چارجنگ اسٹیشن دیکھ کر خوشی ہوئی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں الیکٹرک وہیکل یا بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے پہلے چارجنگ اسٹیشن کے قیام پر وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو خاصا سراہا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف شعبوں میں کیے گئے اقدامات کو پاکستان کا ترقی کی جانب اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس سے قبل ‘میڈ ان پاکستان’ پراجیکٹ کے تحت وینٹی لیٹرز اور زرعی ڈرونز تیار کیے گئے تھے۔
پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ ساتھ جرمن سفیر برن ہارڈ شلیگ ہیک نے بھی چارجنگ اسٹیشن کے قیام پر وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی کاوشوں کو سراہا ہے۔
اپنی ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ‘پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے فواد چوہدری کی کاوشیں دیکھ کر اچھا لگا۔ الیکٹرک گاڑیاں ماحولیات کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں کیوں کہ وہ CarbonEmissions کو کم کرنے میں معاونت کرتی ہیں۔’
انہوں نے چارجنگ اسٹیشن کی تصویر شیئر کرتے ہوئے مزید لکھا کہ ‘چارجنگ اسٹیشن پر جرمن گاڑی دیکھ کر خوشی ہوئی۔
جرمن سفیر کی اس ٹویٹ پر فواد چوہدری نے جرمن سفیر کا شکریہ ادا کیا۔ سوشل میٖڈیا صارفین جہاں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کے اقدامات کی تعریف کر رہے ہیں وہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو ملک میں بجلی کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی پر تبصرے بھی کرتے نظر آئے۔
صارف توحید نے فواد چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ‘چوہدری صاحب الیکٹرک گاڑی کسی کسی کے پاس ہے۔ پب جی ہر تیسرا بندہ کھیلتا ہے اور ای سپورٹ پاکستان کی ضرورت ہے۔ آپ ٹیکنالوجی کے وزیر ہیں 14 لاکھ ٹویٹس کا کچھ تو جواب دیں۔
