چکن منچورین پاکستانی ڈش ہے یا بھارتی؟ فیصلہ نہ ہو سکا

پاکستان اور بھارت کی ثقافت، کلچر میں کئی رنگ مشترک ہیں، یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے لوگوں کے پسندیدہ کھانے بھی ملتے جلتے ہیں، اسی حوالے سے لذیذ ڈش چکن منچورین کے مالکانہ حقوق کی بحث سوشل میڈٰیا پر زور پکڑنے لگی ہے کہ آیا یہ ڈش پاکستانی ہے یا بھارتی۔

اِس ڈِش کے بارے میں ٹوئٹر پر پاکستانی اور انڈین صارفین کے درمیان دلچسپ نوک جھوک دیکھنے میں آ رہی ہے، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ٹوئٹر پر چکن منچورین کے بارے میں کوکنگ آرٹیکل شیئر کیا جس میں اسے پاکستانی ڈِش کہا گیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’یہ پاکستانی چائینز کھانوں کا شہنشاہ، چکن منچورین جنوبی ایشیا میں چینی ریستورانوں پر بہت مقبول ہے، نیویارک ٹائمز کے کوکنگ آرٹیکل میں نامہ نگار زینب شاہ لکھتی ہیں کہ یہ پاکستانی چینی کھانوں کا شہنشاہ، چکن منچورین جنوبی ایشیا میں چینی ریستورانوں پر بہت مقبول ہے۔ یہ ڈش 90 کی دہائی میں پاکستان کے شہر لاہور میں واقع سِن کانگ ریستوران میں کئی مرتبہ بنانے کے بعد سیکھی۔

نیویارک ٹائمز کی نامہ نگار زینب شاہ کی اس ریسیپی اور آرٹیکل کے بعد ٹوئٹر پر نئی بحث نے جنم لیا ہے جس میں انڈین صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چکن منچورین انڈیا کی ایجاد ہے۔

انڈین ویب سائٹ ویون کا کہنا ہے 2017 میں شائع ہونے والی ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق چکن منچورین چینی نژاد انڈین شیف نیلسن وانگ کی ایجاد ہے جو کلکتہ میں پیدا ہوئے اور اُن کے ریستوران ممبئی میں ہیں۔ نیلسن وانگ ممبئی کے کرکٹ کلب آف انڈیا (سی سی آئی) میں شیف تھے۔ انہوں نے چائنہ گارڈن میں 1983 میں اپنا ریستوران کھولا اور اب اُن کے یہ ریستوران انڈیا اور نیپال بھر میں ہیں۔

اسی سلسلے میں نیمو اپنی ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ معافی چاہتا ہوں۔ چکن منچورین کو نیلسن وانگ نے 1975 میں ایجاد کیا تھا، نیانیکا نے نیویارک ٹائمز کی تصیح کرتے ہوئے لکھا کہ یہ انڈین چینی شیف نیلسن وانگ کی ایجاد ہے۔ وہ کلکتہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے ریستوران ممبئی میں ہیں، یہ انڈین چینی کھانا ہے۔

ڈاکٹر بیٹ مین نے تنقیدی انداز میں کہا کہ ’نیو یارک ٹائمز؟ یہ تو کراچی ٹائمز زیادہ لگ رہا ہے۔ یہ ڈِش کلکتہ کی ایجاد ہے، آخری مرتبہ جب میں نے دیکھا تھا تو وہ انڈیا میں تھا۔ اشوک سوائن اپنی ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ مجھے پتا ہے کہ پاکستان اور چین دوست ہیں لیکن چکن منچورین انڈین ہے۔

ڈاکٹر عائشہ رے نے تبصرہ کیا کہ ’نیو یارک ٹائمز یہ غلط ہے چکن منچورین انڈیا کی ایجاد ہے جو شمال مشرقی، مشرقی اور انڈیا کے کچھ شمالی حصوں میں انڈیا اور چینی کھانوں کا ملاپ ہے، کلکتہ میں یہ بہت خاص سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہاں چینی تارکینِ وطن لوگوں کی آبادی بہت ہے۔

کاویری نے دلچسپ انداز میں ٹویٹ کی کہ یہ ایک جھوٹ ہے، ہمیشہ کی طرح پاکستان اس چیز کو اپنا کہہ رہا ہے جو انڈیا کی ہے۔ چین اور امریکہ غیر ضروری طور پر شامل ہیں۔ میں جنگ کا اعلان کر رہی ہوں۔

سونیا سنگھ نے اس بارے میں بات کی کہ انڈیا اور پاکستان کو آج جس موضوع نے بھڑکایا ہے وہ ہے چکن منچورین۔انڈین صارفین کے جواب میں پاکستانی صارفین کے بھی دلچسپ تبصرے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

مریم کہتی ہیں کہ انڈین اس سادہ سی ٹویٹ پر آگ بگولا ہو رہے ہیں کیونکہ اُنہیں آکسفورڈ کوما کی سمجھ نہیں آ رہی، یہ پاکستانی چینی کھانوں کا شہنشاہ، چکن منچورین، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پاکستان نے چکن منچورین کو ایجاد کیا۔ یہ صرف وہ منفرد رشتہ ہے جو ہمارے درمیان ہے۔

کشف مزاحیہ انداز میں لکھتی ہیں کہ ’آپ کو یقین نہیں آئے گا لیکن پڑوسی اس پر بھی رو رہے ہیں، دانیال کہتے ہیں کہ لوگ چکن منچورین پر لڑ رہے ہیں۔ اس کا ذائقہ تو عام سا ہے۔

 پاکستانی صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ لاہور سے ایجاد ہوئی مگر انڈین ہیں کہ مان نہیں رہے، اسے دیکھ کر ہمیں تو ڈر ہے کہیں واقعی ایک چینی ڈش کو لےکر دونوں ملکوں میں جنگ ہی نہ چھڑ جائے۔

ایک انڈین صارف کہتے ہیں کہ ’ہمارا کھانا ہماری زندگی میں سب سے اہم چیز ہے، ہمیں اپنے کھانے پر بہت فخر ہے، ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ چکن منچورین انڈیا میں ایجاد ہوئی یا پاکستان میں البتہ دونوں ملکوں کے صارفین کی لڑائی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف لکھتی ہیں کہ نیویارک ٹائمز نے آگ ایسی لگائی کہ مزا آ گیا۔

Back to top button