جب پیپلز پارٹی نے بھی نون لیگ کو جوابی چارج شیٹ جاری کردی۔ چنانچہ اب پی ڈی ایم وینٹی لیٹر پر آخری سانسیں لے رہی اور اسکے بچنے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی معنی خیز خاموشی کے دوران نون لیگ اور پیپلزپارٹی میں لفظی جنگ اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور اب لگتا ہے کہ کپتان مخالف اپوزیشن اتحاد ماضی کا قصہ بننے جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو ن لیگ اور جے یو آئی نے شو کاز نوٹس دے کر مکمل طور پر سائیڈ لائن کرنے کی کوشش کی تھی جس کے بعد اب پیپلز پارٹی نے بھی سخت جوابی ردعمل دے دیا ہے۔ ان حالات میں اب اتحاد کے خاتمے کا صرف رسمی اعلان ہونا باقی ہے جس کا نقصان تمام اپوزیشن جماعتوں کو ہوگا۔ خیال رہے کہ 12 مارچ کو سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں پی ڈی ایم اتحاد کے مشترکہ امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کی غیر متوقع شکست کے بعد سے پی ڈی ایم میں توڑ پھوڑ کا جو حیران کن عمل شروع ہوا وہ گیلانی کے اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد اب پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکا ہے۔ پی ڈی ایم قیادت نے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے معاملے پر بلوچستان عوامی پارٹی سے ووٹ لینے کے معاملے پر پی ڈی ایم میں شامل دو جماعتوں پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی کو شوکاز نوٹس جاری کیے اور ان سے سات روز میں جواب طلب کیا۔ خیال رہے کہ یوسف رضا گیلانی حکمراں اتحاد میں شامل بلوچستان عوامی پارٹی کے دو سینٹرز کی مدد سے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بنے تھے۔ اس عمل کو پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں کی جانب سے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ سینیٹ کے انتخابات کے دوران پی ڈی ایم کی جماعتوں میں یہ اتقاق رائے پایا گیا تھا کہ سینٹ کے چیئرمین کے لیے امیدوار پیپلز پارٹی سے، ڈپٹی چیئرمین جمیعت علمائے اسلام سے جبکہ قائد حزب اختلاف مسلم لیگ نواز سے ہو گا۔پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں چیئرمین کا انتخاب ہارنے والے گیلانی کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف نامزد کردیا اور پھر عددی برتری ثابت کرکے ان کا نوٹیفکیشن بھی جاری کروا دیا۔ پیپلزپارٹی کا موقف تھا کہ وہ بینظیر بھٹو کے قتل میں نامزد ملزمان کی وکالت کرنے والے نواز لیگ کے امیدوار اعظم نذیر تارڑ کو سینٹ میں قائد حزب اختلاف نہیں بننے دیں گے۔
جواب میں نواز لیگ نے گیلانی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ماننے سے انکار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی کو پی ڈی ایم کی جانب سے اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کروا دیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نوٹسز پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی بجائے اپوزیشن اتحاد کے جنرل سیکرٹری شاہد خاقان عباسی نے جاری کیے۔ عباسی کا کہنا تھا کہ اظہار وجوہ جاری کرنے کا مقصد ان دونوں جماعتوں کی قیادت سے سینیٹ میں قائد حزب احتلاف کے معاملے پر وضاحت طلب کرنا ہے کہ انھوں نے پی ڈی ایم کے فیصلوں کو کیوں نظر انداز کیا۔ عباسی کے بقول نوٹسز کا جواب موصول ہونے کے بعد یہ معاملہ پی ڈی ایم کے سربراہ اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔ عباسی نے واضح کیا کہ اجلاس میں ان دونوں جماعتوں کی طرف سے جواب ملنے کی صورت میں پی ڈی ایم کے سربراہ کوئی اپنا فیصلہ صادر کریں گے۔
ادھر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے ردعمک دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے شوکاز نوٹس جاری کرنے کا کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں، میں اس نوٹس کو ردی کا کاغذ بھی نہیں سمجھتا۔ ہم پی ڈی ایم کی جانب سے پیپلز پارٹی کو بھیجا گیا شوکاز نوٹس مسترد کرتے ہیں۔ کائرہ کے بقول ہم استعفے دینے پر تیار ہیں، لیکن پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے اجلاسوں میں استعفوں سے پہلے عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوا تھا۔ انہوں نے کہا پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا 26 مختلف نکات پراتفاق ہے، کیا پیپلزپارٹی نے کسی بھی ایک نکتے سے انحراف کیا ہے؟ انکے مطابق بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ریلیاں اور جلسے جلوس ہوں گےاور تحریک عدم اعتماد داخل کی جائے گی۔ لیکن مسئلہ صرف یہ ہے کہ ن لیگ چاہتی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی آپشن چھوڑ کر اسمبلیوں سے فوری استعفے دیئے جائیں جبکہ ہم کہتے ہیں کہ استعفے کی آخری آپشن سے پہلے دیگر اہداف پورے کیے جائیں۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری نے کہا ہے کہ اگر مسلم لیگ نون پی پی پی کے خلاف چارج شیٹ لائے گی تو ہمارے پاس بھی ن لیگ کے لیے چارج شیٹ تیار ہے۔ شازیہ مری نے نون لیگ کے خلاف پیپلزپارٹی کی چارج شیٹ سناتے ہوئے کہا کہ یہ بتایا جائے کہ اپوزیشن اتحاد کی مخصوص جماعتوں کا خفیہ اجلاس کیوں بلایا گیا؟ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ حکومت کے خلاف اتحاد کا نام ہے، اس پلیٹ فارم کو اپوزیشن پارٹیوں کے خلاف استعمال کرنے پر مسلم لیگ نون کو وضاحت دینی ہوگی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر استعفے دینے اتنے ضروری تھے تو ن لیگ ابھی تک اسمبلیوں میں کیوں بیٹھی ہوئی ہے اور استعفے کیوں نہیں دیتی؟ شازیہ مری نے الزام لگایا کہ شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال وزیراعظم بننے کے ئے یہ سارا تماشا کررہے ہیں۔
پیپلزپارٹی کی جانب سے ن لیگ پر جوابی حملوں کا سلسلے آگے بڑھاتے ہوئے پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد نے نواز لیگ اور جے یو آئی کیخلاف باقاعدہ 11 نکاتی چارج شیٹ جاری کر دی ہے۔ منظور نے پی ڈی ایم کے بڑوں سے استفسار کیا کہ انہوں نےپیپلز پارٹی کے ساتھ کیا گیا سینیٹ کا معاہدہ کیوں توڑا۔ لانگ مارچ سے قبل پی ڈی ایم جماعتوں کا اجلاس کیوں نہیں بلایا گیا؟ پنجاب میں لانگ مارچ کی تیاری کیوں نہیں کی گئی حالانکہ لانگ مارچ گوجرانوالہ اور لاہور کے جلسوں سے بڑا ایونٹ تھا۔ منظور نے مسلم لیگ ن پر مک مکا کا الزام عائد کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ن لیگ نے پنجاب سے پیپلز پارٹی کے سینیٹ امیدوار راجہ عظیم الحق منہاس کو انتظار کرا کے پی ٹی آئی کیساتھ مک مکا کس کے کہنے پر کیا؟خیبر پختونخواہ میں ن لیگ نے عباس آ فریدی کو دستبردار کرانے کی بجائے کیوں لڑایا جسکی وجہ سے وہ اور فرحت اللہ بابر دونوں الیکشن ہار گئے۔ انہوں نے پوچھا کہ نون لیگ نے میثاق جمہوریت پر دستخط کے باوجود رانا مقبول کے ذریعے زرداری کی جیل میں زبان کیوں کاٹی اور بے نظیر بھٹو قتل کیس کے مجرموں کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کو سینٹ کا ٹکٹ کیوں دیا۔ چوہدری منظور نے سوال کیا کہ جب مسلم لیگ نون کا بطور اکثریتی جماعت قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہے اور اسی طرح خیبر پختونخوا اور بلوچستان اسمبلی میں جمعیت علماء اسلام ف جبکہ پی ٹی آئی کا سندھ اسمبلی میں سنگل لارجسٹ پارٹی کے طور پر اپوزیشن لیڈر موجود یے تو اس اصول کی بنیاد پر سینیٹ میں پیپلزپارٹی کا اپوزیشن لیڈر کیوں نہیں ہو سکتا، انہون نے سوال کیا کہ صرف پیپلز پارٹی کے لیے اپوزیشن لیڈر کے فارمولے سے کیوں انحراف کیا جا رہا ہے۔ ان حالات میں کپتان مخالف اپوزیشن اتحاد تیزی سے اپنے خاتمے کی طرف گامزن ہے اور اسکے ٹوٹنے کا صرف ایک رسمی اعلان ہونا باقی رہ گیا ہے۔
