سپریم کورٹ کا نیب چیئرمین کے تقرریوں کے اختیارات کا نوٹس

سپریم کورٹ نے چیئرمین قومی احتساب بیورو نیب کے تعیناتیوں کے اختیار پر ازخود نوٹس لے لیا اور اٹارنی جنرل فار پاکستان کو بھی عدالت کی معانت کے لیے نوٹس جاری کردیا۔
جعلی نیب افسر ضمانت کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کی تھی۔سماعت کے تحریری حکم نامے میں عدالت نے رجسٹرار آفس کو ازخود نوٹس الگ سے سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی۔تفصیلی حکمنامے میں عدالت نے خود کو ڈی جی نیب عرفان منگی ظاہر کرنے والے ملزم ندیم احمد کی ضمانت منظور کرلی۔
ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ کیس کے سلسلے میں اٹھائے گئے سوال کہ ڈائریکٹر جنرل نیب کس اختیار کے تحت کام کررہے ہیں؟ عدالت کو بتایا گیا کہ انہیں چیئرمین نیب نے قومی احتساب آرڈیننس این اے او 1999 کی دفعہ 28 (جی) میں دیا گیا اختیار استعمال کرتے ہوئے تعینات کیا۔
دفعہ 28 کہتی ہے کہ ’اس کے برخلاف کسی بھی چیز کے باوجود یا کوئی بھی قانون جو اس وقت نافذ ہو چیئرمین نیب کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے مشورہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی‘۔ شق کے مطابق’ یہ تعیناتیاں کرنے اور تعینات کیے جانے والے اشخاص کی قابلیت سے متعلق معاملات اور ان بھرتیوں کا طریقہ کار، تعیناتیوں کی اہلیت اور بھرتی کا عمل ایسا ہونا چاہیے جیسا قواعد میں بتایا جائے‘۔عدالت نے کہا کہ نیب آرڈیننس کی اس شق کے مطابق بادی النظر میں یہ اختیارات این اے او 1999 کے تحت استعمال کیے جاسکتے ہیں اور اس کے لیے چیئرمین نیب کو قواعد بنانے کی ضرورت ہوگی۔تاہم عدالت کو بتایا گیا کہ آج تک اس قسم کے قواعد تشکیل نہیں دیے گئے۔
چنانچہ آئندہ سماعت پر پراسیکیوٹر جنرل کو عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا کہ کیا ذیلی قانون سازی کے تحت تعیناتیاں کرنے کے لیے آئین کی دفعہ 242 اور 240 کو بالائے طاق رکھا جاسکتا ہے؟عدالت نے حکم دیا کہ اس قسم کے اختیارات کے استعمال سے متعلق از خود نوٹس تیار کرنے اور اسے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیتی ہے۔مزید برآں اس نکتے کے لیے آئین اور قانون کی تشریح درکار ہے لہٰذا اٹارنی جنرل فار پاکستان کو عدالت کی معاونت کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کو سپریم کورٹ میں نیب افسران کے نام پر پیسے لینے والے ملزم محمد ندیم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی تھی۔ سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ مارشل لا میں قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ مارشل لا سے بہتر ہے دوبارہ انگریزوں کو حکومت دے دی جائے۔ بار بار مواقع دیے مگر نیب کے غیر قانونی کام جاری ہیں۔ نیب افسران کی نااہلی کی وجہ سے لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔اس موقع پر تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم نے نیب کے ڈی جی عرفان منگی بن کر مختلف افسران اور اہم شخصیات بن کر کالیں کیں۔ ملزم کے خلاف نیب کی جانب سے مقدمہ درج کروایا گیا جب کہ فرانزک کی ابھی تک رپورٹ نہیں آئی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ محمد ندیم مڈل پاس ہیں ،بہاولپور سے وہ کیسے نیب افسر بن کر کال کرتے تھے۔ ملزم نے پی ایس او کے مینیجنگ ڈائریکٹر کو ڈی جی نیب بن کر کال کی۔ تفتیش کے مطابق ملزم کے پاس صرف ایک بھینس ہے۔ ملزم کے پاس بڑے بڑے افسران کے موبائل نمبرز کیسے آگئے۔نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ ایم ڈی پی ایس او سمیت 22 افراد کی مختلف شکایات ملیں۔ ایم ڈی پی ایس او نے ڈی جی نیب عرفان منگی سے رابطہ کیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت میں موجود نیب کے ڈی جی عرفان منگی سے پوچھا کہ ‘آپ کی تعلیم اور تنخواہ کیا ہے اور کیا آپ فوجداری معاملات کا تجربہ رکھتے ہیں۔’ جس پر عرفان منگی نے کہا کہ ‘میں انجینیئر ہوں اور میری تنخواہ چار لاکھ 20 ہزار روپے ہے۔ مجھے فوجداری مقدمات کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔’
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک انجینئر نیب کے اتنے بڑے عہدے پر کیسے بیٹھا ہوا ہے اور نیب کیسے کام کررہا ہے۔ ‘چیئرمین نیب کس قانون کے تحت بھرتیاں کرتے ہیں، چیئرمین نیب اب جج نہیں، انہیں ہم عدالت بلا سکتے ہیں۔ ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ عرفان منگی کس کی سفارش پر نیب میں گھس آئے؟’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا کہ نیب عوام کے پیسے سے چلتا ہے سب عوام کے نوکر ہیں۔ ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ہر بندہ کرسی پر بیٹھ کر اپنا ایجنڈا چلا رہا ہے نیب جس معاملے میں چاہتا ہے گھس جاتا ہے۔پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ ہم اپنا کام قانون کے مطابق کرتے ہیں۔ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لگتا ہے ہمیں نیب کے لیے قانون کی کلاسز لگانا پڑیں گی۔ نیب کے 1999 سے اب تک کوئی رولز اینڈ ریگولیشنز بنائے ہی نہیں گئے قواعد نہ بنانے پر نیب کے اپنے خلاف ریفرنس بنتا ہے۔
جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ ‘ہم سب ریاست کے ملازم ہیں۔ ہم سب نے مل کر قانون کی عملداری میں حائل قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے جب کہ قانون کا وقار بحال کیے بغیر قانون کی عملداری قائم نہیں ہو سکتی۔’
عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے نیب کے تمام ڈی جیز کی تقرریوں سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم محمد ندیم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی تھی۔
