چلبلی اداکارہ ماورا آج کل تنقید کی زد میں کیوں؟

اداکارہ ماورا حسین کی جانب سے لڑکیوں کو چھیڑنے کے عمل کو لاہوریوں کی عید کی روٹین قرار دینے اور اس کا برا نہ منانے کا بیان ان کے گلے پڑ گیا ہے اور ماورہ سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔
اداکارہ ماورا حسین اس وقت تنقید کی زد میں آئیں جب ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ سڑک پر لڑکیوں کو چھیڑنے کے عمل کو معمولی بات قرار دیتے ہوئے اسے لڑکوں کا مزہ کہتی ہوئی نظر آئیں۔ جب ماورا کے اس بیان پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے تنقید شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ ان کا یہ بیان تو دو سال پرانا ہے جو کہ انہوں نے اگست 2018 میں ندایاسر کے مارننگ شو گڈ مارننگ پاکستان میں دیا تھا۔ تب ان کی فلم "جوانی پھر نہیں آنی 2” ریلیز ہونے والی تھی اور وہ فلم کی تشہیر کے سلسلے میں دیگر اداکاروں کے ساتھ مارننگ شو میں شریک ہوئی تھیں۔ مارننگ شو میں ماورا کو عید خریداری کے دنوں میں لڑکوں کی جانب سے لڑکیوں کو گھورنے پر دلچسپ ریمارکس دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
پروگرام میں یہ بحث تب شروع ہوئی جب میزبان ندا یاسر نے عید کی خریداری پر بات کرتے ہوئے پہلے مرد اداکاروں سے پوچھا کہ عید شاپنگ کے بہانے وہ مارکیٹوں میں کیوں جاتے ہیں؟ ندا یاسر نے سب سے پہلے اپنے شوہر یاسر حسین سے سوال کیا کہ عید شاپنگ کے دوران لڑکیاں تو چوڑیاں، مہندی اور میک اپ خریدنے جاتی ہیں مگر لڑکے وہاں کیوں جاتے ہیں؟ جس پر یاسر حسین نے کہا کہ ماضی میں لڑکے عید پر خریداری کے بہانے لڑکیوں کو دیکھنے مارکیٹ جاتے تھے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔اداکار کے جواب پر ندا یاسر نے ان سے پوچھا کہ وہ خود کبھی ایسی نیت سے عید شاپنگ کے دوران مارکیٹ گئے ہیں؟ یاسر حسین نے اعتراف کیا کہ وہ ماضی میں ایسی نیت سے مارکیٹ جاتے رہتے تھے۔
مرد اداکاروں کے دلچسپ جوابات کے بعد ندا یاسر نے خواتین اداکاروں سے بھی یہی سوال پوچھا کہ جب وہ عید خریداری پر جاتی تھیں تو انہیں کوئی لڑکا چھیڑتا تھا؟ جس پر اداکارہ سونیا حسین نے سب سے پہلے کہا کہ ایسا تو کئی سال سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اسی سوال کے جواب میں اداکارہ ماورا حسین نے بھی اعتراف کیا کہ عید شاپنگ کے دوران لڑکوں کی جانب سے لڑکیوں کو گھورنا معمول ہوتا ہے۔ لڑکیوں کو چھیڑنا تو لاہور کا فن ہے لڑکے گاڑیوں میں تیز میوزک لگاکرنکل جاتے ہیں روڈ پر شور مچاتے ہیں اور لڑکیوں کو چھیڑتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کے بغیر لاہوریوں کی عید نہیں لگتی۔ انہوں نے ایسے رویوں پر کبھی اعتراض نہیں کیا۔ لہذا ہمیں اس کا برا نہیں ماننا چاہئے۔
ندا یاسر نے کہا اگر آپ کو ابھی بھی کوئی چھیڑے تو آپ کو برا نہیں لگے گا جس پر ماورا نے کہا ہاں کوئی بات نہیں مجھے برا نہیں لگے گا، کیونکہ ان کی بھی تو عید ہے۔ ماورا حسین کے اسی جواب پر نہ صرف پروگرام میں موجود اداکار ہنس پڑے بلکہ پروگرام میں شریک شرکا نے بھی تالیاں بجائیں۔
تاہم سوشل میڈیا صارفین نے ماورا کی اس بات کو بالکل بھی مذاق میں نہیں لیا اور انہیں مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے فنکاروں کو بولنے سے پہلے سوچنا چاہئے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ ماورہ کے ریمارکس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے اداکارہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ انکا کا ایسے بیہودہ عمل کو فن اور عید کا نام دینا افسوسناک ہے۔ ایک ٹوئٹر صارف نے ماورا کی اس بات کا سخت برا مناتے ہوئے کہا آپ نے خود تو کبھی اس ہراسانی کا تجربہ نہیں کیا لیکن باقی لڑکیوں کی طرف سے کہہ دیا کہ لڑکوں کا روڈ پر لڑکیوں کو چھیڑنا فن ہے۔
عمر نامی صارف نے کہا کیا عجیب مسخرے ہیں کتنے آرام سے ایک گھٹیا حرکت کو نارمل بنارہی ہے۔ ایمان نامی صارف نے کہا مطلب کچھ بھی ہو، کیا ماورا یہ کہنا چاہ رہی ہیں کہ ہراسانی فن ہے اور اگر کوئی کسی کو ہراساں کرتا ہے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں اور اسے کس نے یہ بتادیا کہ لاہورئیے لڑکیوں کو چھیڑنے کی وجہ سے مشہور ہے؟
ماہا قریشی نے کہا ماورا حسین کوکسی بھی معاملے کی زیرو سمجھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکوں کا لڑکیوں کو گھورنا اور انہیں چڑھنا ہمارے لیے اینٹرٹینمنٹ نہیں ہے۔ یہ بہت ہی ناگوار اور پریشان کن ہے اور بہت ہی ناقابل قبول ہے۔ یاد رہے کہ شوبز میں ستائیس سالہ ماورا کا کیرئر اگرچہ صرف آٹھ نو سالوں پر محیط ہے، لیکن ان کی کامیابیوں کی فہرست میں کئی ہٹ درامے شامل ہیں۔۔۔ اک تمنا لا حاصل سی، یہاں پیار نہیں ہے، ہلکی سی خلش، میں بشریٰ، کتنی گرہیں باقی ہیں، مریم، حاصل، سمی اور انگن کے نام تو آپ نے بھی سنے ہوں گے۔ ماورا نے ڈیبیو تھیٹر سے کیا تھا، وہ وی جے کی حیثیت سے بھی کام کرتی رہی ہیں اور تو اور بالی ووڈ اور لالی ووڈ میں فلمیں بھی کر چکی ہیں۔ تاہم ماورہ کی دونوں فلمیں صنم تیری قسم اور جوانی پھر نہیں آنی، بلاک بسٹر ہٹ نہیں ہوئیں، اس کے باوجود وہ بالی ووڈ میں کام کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔
