پی ڈی ایم نے اپنے حکومت مخالف اہداف کس حد تک حاصل کیے؟

اب جبکہ حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہے، یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ پوزیشن الائنس اپنے اہداف اور مقاصد حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب رہا۔
ایسا پاکستان میں پہلی مرتبہ نہیں کہ کوئی حکومت مخالف اتحاد وجود میں آیا ہو اور پھر بکھر گیا ہو۔ کئی دہائیوں سے یہی سلسلہ ہے جو چلتا چلا آ رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر صرف اس لیے اکٹھی ہوتی ہیں کہ ان کا بنیادی ہدف حکومت وقت ہوتی ہے اور جب حکومت کمزور ہوتی ہے یا گرتی ہے تو پھر ایسا اتحاد ختم ہو جاتا ہے۔
اگر دیانت دارانہ تجزیہ کیا جائے تو پاکستان میں کبھی کوئی سیاسی اتحاد اپنے بنیادی مقصد میں ناکام نہیں رہا۔ جتنے بھی سیاسی اتحاد اب تک وجود میں آئے انہوں نے اپنے اپنے اہداف لازماً حاصل کیے۔ ایسے ہی اتحادوں کے نتیجے میں کبھی حکومتیں گریں اور کبھی ان کی ساکھ بری طرح خراب ہوئی جس کا اثر آئندہ دنوں اور خصوصاً الیکشن کے وقت ضرور دیکھنے میں آیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان اور طاہر القادری کا 2014 میں نواز حکومت کے خلاف اتحاد اور پھر 126 دنوں کا دھرنا تب کی حکومت تو نہ گرا سکا لیکن ایسا بھی نہیں کہ وہ اپنے اہداف پورے کرنے میں مکمل ناکام رہا ہو۔ اسی دھرنے کی وجہ سے تب کی لیگی حکومت سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ پی ٹی آئی کا تعارف عوام کے سامنے آتا چلا گیا، یوں پی ٹی آئی کو آنے والے ادوار میں سیاسی لحاظ سے بہت فائدہ ہوا یہاں تک کہ 2018 کے الیکشن نے اس کو کرسی اقتدار تک پہنچا دیا۔
پی ڈی ایم کی شکل میں بننے والا موجودہ اتحاد بظاہر اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام نظر آ تا ہے، لیکن تجزیہ کیا جائے تو جو اہداف پی ڈی ایم نے طے کیے تھے وہ تمام کے تمام پی ڈی ایم حاصل کر چکی ہے۔ حکومت کی بہت ساری کمزوریاں عوام کی سامنے اجاگر ہو جانا، آرام کے ساتھ فیصلے نہ کرنے دینا، اپنے ہی حکومتی ارکان کو ایک دوسرے سے بدگمان کر دینا، کابینہ کے اندر شکوک و شبہات پیدا کر دینا، حکومت کو اپنے اہم اہداف سے دور کر دینا جیسے ٹارگٹ بہت حد تک پی ڈی ایم نے حاصل کر لیے ہیں۔ پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ عوام کو ایک آواز مل گئی اور موجودہ حکومت کے پیچھے چھپا ہوا اسٹیبلیشمنٹ کا چہرہ نہ صرف بے نقاب ہوا بلکہ چوک چوراہوں میں اس کے خلاف باتیں ہونے لگیں۔
حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان کے دو عزائم ایسے تھے جس کا یقین بہت شدت کے ساتھ دلایا گیا تھا۔ ان میں ایک ہدف مہنگائی کا خاتمہ اور دوسرا بڑا ہدف کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا تھا۔ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے کپتان کا جو سب سے بڑا نعرہ تھا وہ ”میں این آر او نہیں دوں گا“ کا تھا۔ خان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کرپٹ فرد سے نہ تو کوئی سمجھوتا کرے گا اور نہ ہی اسے آخری انجام تک پہنچائے بغیر چین سے بیٹھے گا۔ لہذا عوام کپتان سے نہ صرف ہر قسم کی آس لگائے بیٹھے تھے بلکہ ملک کی دولت لوٹ کر ملک سے باہر لے جانے والوں کو بہر لحاظ سولی پر لٹکا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا اور الٹا کپتان نے انہیں مہنگائی کی سولی پر لٹکا دیا۔
حالیہ سینیٹ الیکشن میں موجودہ حکومت کے 16 ارکان قومی اسمبلی کا فروخت ہو جانا، نہ صرف کپتان کے اس عزم کی نفی ثابت ہوا کہ وہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے گا بلکہ ساتھ ہی ساتھ کسی کو ”این آر او نہیں ملے گا‘‘ کا بھی پھلکا اڑ گیا۔ حکومت کے 16 سے زیادہ ارکان کا فروخت ہو جانا تو بڑا سانحہ تھا ہی لیکن اس سے بڑھ کر 16 ارکان کی حمایت کو کپتان کی جانب سے دوبارہ قبول کر لینا پہلے سانحے سے بھی بڑا تھا۔ ناقدین کے مطابق 16 کرپٹ افراد کو گلے لگا لینے کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ دیگر سیاستدانوں کی طرح عمران خان کا بھی واحد مطمئہ نظر اقتدار سے چمٹے رہنا ہے۔
لہذا پی ڈی ایم کا سب سے بڑا کارنامہ ہی یہ ہوا کہ اس نے حکومت کے دو بڑے نعرے، ”کرپشن کا خاتمہ اور کرپٹ افراد کو این آر او“ نہیں ملے گا، عوام کے سامنے بے نقاب کر دیے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر کئی اہداف ایسے ہیں جن کو پی ڈی ایم نے نہات غیر محسوس طریقے سے حاصل کیا۔ ہر سیاسی اتحاد کا ایک بڑا مقصد حکومتی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہوا کرتا ہے۔ بلاشبہ پی ڈی ایم نے حکومتی ساکھ کو نقصان پہنچایا جس کا ثبوت سات آٹھ ضمنی الیکشن کے نتائج ہیں جس میں پی ٹی آئی کو بری طرح ہزیمت کا سامنا رہا۔ یہی نہیں ہوا بلکہ پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نے اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں اپنی اپنی مقبولیت کو استحکام بخشا جس میں پی پی پی، نون لیگ اور جے یو آئی قابل ذکر ہیں۔
جب سے پی ڈی ایم متحرک ہوئی، دیکھا گیا ہے کہ ادارے بھی حکومتی کمزوریوں کی وجہ سے اپنا پہلے جیسا اعتماد برقرار نہ رکھ سکے اور شاید یہی پی ڈی ایم کا وہ اصل ہدف تھا جس کو کافی حد تک حاصل کر لیا گیا ہے۔
بے شک تازہ ترین صورت حال پی ڈی ایم کے لئے بہت خوش کن نہیں اور پی ڈی ایم سے سیاسی گٹھ جوڑ کرنے والی تمام جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ سخت کشیدگی کا شکار ہیں لیکن وہ حکومت کے اعتماد کی بنیاد میں بے اعتمادی اور بد گمانیوں ایک ایسا خلفشار برپا کرنے میں ضرور کامیاب ہو چکی ہیں جس کے بعد حکومت گرانے کے لئے پی ڈی ایم کی صورت میں مزید اتحاد بنانے کی شاید ہی کوئی ضرورت باقی رہ گئی ہو۔
