پی ڈی ایم کے تمام ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کا مستعفی ہونے کا اعلان

جمعیت علمائے اسلام (ف) اور حکومت مخالف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے تمام اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اسمبلیوں کو 31 دسمبر تک پارٹی قائدین کے پاس استعفے جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اس کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل کے سربراہ نواب اخترمینگل، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی مریم نواز سمیت دیگر قائدین شریک تھے۔اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومت مخالف تحریک پر غور کیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔
سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دیگر قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کی اور اہم فیصلوں سے آگاہ کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 13 دسمبر کو مینار پاکستان پر ہی جلسہ ہوگا اور اگر رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو ملتان سے زیادہ برا حشر ہوگا جبکہ جعلی وزیراعظم نے آج ایسی باتیں کیں جیسے وہ نشے میں بات کہہ رہے ہیں، وہ ڈائیلاگ نہیں بلکہ ہم سے این آر او مانگ رہے ہیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ 31 دسمبر تک تمام پارٹیوں کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان پارٹی قائدین کے پاس استعفے جمع کرادیں۔
236702 7348675 updates
سربراہ اتحاد کا کہنا تھا کہ اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں ملک کے اندر پہیہ جام ہڑتال، شٹر ڈاؤن اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔گرفتاریوں سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے سوچا بھی نہیں کہ گرفتاری کیا چیز ہوتی ہے؟ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو فرق پڑچکا، کرسی کی چولیں ہل چکیں، اب ایک دھکے کی ضرورت ہے۔استعفوں سے متعلق سوال پر سربراہ اتحاد نے حکمران جماعت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے استعفے دیے تو واپس ان کی طرح نہیں چاٹیں گے، تحریک اس پورے سسٹم اور دھاندلی کےخلاف ہے، دھاندلی کرنے والے خود سوچیں کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ اپوزیشن کے درمیان استعفوں کے معاملے پر اختلافات کی اطلاعات کے تناظر میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ’اجلاس سے پہلے کی خبروں کی تردید ہو گئی ہے اور ہم عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔‘مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ’لاہور میں ہر حال میں 13 دسمبر کو جلسہ ہو گا اور اسے روکنے کی کوشش کی گئی تو ملتان سے بھی برا حشر کیا جائے گا۔‘تحریک کے دوران سردی کی لہر کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مولانا کا جواب تھا ’ہماری گرمی ٹمپریچر ٹھیک کر دے گی۔‘
پریس کانفرنس کے اختتام پر صحافیوں نے دیگر رہنماؤں سے سوال کرنے کی کوشش کی تاہم مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے واضح اعلان کیا کہ مولانا صاحب نے جو بات کردی ہے ہم سب کی وہی بات ہے۔
236702 9517419 updates
قبل ازیں مولانا فضل الرحمٰن کی زیر صدارت پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور سابق صدر و پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز سمیت دیگر قائدین بھی اجلاس میں شریک تھے۔
236702 7947129 updates
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے اپوزیشن ارکان کے استعفے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کے پاس جمع کرانے کی تجویز پیش کی۔اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہونے والے پی ڈی ایم رہنماؤں کے اہم اجلاس میں کورونا سے صحت یاب چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک شریک سابق وزیراعظم نواز شریف نے تجویز پیش کی پی ڈی ایم کے تمام ارکان اسمبلی اپنے استعفے مولانا فضل الرحمان کے پاس جمع کرادیں جسے وہ لانگ مارچ کے خاتمے پر اسپیکر کو پیش کر دیں۔ذرائع کاکہنا ہےکہ تمام جماعتوں کی جانب سے نواز شریف کی تجویز کی حمایت کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران مریم نواز نے آصف علی زرداری کو بختاور کی منگنی پر مبارکباد دی، آصف زرداری اور نوازشریف نے اسلام آباد کے موسم کا احوال پو چھا۔
ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے نواز شریف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘کیا میاں صاحب کمرے میں بھی ماسک پہنا ہوا ہے’۔اس پر نواز شریف نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ ماسک فیشن میں پہنا ہے، نوازشریف کے اس جواب پر پی ڈی ایم کے شرکاء کے قہقہوں سے کمرہ گونج اٹھا۔
واضح رہےکہ 20 ستمبر کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ملک گیر احتجاج اور جلسوں کے بعد جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف فیصلہ کن لانگ مارچ کیا جائےگا۔
خیال رہے کہ پی ڈی ایم کے آج کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان استعفیٰ دیں گے یا نہیں؟ اس حوالے سے فیصلہ ہو نے کا امکان ہے اور اس کے علاوہ بھی اہم فیصلے متوقع ہیں، 2 روز قبل لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کاکہنا تھا کہ پی ڈی ایم بڑے فیصلےکرنے جارہی ہے اور 8 دسمبر کے اجلاس کے بعد آر ہوگا یا پار ہوگا۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی نے استعفے قیادت کو بھجوانا شروع کردیے ہیں اور لاہور اور سرگودھا سے ن لیگ کے پانچ ارکان قومی اسمبلی اپنے استعفے پارٹی قیادت کو بھیج چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button