چمن کے مال روڈ پر بم دھماکا، 6 افراد جاں بحق،21 زخمی

صوبہ بلوچستان کے علاقے چمن کے مال روڈ پر دھماکے کے نتیجے میں 6افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق نامعلوم شرپسندوں نے سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکل میں دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔
سیکیورٹی حکام کا بتانا ہے کہ دھماکہ مال روڈ پر ہوا جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 5 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ریسکیو حکام نے دھماکے کی جگہ سے لاشوں اور زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری مال روڈ پہنچ گئی اور علاقے کا محاصرہ کر کے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق دھماکے سے متعدد موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔بعد ازاں چمن دھماکے کا مزید ایک زخمی اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا۔میڈیکل سپرنٹینڈنٹ چمن ڈسٹرکٹ اسپتال ڈاکٹر اختر نے اس بات کی تصدیق کی کہ مال روڈ دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہو گئی ہے۔ڈاکٹر اختر نے بتایا کہ دھماکے میں 21 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 12 کی حالت تشویشناک ہے، شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کر دیا گیاہے۔
اسسٹنٹ کمشنر ذکا اللہ درانی نے کہا کہ دھماکے میں انسداد منشیات کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 5افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔دھماکے کے نتیجے میں قریبی عمارتوں اور دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سمیت دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا۔دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے لیا تھا۔وزیر اعظم عمران خان نے چمن میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔
خیال رہے کہ بلوچستان گزشتہ کچھ عرصے سے بدامنی کا شکار ہے، جس کے پیچھے بیرون دشمنوں کا ہاتھ ہونے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے۔چمن بلوچستان کا حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی سرحدیں افغانستان کے صوبے قندھار سے لگتی ہیں۔گزشتہ ماہ صوبہ بلوچستان کے شہر تربت کے بازار میں دھماکے کے نتیجے میں ایک فرد جاں بحق جبکہ 7 افراد زخمی ہو گئے تھے۔اس سے قبل مئی کے مہینے میں بلوچستان میں ایک بم دھماکے اور عسکریت پسندوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک جونیئر کمیشنڈ افسر سمیت 7 جوان شہید ہوگئے تھے۔اس بارے میں بتایا گیا تھا کہ ضلع بولان میں گاڑی کے قریب آئی ای ڈی پٹھنے سے 6 جوان شہید ہوئے جبکہ ضلع مکران میں عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک جوان نے جام شہادت نوش کیا۔
اپریل کے مہینے میں قلعہ عبداللہ کے علاقے ٹوبہ اچکزئی میں ایک دھماکے کے نیتجے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید اور 2 زخمی ہوگئے تھے۔رواں سال مارچ میں چمن کی لیویز لائن میں موٹر سائیکل بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 7افراد زخمی ہو گئے تھے۔قبل ازیں 18 فروری کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پریس کلب کے قریب احتجاج کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئے تھے۔
