چلاس میں سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران ملزمان کی فائرنگ، 5 اہلکار شہید

گلگت بلتستان کے علاقے چلاس میں پولیس اہلکاروں اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے سب انسپکٹر سمیت 5 اہلکار شہید ہوگئے۔
پولیس کنٹرول روم کے مطابق واقعہ ضلع دیامیر کے ہیڈکوارٹر چلاس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر رونئی گاؤں میں پیش آیا۔ 28 جولائی کی رات سوا دو بجے کے قریب پیش آئے واقعے میں پولیس نے اشتہاری ملزمان کی موجودگی کی اطلاع پر ایک گھر پر چھاپہ مارا۔ اس موقع پر پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں سی ٹی ڈی کے سب انسپکٹر سہراب خان سمیت 5 اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوگئے جب کہ 2 دیگر لوگ بھی گولیوں کا نشانہ بن کر زندگی گنوا بیٹھے۔ بعد ازاں واقعے میں زخمی اور شہید ہونے والے اہلکاروں کو مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ چھاپہ اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کےلیے مارا گیا تھا کہ فائرنگ کا تبالہ ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ شہید ہونے والے اہلکار سی ٹی ڈی سے تھے۔
ادھر ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ پولیس نے کارروائی اشتہاریوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی تھی۔ دوسری جانب گلگت بلتستان کے نگراں وزیراعلیٰ میر افضل نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس ڈاکٹر مجیب الرحمٰن سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔ ساتھ ہی انہوں نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات بھی جاری کردیے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اگست 2018 میں گلگت سے 40 کلومیٹر دور گارگاہ نالہ میں جوت کے مقام پر پولیس چوکی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار شہید جب کہ 2 زخمی ہوگئے تھے۔
اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ پولیس گلگت تنویرالحسن نے بتایا تھا کہ فائرنگ کا واقعہ صبح 5 بجے پیش آیا، تاہم پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور ہلاک جب کہ دوسرا زخمی ہوا جس کے بعد دہشت گرد اسلحہ چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔
