چوہدری نثار علی خان نہ تو گھر کے رہے اور نہ گھاٹ کے

نون لیگی ایم این اے میاں جاوید لطیف کی جانب سے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو تحریک انصاف کے دھرنوں کا سہولت کا قرار دینے کے بعد لگتا ہے کہ چوہدری نثار اب مکمل طور پر فارغ ہوچکے ہیں اور نہ گھر کے رہے ہیں اور نہ ہی گھاٹ کے۔ یعنی اب نہ تو ان کے نون لیگ میں واپس جانے کا کوئی امکان ہے اور نہ ہی تحریک انصاف ان کو اپنی جماعت میں لے گی۔
مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کے قریبی دوست اور سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے خلاف پارٹی کے اندر سے یہ باقاعدہ پہلی آواز اٹھی ہے جس میں ان کو پارٹی کا غدار قرار دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے اہم رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کے اس دعوے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے کہ چوہدری نثار علی خان اگست 2014ء میں شروع ہوئے تحریک انصاف کے دھرنے میں اور اس کے بعد عمران خان سے مسلسل رابطے میں تھے۔ جاوید لطیف نے الزام لگایا کہ چوہدری نثار علی خان جو اس وقت مسلم لیگ نون کی حکومت میں وفاقی وزیر داخلہ تھے، تحریک انصاف کے دھرنے میں سہولت کار کا کردار ادا کررہے تھے جس میں پارلیمنٹ ہائوس، ایوان وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریٹ اورسرکاری ٹی وی کے ہیڈکوارٹر پر دھاوا بولا گیا اور پولیس افسروں کو تشدد کانشانہ بنایا گیا۔
اگرچہ مسلم لیگ نون کے بعض مرکزی رہنماؤں نے جاوید لطیف کے انکشاف کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا ہے اور اس بات سے انکاری ہیں کہ چوہدری نثار علی خان نے نون لیگ کی حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بطور وفاقی وزیر داخلہ اپنے فرائض سے غفلت برتی اور درپردہ تحریک انصاف اور عمران خان کا ساتھ دیا۔ تاہم دوسری جانب مریم نواز کے قریب سمجھے جانے والے نون لیگ کے کئی رہنما جاوید لطیف سے اتفاق کرتے ہیں کہ واقعی چودھری نثار علی خان نے عمران خان سے دوستی نبھاتے ہوئے دھرنے کے دنوں میں تحریک انصاف پر ہتھ ہولا رکھا اور انہیں کھلی چھٹی دی کہ جو ان کے من میں آئے یہ کرتے رہیں۔
خیال رہے کہ چوہدری نثار علی خان فوجی بیک گراؤنڈ کے حامل ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دوسرے دور اقتدار میں جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف لگوانے میں بھی چوہدری نثار کا اہم کردار تھااور جس روز نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا گیا اس روز سیکرٹری دفاع میجر جنرل افتخار علی خاں نے پرویز مشرف کا ساتھ دیا جو کہ چوہدری نثار کے بڑے بھائی تھے۔
2013 میں مسلم لیگ نون کی حکومت قائم ہونے کے کچھ عرصے بعد جب پانامہ سکینڈل آیا تو چوہدری نثار علی خان نے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کی بجائے خاموشی کے ساتھ اقتدار سے الگ ہوجائیں تاہم جب نواز شریف اور مریم نواز نے ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ اپنایا چوہدری نثار علی خان اور نون لیگ میں دوریاں پیدا ہوگئیں۔ چوہدری نثار نے ہی مریم نواز از کو پارٹی لیڈرماننے سے بھی کھلم کھلا انکار کیا جس کی وجہ سے نواز شریف آج دن تک نثار علی خان سے ناراض ہیں۔ تاہم چوہدری نثار بدستور وزیر اعلی پنجاب اور موجودہ صدر مسلم لیگ نون شہباز شریف کے ساتھ رابطے میں رہے تاہم مریم سے متعلق اختلافی باتیں کرنے اور بیگم کلثوم نواز کی وفات پر تعزیت نہ کرنے کی وجہ سے نواز شریف کی چودھری نثار علی خان سے دوریاں ختم نہ ہو سکیں۔ چند مہینے قبل جب نوازشریف علاج کی غرض سے لندن گئے تو چوہدری نثار نے وہاں جاکر نواز شریف سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تاہم بڑے میاں صاحب نے چوہدری نثار کو معاف کرنے اور ان کے ساتھ ملاقات کرنے سے واضح انکار کردیا۔
2018 کے انتخابات میں نثار علی خان نے نہ تو نون لیگ سے ٹکٹ دینے کا تقاضا کیا اور نہ ہی نون لیگ نے ماضی کی طرح پارٹی ٹکٹ پلیٹ میں رکھ کر انہیں پیش کیا جس کے بعد نثار علی خان کو مجبوراََ تین حلقوں سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنا پڑا۔ دو حلقوں میں انہیں تحریک انصاف کے رہنما غلام سروراعوان نے شکست دی تاہم ایک حلقے سے نثار علی خان پنجاب اسمبلی کی سیٹ جیتنے میں کامیاب رہے۔ ایم پی اے منتخب ہونے کے باوجود چوہدری نثار نے دو سال گزرنے کے بعد بھی پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا۔ اس سارے عرصے میں یہ چہ مگوئیاں ہوتی رہی کہ چوہدری نثار کے وزیراعظم عمران خان سے رابطے ہیں اور وہ کسی بھی وقت عثمان بزدار کی جگہ وزیراعلی پنجاب بن سکتے ہیں تاہم غلام سرور اعوان نے وزیراعظم سے واضح طور پر کہہ رکھا ہے کہ اگر چوہدری نثار کو پی ٹی آئی میں شامل کیا گیا تو وہ تحریک انصاف چھوڑ دیں گے۔
میاں جاوید لطیف کے انکشاف اور پارٹی رہنماؤں کی جانب سے نثارعلی خان کو غدار قرار دینے کے بعد اب چوہدری نثار کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔۔ اب نہ تو مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما انہیں پارٹی میں قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی تحریک انصاف میں ان کی کوئی جگہ بنتی نظر آتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاوید لطیف کے دعوے نے چوہدری نثار کی سیاست کے تابوت میں آخری کیل توڑ کر انھیں ہمیشہ کے لیے سیاست چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دوسری جانب جاوید لطیف کے دعوے کے باوجود چوہدری نثار کا تاحال ردعمل سامنے نہیں آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button