چڑھتے سورج کے پجاری مولانا نے باجوہ اور فیض پر چڑھائی کیوں کی؟

عام انتخابات کے حیران کن نتائج کے بعد جہاں بیشتر سیاسی جماعتیں حکومت سازی کی تگ ودو میں مصروف ہیں وہیں، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے ضمن میں ملٹری اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے اقتدار نہ ملنے کے بغض میں جھوٹے دعوؤں اور بیانات کا بازار گرم کر رکھا ہے۔عام انتخابات کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات اور احتجاجی تحاریک کی دھمکیوں کے دوران صدر پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمٰن کے عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد بارے جھوٹے دعوے نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے
خیال رہے کہ مولانا نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران حکومت کے خلاف عدم اعتماد سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے کہنے پر لائی گئی، فوجی قیادت نے اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی ہدایت کی تھی، مولانا فضل الرحمٰن نے یہ ’انکشافاتی بیان‘ ایسے وقت پر دیا ہے جب وہ اپنے سابق سیاسی حریف عمران خان کی جماعت تحریک انصاف سے بظاہر قربت بڑھانے کے عمل کا حصہ بھی ہیں، ان کے اس بیان پر تردیدی رد عمل تو متوقع تھا مگر اس کی نوعیت بڑی معنیٰ خیز بن چکی ہے۔‘مولانا کے اس بیان پر ان کی سابق اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے نہ صرف انھیں جھوٹا قرار دیا بلکہ سابق آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کے قریبی ذرائع کے حوالے سے مولانا کے بیان کی سخت تردید سامنے آئی ہے۔جہاں عمرانڈو مولانا کے اس بیان کو من و عن درست سمجھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو وہیں بعض حضرات نے اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔،
دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق ’مولانا فضل الرحمٰن انتخابات میں جے یو آئی کی شکست پر سیاسی مایوسی کا شکار ہیں۔ کبھی وہ مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہیں کبھی انہی پی ٹی آئی رہنماوں سے ملاقات کرتے ہیں جن سے ہارے ہیں اور جو انھیں فضلو، مولانا ڈیزل اور بکاؤ مال جیسے القابات سے نوازتے رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں مولانا کی ماضی میں سیاست کو مد نظر رکھا جائے تو وہ عدم اعتماد کی تحریک سے متعلق جرنیلوں کی مداخلت بارے بیان بازی سے اپنا سیاسی ریٹ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں شاید اقتدار میں وہ حصہ ملتا دکھائی نہیں دے رہا جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔
سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق ماضی کے سیاسی کردار کو دیکھا جائے تو مولانا فضل الرحمٰن ہمیشہ اقتدار کے ساتھ ہی کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔’چاہے مشرف کا مارشل لا ہو یا اس کے بعد بننے والی حکومتیں ان کا حکومت میں کردار رہا ہے۔ عمران حکومت کے خلاف جس عدم اعتماد کی تحریک میں وہ جنرل باجوہ اور فیض کا کردار بتا رہے ہیں۔ وہ انہیں اڑھائی سال بعد کیوں یاد آیا اور جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا وہ اس وقت پی ڈی ایم کے سربراہ تھے۔ اس کے بعد بننے والی اتحادی حکومت میں بھی مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت کو وزارتیں، گورنر خیبر پختونخوا کے عہدے ملے۔‘سلمان کے بقول، ’اگر مولانا سیاسی طور پر کچھ غلط سمجھ رہے تھے تو اسی وقت اختلاف کر کے علیحدہ ہو سکتے تھے۔ اب وہ اس طرح کی باتیں اس لیے کر رہے ہیں کہ شاید انہیں یقین تھا کہ صدر مملکت سمیت انہیں وفاقی حکومت، کے پی اور بلوچستان حکومت میں مرکزی کردار ملے گا۔ لیکن مایوس کن نتائج کے بعد انہیں یہ خواہش پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔‘انہوں نے مزید کہا کہ’اگر مولانا اس پوزیشن میں ہوتے کہ وہ کسی پر اثر انداز ہوسکتے تو یہ لائن اختیار نہ کرتے۔ وہ ایک ملاقات کا تو ذکر رہے ہیں مگر اس ملاقات کا ذکر نہیں کر رہے جس میں انہوں نے اسلام آباد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔‘
دوسری جانب تجزیہ کار وجاہت مسعود کا کہنا ہے کہ ’ہمارے ملک کے جو مداخلت کار حلقے ہیں وہ منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ سیاستدان بھی تقسیم کا شکار ہیں اور اس صورت حال میں ہر کوئی اپنے پتے پھینک رہا ہے۔ نہلے پر دہلا پھینکنے کا مقصد ایک دوسرے کا کھیل بگاڑنے کی کوشش ہے۔وجاہت کے بقول، ’مولانا کی سیاست ختم ہو رہی ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا عوامی رابطہ کم ہو رہا ہے۔ لہذا ان کی یہ جو سیاسی قلابازیاں ہیں یہ مایوسی کی علامت ہیں تاہم انھیں اس سے انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘
تجزیہ کار سلمان غنی کے بقول، ’پی ٹی آئی اور مولانا کے درمیان انتخابی دھاندلی کے خلاف اتحاد اتنا آسان نہیں ہوگا۔ کیونکہ ماضی میں جس طرح دونوں قائدین ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کرتے رہے ہیں ان پر کارکن سوال ضرور کریں گے۔’اب زمانہ بدل گیا ہے اب کارکن قیادت سے سوال ضرور پوچھتے ہیں۔ مولانا کے حامی یہ نہیں پوچھیں گے کہ عمران خان کو آپ یہودی ایجنٹ کہتے رہے تو وہ ایجنٹ نہیں رہے؟‘سلمان غنی کے مطابق مولانا گیلی جگہ پاؤں نہیں رکھتے۔ وہ صرف اپنا وزن بڑھا رہے ہیں کیونکہ وہ اقتدار میں رہنے کے عادی ہیں، اپوزیشن نہیں کر سکتے۔ انہیں کے پی کی گورنر شپ عزیز ہے، جو انہیں شہباز شریف حکومت میں مل سکتا ہے وہ کہیں اور سے نہیں مل سکتا۔‘مولانا اب بھی وہ توقع نواز شریف سے لگا رہے ہیں کیونکہ ’نواز شریف بھی ان کی طرح زخمی ہیں البتہ وہ مولانا کی طرح بول نہیں سکتے۔‘
وجاہت مسعود کے بقول اول تو پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا اتحاد غیر فطری ہے اس لیے ہونا مشکل ہے۔ دوسرا یہ کہ تحریک انصاف انہیں کبھی خیبر پختونخوا میں شریک اقتدار نہیں کرے گی ورنہ ان کے کارکن متنفر ہوکر کسی اور طرف چلے جائیں گے۔’لہذا مولانا صاحب اپنی سیاسی قیمت بڑھا کر دوبارہ وفاقی حکومت کا ہی حصہ بن جائیں گے۔‘
