چاہے جان چلی جائے لیکن K2 پر پاکستانی پرچم لہرانا ہے


کے ٹو کو سردیوں کے موسم میں سر کرنے کی کوشش میں لاپتہ ہونے والے علی سد پارہ نے اپنے ایک قریبی دوست کو چند روز پہلے کہا تھا کہ اس مہم میں انہیں پاکستان کا پرچم ہر صورت کے ٹو پر لہرانا ہے چاہے اس میں انکی جان چلی جائے۔
علی سد پارہ کے دوست نثار علی کے بچپن کے دوست اور عزیز بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے لاپتہ دوست کے حوالے سے بتایا کہ ’علی غیرمعمولی صلاحیتوں کے مالک اور طبیعتاً بہت سادہ اور مخلص انسان تھے۔‘ دونوں کی چند روز قبل جو گفتگو ہوئی اُس میں علی نے کہا تھا کہ نیپالی کوہ پیماؤں کی جانب سے کے ٹو سر کرنے کے بعد اب انہیں ہر حال میں وہاں پاکستان کا پرچم لہرانا ہے، یہ اب بہت ضروری ہو گیا ہے۔ علی اس بات کو لے کربہت جذباتی تھے اور ان کے بیٹے ساجد نے بھی اس بات کی تائید کی کہ پہلی کوشش ناکام ہونے کے بعد بابا بہت جذباتی تھے کہ انہیں ہر صورت کے ٹو کی چوٹی سر کرنی ہے۔ علی کے دوست نثار کو یقین ہیں کہ اگر وہ اکیلے ہوتے تو واپس آ چکے ہوتے کیوں کہ وہ بہت سخت جان تھے اور ان پہاڑوں کا تجربہ رکھتے تھے لیکن جس طرح کی ان کی نرم طبیعت تھی وہ اپنے کسی سستھی کو مصیبت میں چھوڑ کر آنے والے انسان نہیں تھے۔
دو فروری، 1976 کو پیدا ہونے والے علی سکردو کے گاؤں سد پارہ کے قابل فخر بیٹے تھے۔ انہوں نےکوہ پیمائی کا آغاز بطور پورٹر کیا۔ پورٹر کوہ پیماؤں کے ساتھ اُن کا سامان لے کر جاتے ہیں، راستہ بھی تلاش کرتے ہیں اور ٹریک پر رسیاں بھی لگاتے ہیں۔ علی نے اپنے ایک انٹرویو میں خود بتایا تھا کہ وہ فارغ وقت میں پہاڑوں پر نکل جاتے تھے اور نئے نئے راستے دریافت کرتے تھے۔ اپنی پہلی نوکری کے بارے میں انہوں نے بتایا تھا کہ نوے کی دہائی میں پاکستان آرمی کی سیاچن پر موجود پوسٹوں پر سامان پہنچانا ان کے ذمے تھا۔ بعد میں انہوں نے باقاعدہ مہم جوئی کا آغاز 2004 میں کیا۔ علی کے مطابق اُن کے گھر والے چاہتے تھے کہ وہ فوج میں بھرتی ہوں یا پولیس کی نوکری کریں تاکہ انہیں گھر مل سکے اور مستقبل محفوظ ہو جائے لیکن انہوں نے پہاڑوں پہ چڑھنے کو ترجیح دی۔
انہوں نے 2006 میں جب گیشر برم پر 8000 میٹر تک چڑھائی کی تو اُن کے پاس کوہ پیمائی کا مخصوص لباس و آلات بھی نہیں تھے بلکہ انہوں نے سکردو کی مارکیٹ سے استعمال شدہ سیکنڈ ہینڈ سامان خرید کر اپنا شوق پورا کیا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ پہاڑ جنون مانگتے ہیں، پہاڑ کو سر کرنےکے لیے آپ کی پہاڑوں کے ساتھ دل لگی ہونی چاہیے۔ وہ سردیوں میں نانگا پربت کی چوٹی سر کرنے والے پہلے پاکستانی کوہ پیما ٹھہرے۔ 2016 میں نانگا پربت پر علی سد پارہ کے ساتھ جانے والے دو غیر ملکی کوہ پیما ایلکس اور سمون نے کہا تھا کہ اگر علی انکے ساتھ نہ ہوتے تو وہ یہ چوٹی کبھی سر نہ کر سکتے۔ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں موجود نانگا پربت دنیا کی نویں بلند چوٹی ہے، جس کی بلندی 8126 میٹر ہے۔ علی کو دنیا کی آٹھ ہزار میٹر سے بلند 14چوٹیوں میں سے چھ چوٹیاں سر کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا جبکہ 2019 میں انہوں نے نیپال کے پہاڑی سلسلے میں موجود 8516 میٹر بلند چوٹی لوسے سر کی تھی۔ انٹرویو میں علی نے اپنی مہم جوئی اور درپیش مسائل بتاتے ہوئے کہا تھا کہ کوہ پیمائی ایک مہنگا شوق ہے لیکن یہ اخراجات ایسے پورے ہوتے ہیں کہ جب غیر ملکی کوہ پیما آتے ہیں تو وہ اپنے سپانسر لے کر آتے ہیں اور سپورٹس کا سامان بنانے والی کمپنیاں ہمیں سپانسر کرتی ہیں اور ہمارا تمام خرچ برداشت کرتی ہیں۔ علی نے کہا تھا کہ اُن کے گھر والے اکثر پریشان رہتے ہیں کہ وہ سردیوں میں کوہ پیمائی نہ کریں، کہیں کوئی حادثہ پیش نہ ہو جائے۔ چنانچہ انہوں نے گھر والوں کو تسلی دینے کے لیے انہیں یہ کہا کہ گرمی میں تو برفانی تودے گرنےکا خدشہ زیادہ ہوتا ہے اس لیے سردیوں کی کوہ پیمائی قدرے محفوظ ہوتی ہے۔
علی کے اہل خانہ کہتے ہیں کہ 2019 میں نیپال مکالو چوٹی سر کرنے کے لیے انہیں پاکستان فوج نے مالی معاونت فراہم کی تھی۔ وہ جب کوہ پیمائی نہیں کرتے تو فارمنگ کرتے تھے۔ علی کا تعلق جس گاؤں سے ہے اُس علاقے کے زیادہ تر افراد پورٹرز کا کام کرتے ہیں۔ وہاں زیادہ ترافراد کا ذریعہ معاش پورٹر سروس مہیا کرنا اور اس کے عوض کمانا ہے۔ وہ اپنے بیٹے ساجد سدپارہ کو کبھی بھی پورٹر نہیں بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ چاہتا ہوں وہ پڑھ لکھ جائے، اس نے شوق کے لیے پہاڑ چڑھنا چاہے تو ضرور چڑھے لیکن اس کام کو ذریعہ معاش نہ بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف اتنا کمانا چاہتے ہیں کہ اُن کے گھر والوں کی بنیافی ضرورتیں پوری ہو جائیں۔
اپنے آخری مشن سے قبل سدپارہ نے ٹریکنگ کے چند اصول بتائے تھے جن کے مطابق پہلے 24 گھنٹوں کے اندر 2400 میٹرز سے زیادہ بلندی پر نہ جایا جائے۔ 2400 میٹر پر پہنچ کر وہیں ایک رات قیام کیا جائے۔ ماحول سے انسیت کے بعد اگلے مرحلے کا سفر شروع کرنا چاہیے۔ بلندی اور کم آکسیجن کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے ساتھ ساتھ جو چیز سب سے زیادہ فائدہ مند ہے وہ جلد اترائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی آکسیجن کم محسوس ہو فوراً نیچے اترنا شروع کر دیں اور تین کلو میٹر نیچے اتر کر چھ گھنٹے آرام کریں تو جسم آب و ہوا کے مطابق ڈھل چکا ہو گا۔ علی سدپارہ کے مطابق اس طریقے سے ٹریکنگ میں وقت لگتا ہے لیکن بغیرآکسیجن سلینڈر کے چڑھائی ممکن ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ موسم گرما میں تو ہر ٹیم بغیر آکسیجن کے کے ٹو پر پہنچتی ہے لیکن مسئلہ موسم سرما کا ہوتا ہے کیونکہ جب منفی درجہ حرارت اور 150 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی ہواؤں سے سامنا ہوتا ہے تو ہوا میں آکسیجن کی مقدار بہت کم ہو جاتی ہے۔ اور شاید اپنے آخری مشن کے دوران علی اور انکے ساتھی شاید اسی آکسیجن کی کمی کا شکار ہوگے۔
دوسری طرف محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے والد کو آخری مرتبہ ’بوٹل نیک‘ سے بلندی پر چڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ ساجد نے کہا کہ انہوں نے اپنے والد اور دیگر دو ساتھیوں کو آخری مرتبہ کے ٹو ’بوٹل نیک‘ سے 8 ہزار دو یا تین سو میٹر کی بلندی پر چڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ ساجد علی نے کہا کہ ان کے خیال میں علی سدپارہ اور دو ساتھی کے ٹو سر کر کے واپس آ رہے تھے کہ راستے میں کسی حادثے کا شکار ہو گئے۔ ایک سوال کے جواب میں ساجد سدپارہ نے کہا کہ 8,000 کی بلندی پر ایک دن سے زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ ساجد علی نے بتایا کہ وہ آخری مشن پر اپنے والد کے ساتھ روانہ ہوئے تھے لیکن پھر آکسیجن سلینڈر میں خرابی کے باعث ان کے والد نے انہیں واپس جانے کا کہہ دیا جبکہ علی سدپارہ اور دیگر دو کوہ پیما آگے بڑھتے رہے۔
ساجد علی سدپارہ نے بتایا کہ آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہونا شروع ہو گئی تھی، اور دماغی حالت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔ ساجد علی کا کہنا تھا کہ 12 بجے دوپپر انہوں نے کے ٹو کی بوٹل نیک یا ڈیتھ ویلی سے واپسی کا سفر شروع کیا تھا اور تقریباً شام پانچ بجے کیمپ سی پر پہنچ گئے تھے۔ لیکن افسوس کہ میرے والد اپنے مشن سے واپس نہیں آ پائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button