پی ڈی ایم کا 26 مارچ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان


اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) نے 26 مارچ کو ملک بھر سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کردیا۔
اسلام آباد میں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کے سربراہان اورنمائندگان نے شرکت کی، نواز شریف اور آصف علی زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی اور طویل بحث کے نتیجے میں فیصلے کیے گئے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اجلاس میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا فیصلہ کیا گیا ہے اور 26 مارچ کو پورے ملک سے لانگ مارچ کے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات مشترکہ طور پر لڑیں گے اور اس کے لیے مشترکہ حکمت عملی ہوں، آپس میں مقابلہ نہیں کریں گے اور ہمارے امیدوار مشترکہ ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے انتخابات سے متعلق حکومت کی مجوزہ آئنی ترمیم کو پی ڈی ایم نے مسترد کردیا ہے، اپوزیشن انتخابات کے جامع پیکیج پر یقین رکھتی ہے۔
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لگتا یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اپنے اراکین پر اعتماد نہیں ہے اورپی ٹی آئی کی قیادت چند ایسے ناپسندیدہ لوگوں کو سینیٹر بنانا چاہتی ہے جہاں خود ان کے اپنے اراکین ان کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے حوالے سے پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا کہ بجلی، گیس، پیٹرولیم اور اشیائے خورد نوش کی مہنگائی نے عوام کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے ہم عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، مہنگائی کے خاتمے، مہنگائی کے ذمہ دار ناجائز حکمرانوں کے خلاف عام آدمی کے ساتھ کھڑے ہو ان مشکل سے نکالنے کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
صدر پی ڈی ایم نے کہا کہ حکومت کی طرف سے جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں بنائے گئے کمیشن کو پی ڈی ایم مسترد کرتی ہے اور اسے ان کی کرپشن کی پردہ پوشی قرار دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ترقیاتی فنڈز جس انداز سے تقسیم کیے جارہے ہیں، اس پر پی ڈی ایم نے مدنظر رکھا ہے کہ عمران خان خود کہا کرتا تھا کہ اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینا رشوت کے مترادف ہے، آج سپریم کورٹ کے ججوں نے ازخود نوٹس لیا ہے تو فوری طور پر اراکین میں رشوت کے طور فنڈ تقسیم کرنے سے روکا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ 10 فروری کو سرکاری ملازمین اپنا احتجاج لے کر اسلام آباد کی طرف آرہے ہیں، سرکاری ملازمین اور ہر شعبہ زندگی سے وابستہ متاثرین کے احتجاج میں پی ڈی ایم ان کے ساتھ رہے گی اور ہر احتجاج میں ان کی مکمل حمایت اور تائید کرے گی، ہم ان کے ساتھ برابر کھڑے رہیں گے۔ایک سوال پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہماری لڑائی غیر جمہوری افراد سے ہے اورجو بھی اس عمل میں ملوث ہے اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
عدم اعتماد کی تحریک پر انہوں نے کہا کہ یہ پی ڈی ایم کے فورم کی بات ہے اور اگلے اجلاس میں اس پر بحث ہوگی فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات تک اور جب تک ہم ووٹ استعمال کر رہے اس وقت تک استعفوں کا فیصلہ روک رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی جانب سے سب بہتر ہے کا پیغام تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button