چیئرمین نیب کی گندم اور چینی سکینڈل کی تحقیقات کی منظوری

چیئرمین نیب جسٹس (ر ) جاوید اقبال نے گندم اور چینی اسکینڈل کی تحقیقات کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد نیب نے گندم،چینی کی مبینہ اسمگلنگ اور سبسڈی کی جامع تحقیقات کا فیصلہ کرلیا ہے۔
چیئرمین نیب جسٹس (ر ) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا، جس میں چیئرمین نیب نے گندم اور چینی اسکینڈل کی تحقیقات کی منظوری دیتے ہوئے گندم، چینی کی مبینہ اسمگلنگ،سبسڈی کی بھی جامع تحقیقات کی ہدایات جاری کر دی ہیں.
نیب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں گندم اور چینی پرائم میگا اسکینڈل کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیاہےکہ گندم چینی میگا اسکینڈل کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات ہوں گی، اسکینڈل میں اربوں روپے کی ڈکیتی اور قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات ہوں گی، گندم چینی اسکینڈل میں اسمگلنگ اور سبسڈی کی بھی تحقیقات ہوں گی۔
چیئرمین نیب نے پی ایس اومیں میگاکرپشن کی انکوائری کی منظوری اور سابق اےجی ملک قیوم کیخلاف عدم شواہدکی بنیادپرانکوائری بند کرنے کی منظوری بھی دی جبکہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی انتظامیہ کیخلاف شکایت کی جانچ پڑتال کی منظوری دی گئی۔نیب اعلامیے میں کہا گیا کہ نیب نے2 سال میں610 بدعنوانی کے ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کئے اور اس دوران 178ارب روپے بد عنوان عناصر سے برآمد کرائے گئے۔
یاد رہے کہ قبل ازیں نیب حکام کی طرف سے آٹا چینی اسکینڈل پر کارروائی کا فیصلہ کر تے ہوئے کہا گیا تھا کہ آٹا چینی بحران پرائم میگا اسکینڈل ہے، اربوں روپے کی اس ڈکیتی پر نیب خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کر سکتا۔نیب ذرائع کے مطابق آٹا چینی اسکینڈل پر قانونی پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، نیب نے آٹا، چینی اسکینڈل پر آزادانہ اور قانون کے مطابق کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر آٹے اور چینی بحران کی انکوائری رپورٹ جاری کی جا چکی ہے، رپورٹ ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا نے تیار کی، اس رپورٹ میں جہانگیر ترین، مونس الہی اور خسرو بختیار کے رشتے دار کے نام سمیت کئی نامور سیاسی خاندانوں کے نام شامل ہیں. وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ 25 اپریل کو کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے پر مزید ایکشن ہوگا، کمیشن کی رپورٹ کے بعد جو بھی ملوث ہوا قانون کے تحت اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ تاہم کچھ روز قبل وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ 25 اپریل کو آٹے اور چینی سکینڈل کی رپورٹ آنے کا کوئی امکان نہیں رپورٹ 10 سے 15 دن کیلئے تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے.
واضح رہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں قومی اقتصادی کمیٹی نے ملک میں چینی کی اضافی پیداوار کے بعد شوگر ملز مالکان کو 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ قومی اقتصادی کمیٹی کے اس فیصلے کی توثیق وفاقی کابینہ نے دی تھی۔ ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیشن نے چینی اور آٹے کے بحران سے متعلق اپنی رپورٹ کو گذشتہ ہفتے حکومت کو بھجوا دی تھی تاہم حکومت نے اس معاملے کا فرانزک آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا جس کی حتمی رپورٹ 25 اپریل تک متوقع ہے۔ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیرون ممالک چینی برآمد کرنے کی مد میں پنجاب حکومت کی طرف سے شوگر ملز مالکان کو جو تین ارب روپے کی سبسڈی دی گئی تھی اس میں زیادہ فائدہ پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اُٹھایا ہے۔جہانگیر ترین چھ شوگر ملز کے مالک ہیں اور رپورٹ کے مطابق اُنھوں نے سبسڈی کی مد میں 56 کروڑ روپے لیے تھے۔اس کے علاوہ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک وفاقی وزیر خسرو بختیار کی شوگر مل کو بھی 35 کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی۔ اس سب کے باوجود چینی باہر چلی گئی اور ملک میں اسکی قلت پیدا ہو گئی۔ نتیجے میں اسکی قیمت بڑھی اور یہ 55 روپے سے 80 روپے کلو گرام ہو گئی۔ یوں شوگر مافیا نے 87 ارب روپے کما لیے۔ یاد رہے کہ جہانگیر ترین کے پاس مارکیٹ کا 20 فیصد اور خسرو بختیار کے پاس 15 فیصد شیئر ہے لہٰذا 87 ارب کا 35 فیصد ان دونوں کی جیب میں چلا گیا اور باقی حصہ ان کے دوستوں اور دوسرے سیاست دانوں کی جیب میں جا گرا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button