چودھری نثارکی واپسی پر نواز لیگ دو دھڑوں میں تقسیم

نواز شریف کا بیرون ملک قیام طویل ہو جانے کے باعث ن لیگ دوحصوں میں تقسیم ہوتی نظر آتی ہے اور شہباز شریف دھڑے نے سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کو پارٹی میں واپس لانے کے کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ن لیگ کی آپسی دھڑے بندی کے دوران شہباز گروپ وکٹ کی دونوں طرف کھیلنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور ایک بار پھر مسلم لیگ ن کے منخرف رہنما چودھری نثار کی پارٹی میں واپسی کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ن لیگ کے اس دھڑے میں شامل پارٹی رہنما مستقبل کی پارٹی قیادت کے حوالے سے غیر یقینی کے باعث دونوں گھروں سے بنا کر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ دونوں بھائیوں میں سے کسی کے بھی پارٹی کمان سنبھالنے پر وہ محفوظ رہیں۔ پارٹی کی اسی گروپ بندی نے چوہدری نثار کو ایک بار پھر موضوع بحث بنا دیا ہے کیونکہ شہباز شریف دھڑے میں شامل رہنماؤں کی اکثریت چوہدری نثار کو ایک بار پھر پارٹی میں شامل کرانے کے لئے در پردہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ شہباز سمیت انکے دھڑے میں شامل مرکزی لیڈر یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت جماعت میں کوئی ایسا سینئر رہنما نہیں جو پارٹی کو موجودہ بھنور سے نکالنے کے لئے پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکے۔
چودھری نثار کی پارٹی میں دوبارہ شمولیت کے خواہاں لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب تک چوہدری نثار مسلم لیگ (ن) کا حصہ تھے تب تک وہ اپنے خاندانی پس منظر اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قریبی رابطے کے باعث پارٹی اور اس کی قیادت کے لئے معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں پہنچنے دیتے تھے لیکن جیسے ہی فریقین کے درمیان یہ پل ختم ہوا (ن) لیگ اور اس کی قیادت کے دوسرے فریق کے ساتھ اعتماد کا فقدان بتدریج اس نہج پہ پہنچ گیا کہ اب سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں بچا۔ چنانچہ شہباز شریف اور ان کے بیانیے کا حامی (ن) لیگی گروپ کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار کو ایک بار پھر پارٹی میں شامل کر کے ڈور جہاں سے الجھی تھی اسے وہیں سے سلجھانے کی کوشش کی جائے۔
دوسری طرف نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی آشیرباد کا حامل گروپ اس فلسفے پہ یقین نہیں رکھتا کہ سب کچھ گنوانے کے بعد واپس اسی در پہ ماتھا ٹیکا جائے جہاں سے دیس نکالا ملا تھا۔ نوازشریف دھڑے کا خیال ہے کہ وقت آچکا ہے کہ سمجھوتے کی بجائے اصولوں کی سیاست کی جائے اور اپنا منہ مزید کالا کرنے کی بجائے عوام کی طاقت پر یقین رکھا جائے تاکہ وہ انہیں اگلے الیکشن میں کامیاب کریں۔
چوہدری نثار کی پارٹی میں دوبارہ شمولیت کا مخالف (ن) لیگی گروپ چودھری نثار کی جانب سے نواز شریف اور مریم نواز سے روا رکھے گئے رویے، بیگم کلثوم نواز کی رحلت پہ نواز شریف سے تعزیت نہ کرنے اور مشکل وقت میں بھی ان کی خبر گیری نہ کرنے کے باعث کسی طور ان کی پارٹی میں واپسی کے حق میں نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر شہباز شریف گروپ کا مفاہمتی بیانیہ مکمل کام کر رہا ہوتا تو کم از کم ان کے خلاف نت نئے مقدمات قائم نہ کئے جا رہے ہوتے اور زیادہ نہیں تو وہ ایک سال سے قید اپنے بیٹے حمزہ شہباز کو تو رہائی دلانے میں کامیاب ہو ہی جاتے۔
دوسری طرف شہباز شریف اور ان کا مفاہمتی گروپ کامل یقین رکھتا ہے کہ ریاستی ادارے کے ساتھ سیز فائر ہونے کے بعد سے نیب کی طرف سے کی جانے والی حالیہ تمام کارروائیوں کا کھرا وزیراعظم ہاؤس تک جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سیز فائر کی اطلاعات کے بعد سے وزیراعظم خاصے برہم ہیں اور وہ کسی بھی ممکنہ مفاہمت کو ناکام بنانے کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں، یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف کی ہدایت پہ خواجہ برادران کی چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ ملاقات کے بعد نیب نے چوہدری برادران کے بیس سال پرانے مقدمات کی فائلیں دوبارہ کھول دی ہیں۔ تاہم چوہدری برادران نے اپنے خلاف نیب کی اس کارروائی کا الزام براہ راست وزیراعظم ہاؤس پہ عائد کرتے ہوئے اس کے نتائج سے بھی خبردار کر دیا ہے جس کے بعد نیب کو وضاحتیں دینا پڑی ہیں۔حکومت کے اتحادی چوہدری برادران کے نیب پہ سیاسی انجینئرنگ کے الزامات سے یہ بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ نیب نے اپوزیشن کے جن رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمات قائم کئے ہیں ان کا مقصد احتساب نہیں بلکہ کپتان کی فرمائش پر مخصوص مقاصد کا حصول ہے۔
تاہم دوسری طرف تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تاحال مسلم لیگ ن پر نواز شریف اور مریم نواز کی گرفت بدستور قائم ہے اور مستقبل قریب میں چودھری نثار کی پارٹی میں واپسی کی راہیں مسدود دکھائی دیتی ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی چودھری نثار کی پارٹی میں واپسی کی کوششیں کی جا چکی ہیں لیکن نواز شریف نے ان کی پارٹی میں واپسی تو کجا ان سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں چودھری نثار کی واپسی کیلئے کی جانے والی لابنگ کیا رنگ لاتی ہے۔
