پی ڈی ایم نے عمران کو اسمبلیاں کیوں توڑنے دیں؟

ایک جانب پی ٹی آئی اور اس کے اتحادی پنجاب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اسمبلی کی تحلیل کو اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں تو دوسری جانب پی ڈی ایم والے اب یہ دعوی کر رہے ہیں کہ انھوں نے روز روز کی بک بک سے تنگ آ کر فیصلہ کر لیا تھا کہ ٹوٹی ہوئے بازو کو جسم سےعلیحدہ کر دیا جائے لہٰذا عمران کو اسمبلیاں توڑنے کا بلنڈر مارنے پر اکسایا گیا اور مطلوبہ مقصد حاصل کر لیا گیا۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت گرانے کے لیے نو ماہ پہلے تحریک شروع کرنے والے عمران خان نے اپنے مشن میں ناکامی کے بعد بالآخر جھنجھلاہٹ میں اپنی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا بلنڈر مارتے ہوئے 65 فیصد پاکستان سے اپنی حکومتوں کا خاتمہ کر دیا ہے جس کا فائدہ صرف اور صرف پی ڈی ایم کو ہوگا۔
دوسری جانب عمران خان اور ان کی اتحادی قاف لیگ کی قیادت صوبائی حکومتوں کے خاتمے کو اپنی سیاسی کامیابی قرار دے رہی ہے کیونکہ ان کے خیال میں اب وفاقی حکومت ملک بھر میں فوری انتخابات کروانے کے لیے شدید دباؤ کا شکار ہوجائے گی۔ تحریک انصاف والوں کے خیال میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لینا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ جنرل عاصم منیر کی زیر قیادت نئی اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے نئی اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے باز رہنے کی وارننگ کے مثبت نتائج سامنے آئے اور اسی وجہ سے چوہدری پرویز الہی پنجاب اسمبلی میں 186 اراکین کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے کے بعد اچانک تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے بہت سارے پرو اسٹیبلشمنٹ ارکان اسمبلی بظاہر اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہوگئے یا پھر ان کے نزدیک اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی حوالے سے اہمیت اور کشش ختم ہو گئی، حتیٰ کہ وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے دوری اختیار کر لی اور اسمبلی توڑ دی حالانکہ وہ واضح طور پر کہہ چکے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ موجودہ نظام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے اور اسمبلیاں توڑنے کی حمایت نہیں کرتی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے مونس الٰہی نے انکشاف کیا تھا کہ ہم سابق آرمی چیف قمر باجوہ کے کہنے پر پی ڈی ایم کی بجائے عمران خان کی طرف گئے تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادے کی جانب سے عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونا اس لیے حیران کن ہے کہ چوہدری خاندان نے ساری زندگی اسٹبلشمنٹ کی مرضی سے سیاست کی ہے۔ ایسے میں ان خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ ماضی کی اسٹیبلشمنٹ کا فیض حمید دھڑا اب بھی موجودہ اسٹیبلشمنٹ میں اثر و رسوخ رکھتا ہے اور شاید اسی لیے پرویزالٰہی اور مونس الٰہی جیسے سیاسی مہرے آج کی اسٹیبلشمنٹ کی بات سننے کو تیار نہیں۔ اگر یہ تھیسز سچ ہے تو پھر چوہدری پرویز الہی کا اسٹیبلشمنٹ کی کھینچی گئی سرخ لکیر کو مٹانے کا اعلان کرنے والے عمران کے ساتھ کھڑا ہونا زیادہ حیران کن نہیں۔ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کا ساتھ دینے والے ارکان کے نزدیک ان کی کامیابی یا ناکامی سے اب ماضی کے برعکس اسٹیبلشمنٹ کا کوئی تعلق نہیں رہا اور عمران خان کا بیانیہ ہی انکی انتخابی کامیابی کی ضمانت بنے گا۔
تاہم دوسری جانب پی ڈی ایم ذرائع اس تائثر کو سختی سے رد کرتے ہیں کےعمران اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں اور ان کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ ان کی طاقت بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان 2018 میں اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آئے تھے اور اب بھی ان کا اسٹیبلشمنٹ سے یہی جھگڑا ہے کہ انہیں دوبارہ گود اٹھا لیا جائے اور اقتدار دلوایا جائے، انکا کہنا ہے کہ عمران اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے حق میں سیاسی کردار ادا کرے جیسا کہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید ماضی میں کرتے رہے۔
پی ڈی ایم والوں کا کہنا ہے کہ دونوں صوبائی اسمبلیاں توڑ کر دراصل عمران خان نے سیاسی خودکشی کر لی ہے جس کے نتائج چند ہفتوں میں سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی عمران خان کی روز روز کی دھمکیوں اور بلیک میلنگ سے تنگ آ چکی تھی لہذا انہیں اسمبلیاں توڑنے پر اکسایا گیا تاکہ 65 فیصد پاکستان کا قبضہ حاصل کیا جا سکے۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران خان کی لفظی گولہ باری کے دباؤ میں آ کر غیر سیاسی ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کا ادارہ کبھی کسی فرد سے بلیک میل نہیں ہوتا اور خصوصاً ایسے شخص سے جسے اس نے خود تخلیق کیا ہو۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اپنی خالق اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جو سلوک کیا ہے ابھی انہیں اس کی قیمت ادا کرنی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کا خاتمہ ہوتے ہی خان صاحب کی شاہانہ سیکیورٹی اور پروٹوکول کا خاتمہ ہو جائے گا اور وہ بنی گالا کے بعد زمان پارک لاہور میں بھی خود کو غیر محفوظ سمجھنا شروع کر دیں گے۔ ذرائع دعوی کر رہے ہیں کہ پنجاب حکومت کے خاتمے کے بعد نہ صرف چوہدری پرویز الہٰی کے خلاف کرپشن کے الزامات پر کاروائی کا آغاز ہوگا بلکہ عمران کی نااہلی کا فیصلہ بھی آ سکتا ہے۔
فیصلہ ساز حلقوں کا کہنا ہے کہ ابھی تو پراجیکٹ عمران خان لپیٹنے کا عمل شروع ہوا یے جس کی انتہا اگلے دو مہینوں میں دیکھنے کو ملے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران اور ان کی تحریک انصاف کے ساتھ ہر وہ واردات ہوگی جو نواز شریف کو وزارت عظمی سے ہٹانے کے بعد ہوئی تھی۔ ایسے میں عمران نہ تو نااہلی سے بچ پائیں گے اور نہ ہی پارٹی چیئرمین شپ ان کے ہاتھ میں رہے گی۔ نواز شریف کی طرح وہ بھی الیکشن سے پہلے نااہل ہو جائیں گے اور ان کی جماعت ان کے بغیر الیکشن میں اترے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو جس جماعت کو اقتدار سے نکالا جاتا ہے وہ اگلے انتخابات میں کبھی بھی دوبارہ حکومت نہیں بنا پاتی جیسا کہ نواز شریف کی جماعت کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ ایسے میں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ عمران خان نے صوبائی اسمبلیاں توڑ کر اپنے ڈیتھ وارنٹس پر دستخط کئے ہیں۔
