چوہدری سرور گورنر شپ چھوڑنے کا کیوں سوچ رہے ہیں؟


گورنر پنجاب چوہدری سرور کی جانب سے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ انہوں نے ایک مرتبہ پھر سے پنجاب کی گورنری چھوڑنے کا ذہن بنا لیا ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ سیاسی میدان میں اترنے کی خاطر گورنرشپ چھوڑنے کے بعد تحریک انصاف بھی چھوڑ دیں گے یا نہیں؟
یاد رہے کہ چوہدری محمد سرور مسلم لیگ (ن) کے دور میں بھی گورنر پنجاب کے عہدے پر تعینات تھے تاہم 2015 میں انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے طرز حکومت سے اختلاف کرتے ہوئے باقاعدہ ایک چارج شیٹ جاری کر کے گورنر شپ سے استعفیٰ دیدیا تھا جسکے کچھ ماہ بعد انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
ایسا کرتے وقت ان کا خیال تھا کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والی عمران خان کی جماعت واقعی پاکستان میں حقیقی تبدیلی لے کر آئے گی اور انہیں بھی اس مشن میں شامل ہو کر اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ تاہم یہ چوہدری سرور ہی بتا سکتے ہیں کہ تحریک انصاف اپنے پچھلے تین سالہ اقتدار میں اپنے تبدیلی کے ایجندے پر عمل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوئی ہے۔ تین سال کی گورنری کے بعد اب چوہدری سرور نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ میں گورنر ہاؤس میں بیٹھنے کے لیے برطانیہ سے پاکستان نہیں آیا تھا، اور یہ کہ میں آئندہ انتخابات میں حصہ لوں گا۔ انکا کہنا تھا کہ میں پاکستان آرام اور آسائش کی زندگی گزارنے نہیں آیا۔میرا مقصد تھا کہ ہم سب مل جل کر ملک کے غریب عوام کی حالت بہتر کر سکیں۔ پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم کر سکیں۔ میری خواہش تھی پاکستان میں سیاسی جماعتیں ویسے ہی کام کریں اور ویسا ہی کردار ادا کریں جیسا کی یورپ میں ہوتا ہے۔ لیکن اب میں نے پاکستان اور اس کے عوام کی بہتری کی خاطر انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چنانچہ ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری سرور نے گورنر کا عہدہ چھوڑنے کے حوالے سے مشاورت شروع کر دی ہے۔اسکی بنیادی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اگر انہوں نے اگلے انتخابات میں حصہ لینا ہے تو انہیں ابھی سے یہ عہدہ چھوڑنا ہو گا تاکہ وہ دو برس بعد الیکشن لڑنے کے لیے اہل ہو سکیں۔ واضح رہے کہ آئین کے تحت گورنر اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد دو سال پورے ہونے تک انتخابی عمل میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اگر چودھری سرور ابھی مستعفی ہوتے ہیں تو وہ اس آئینی شرط کو پورا کر پائیں گے۔ ذرائع کے مطابق قوی امکان کہ چوہدری محمد سرور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے بیک وقت قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑیں گے کیونکہ وہاں پر ان کی آرائیں برادری کی اکثریت ہے۔ بتایا جا رہا کہ چودھری سرور نے گورنر شپ چھوڑنے کے ارادے سے ابھی تک وزیر اعظم عمران خان کو بالمشافہ اگاہ نہیں کیا لیکن ایسا کرنے سے پہلے وہ اپنے کپتان سے مشورہ کریں گے اور اجازت ملنے کے بعد ہی مستعفی ہونے کا اعلان کریں گے۔
چوہدری سرور کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے گورنر پنجاب کا عہدہ بھی مجبوری میں قبول کیا تھا کیونکہ ان کی بنیادی خواھش عملی سیاست میں حصہ لینے کی تھی۔ تاہم انہوں نے تب یہ عہدہ اس نیت سے قبول کیا تھا کہ وہ بطور گورنر پنجاب عمران خان کے تبدیلی کے ایجنڈے کی تکمیل میں موثر طریقے سے حصہ ڈال پائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہو پایا اور پنجاب میں ایک ایسے شخص کو وزیراعلی لگا دیا گیا جو تبدیلی کا ایجنڈا لے کر آگے چلنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتا یے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار کو وزیر اعلی پنجاب لگانا عمران خان کی ایک ایسی غلطی ہے ہے جو انہیں اگلے الیکشن میں بھگتنا پڑے گی کیونکہ بزدار ایسا چہرہ نہیں بن پایا جو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں اگلے الیکشن میں تحریک انصاف کی کامیابی کی ضمانت دے سکے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر وزارت اعلیٰ کی ذمہ داری چوہدری سرور کو دی جاتی یا انہیں ایک با اختیار گورنر بنایا جاتا تو آج پنجاب میں تحریک انصاف انصاف کے حالات بہت بہتر ہوتے لیکن شاید عمران خان کسی ڈمی شخص کو اس عہدے پر فائز کرنا چاہتے تھے جو اپنا قد کاٹھ نہ نکال سکے اور انکے لیے سیاسی خطرہ نہ بن سکے۔
چوہدری سرور کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ تحریک انصاف حکومت کی گورننس اور پالیسیوں سے مطمئن نہیں اور اکثر وزیراعظم کے سامنے کھل کر اس حوالے سے بات بھی کرتے ہیں۔ تاہم چونکہ کپتان کو تنقید کرنے والے لوگ پسند نہیں لہازا وہ بجائے کہ اسے مثبت انداز میں لے کر معاملات بہتر کرنے کی کوشش کریں، فورا ایسے لوگوں سے شاکی ہو جاتے ہیں۔
ایک اور بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ چوہدری سرور تحریک انصاف کے زیادہ تر رہنماؤں کی طرح خوشامد کرنا اور کروانا پسند نہیں کرتے۔ وہ خوشامد کو ایک مہلک مرض گردانتے ہیں جو حکمرانوں کی آنکھوں پر سب اچھا ہے کی عینک لگا دیتا ہے اور وہ ایک غیر حقیقی دنیا میں جا بستے ہیں۔ اسی وجہ سے سرور آسمانوں میں اڑنے کی بجائے زمین پر رہنا پسند کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ چودھری سرور کو پنجاب میں ق لیگ کی جانب سے بھی ٹف ٹائم دیا گیا لیکن سیاسی مصلحتوں اور اقتدار کی مبجوریوں کی وجہ سے کپتان اینڈ کمپنی نے کھل کر ان کا ساتھ دینے کی بجائے ہمشیہ چوہدری برادران کو رام کرنے کی ہی کوشش کی۔ چوہدری سرور نے عثمان بزدار کی ناکامیوں کے حوالے سے بھی کئی بار مشورے دیئے لیکن انہیں اہمیت نہیں دی گئی حالانکہ انکا مقصد گورننس کے معاملات کو بہتر بنانا تھا۔ چوہدری سرور کا موقف ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی جڑیں کمزور ہیں اور بزدار کے ہوتے ہوئے آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کا حصول خاصا مشکل ہوگا۔ نجی محافل میں چوہدری سرور گلہ کرتے ہیں کہا انہیں پارٹی میں شامل کرتے وقت عمران خان نے جو وعدے کئے تھے وہ محض خواب ہی ثابت ہوئے۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف کی مرکز اور پنجاب میں ناقص پرفارمنس نے بھی چوہدری سرور کی مایوسی میں اضافہ کیا ہے۔
لہذا ان حالات میں اگر وہ گورنرشپ چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو سوال یہ ہوگا کہ کیا وہ جہانگیر ترین کی طرح تحریک انصاف کا حصہ رہتے ہوئے جماعت کے اندر ہی اختلافی سیاست کرنے کو ترجیح دیں گے یا اپنی کوئی سیاسی جماعت بنائیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی بڑی سیاسی جماعت کا حصہ بن جائیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ نواز کو بھی پسند نہیں کرتے اور اسی وجہ سے انہوں نے نواز شریف کے اقتدار کے دنوں میں گورنر پنجاب کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ لیکن ابھی چوہدری سرور نے اپنے تمام کارڈز سینے کے ساتھ لگا رکھے ہیں اور یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ وہ اپنے سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے کیا فیصلہ کریں گے۔
واضح رہے کہ چودھری سرور نے فروری 2015 میں تحریک انصاف میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کی تھی اور اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے پی ٹی آئی ہی باہر نکال سکتی ہے۔ تاہم افسوس کے پی ٹی آئی کے تین سالہ اقتدار کے دوران پاکستان مزید سنگین بحرانوں میں گھر چکا ہے جن پر قابو پانے کی کوئی موثر حکمت عملی بنتی ہوئی نظر نہیں آتی۔

Back to top button