چوری شدہ شینجن ویزا اسٹیکرز کا غلط استعمال روکنے کیلئے ایف آئی اے سے رابطہ

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو اسلام آباد میں اطالوی سفارتخانے سے چوری شدہ ایک ہزار شینجن ویزا اسٹیکرز کے غلط استعمال کو روکنے کا کام سونپا گیا ہے۔
اطالوی سفارت خانے نے ویزا اسٹیکرز کی چوری کے بارے میں وزارت خارجہ کو آگاہ کیا ہے جو یورپ کی 26 ریاستوں میں سے کسی میں بھی سفر کی اجازت دیتا ہے۔
وزارت خارجہ نے وزارت داخلہ کو لکھے گئے ایک مراسلے میں کہا ہے کہ ‘اسلام آباد میں اٹلی کے سفارتخانے نے بتایا ہے کہ سفارتخانے کے لاکر روم سے ایک ہزار شینجن ویزا اسٹیکر چوری ہو گئے تھے، ان ویزا اسٹیکرز میں سے 750 ویزا اسٹیکرز کے نمبر ITA041913251 سے ITA041914000 تھے اور 250 ویزا اسٹیکرز کے نمبر ITA041915751 سے ITA041916000 تھے، اطالوی حکام اندرونی تحقیقات کر رہے ہیں۔
وزارت خارجہ نے وزارت داخلہ اور ایف آئی اے سے درخواست کی کہ ‘داخلی اور خارجی راستوں پر ان ویزا اسٹیکرز کا کھوج لگائے اور کسی بھی پیش رفت پر وزارت خارجہ کو اطلاع دی جائے۔
وزارت داخلہ نے معاملہ ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر کو بھیج دیا ہے۔
ایف آئی اے کے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ایف آئی اے کا کردار صرف ہمارے سسٹم میں ان کے نمبر داخل کرکے ان ویزا اسٹیکرز کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ جہاں تک ویزا اسٹیکرز کی چوری کی تحقیقات کا تعلق ہے تو یہ مقامی پولیس اسٹیشن کا دائرہ کار ہے۔
ذرائع کے مطابق ہوائی اڈوں پر نصب ایف آئی اے کا سسٹم چوری شدہ ویزا رکھنے والے کا پتا لگاسکتا ہے۔
ذرائع نے انسانی سمگلروں کے ویزا اسٹیکرز فروخت کرنے کے واقعات میں منظم نیٹ ورک کے ملوث ہونے کو مسترد نہیں کیا۔
ایک نجی بیرون ملک روزگار کی کمپنی میں کام کرنے والے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ ایک اربوں روپے کا گھوٹالہ ہے کیوںکہ شینجن ویزا کی قیمت 20 لاکھ سے شروع ہوتی ہے اور کچھ لوگ اس کے لیے چار لاکھ روپے تک بھی ادا کرنے کو تیار ہو سکتے ہیں۔
ایف آئی اے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہاں منظم گروہ اور لوگوں کے چھوٹے گروپ ہیں جو ہر سال ہزاروں مرد و خواتین اور بچوں کو بیرون ملک اسمگل کرتے ہیں۔
ایف آئی اے ریڈ بک میں 112 کے قریب ‘انتہائی مطلوب اسمگلرز’ کی فہرست دی گئی ہے۔
ریڈ بک میں منشیات فروش، دھوکہ دہی، منی لانڈرنگ، انسانی اسمگلنگ اور اس طرح کی دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث انتہائی مطلوب دہشت گردوں اور مجرموں کے نام ہیں۔
ان مطلوب سمگلروں میں سے زیادہ تر کا تعلق وسطی پنجاب سے ہے جبکہ ان مجرموں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر سے ہے۔
ذرائع نے خدشات کا اظہار کیا کہ اسمگلروں نے ویزا اسٹیکرز کے ذریعہ پہلے ہی متعدد خواہشمندوں کو شینجن ریاستوں میں بھیج دیا ہے۔
اطالوی سفارت خانہ عام طور پر فیڈ ایکس کے ذریعہ ویزا جاری کرتا ہے لیکن کوویڈ 19 کے باعث اس نے ویزا کی سہولت کو ایک سال سے زیادہ عرصے سے بند کردیا ہے۔
دفتر خارجہ نے شکایت موصول ہونے کی تصدیق کی لیکن سفارتخانے کا نام ظاہر نہیں کیا۔
ایف او کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ایک بیان میں کہا کہ ویزا اسٹیکرز کی چوری کا معاملہ وزارت خارجہ کو اسلام آباد میں غیرملکی سفارتی مشن نے بتایا تھا، اس سلسلے میں مناسب کاروائی کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو فوری طور پر معلومات کا تبادلہ کیا گیا ہے۔
